پاکستان اور بھارت آج بھی ترقی پذیر کیوں؟

پاکستان اور بھارت کو انگریز سے آزاد ہوئے 74 برس بیت گئے، مگر آج بھی دونوں ملک آزادی کے دور سے پیدا ہونے والی سیاسی و سماجی بیماریوں سے آزاد نہیں ہو سکے۔

آزادی کے نام پر جشن منانا ایک محب وطن کی نشانی ہے۔ لیکن آزادی کی بنیادوں کو خون سینچنے والی قربانیوں کو فراموش کر دینا زیادتی ہے۔ آزادی کی گونج نے مل جل کر رہنے والی مختلف قوموں اور مذاہب کو ایسی آگ میں جھونکا جس کا حوالہ دیتے تاریخ بھی کانپ اٹھتی ہے۔ وکی پیڈیا پر موجود ایک اندازے کے مطابق تقسیم کے وقت بیس ملین افراد کو ہجرت کرنا پڑی۔ دو ملین انسان لقمہ اجل بن گئے۔ ایک لاکھ عورتوں کو اغوا کر کے، ان کی عصمت ریزی کی گئی۔

ہمارے آبا و اجداد کے لئے یہ آزادی ایک بھیانک خواب کی تعبیر جیسی تھی۔ جس میں تلواروں کی نوک پر جھومتے نہتوں کے وجود تھے۔ اتنی اذیتوں کے بعد یہ آزادی نصیب ہوئی۔ اس تقسیم کے دور کی لگی نفرت کی آگ آج بھی سلگ رہی ہے۔ مگر افسوس کے ہمیں ان وجوہات اور حقوق سے آج بھی محروم رکھا جا رہا ہے جو آزادی کی بنیاد تھیں۔ ہم انگریز کے تسلط سے تو آزاد ہو گئے۔ مگر آج بھی ایسے بہت سے عوامل نے ہمیں جکڑ رکھا ہے، جن سے نجات حاصل کر کے ہی ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔

نفرت: ہم نے تقسیم کے وقت ہونے والے فساد ات سے کچھ نہیں سیکھا۔ آبا و اجداد کی قربانیوں کو بھی فراموش کر دیا ہے۔ ہم آزادی کے نظریے کو بھی بھول چکے ہیں۔ آزادی اس لئے حاصل کی گئی تھی کہ دو مختلف نظریات کی قومیں اپنے مطابق اچھی زندگی بسر کر سکیں۔ دونوں ملکوں میں آج بھی نفرت کے بیج کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ نفرت کو پروان چڑھانے کے لئے کروڑوں روپوں کی فلمیں بنتی ہیں۔ اگر ہم نے نفرت کے یہ تنا ور درخت نہ کاٹے تو ہم تاریخ کے ایسے تلخ موڑ پر پھنس جائیں گے جہاں سے نکلنے کے لئے ہماری سلامتی شاید قائم نہیں رہ پائے گی۔

مذہبی انتہا پسندی اور اقلیتوں کو لاحق خطرات: آج دونوں اطراف مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔ خاص کر بھارت میں اقلیتوں کو ناسور سمجھا جاتا ہے۔ اقلیتوں کو ان کے نظریات کے مطابق زندگی بسر کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔ آج بھی دونوں ممالک میں بہت سی تنظیمیں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہیں۔ جس کے باعث سماج کا توازن الجھ چکا ہے، اور بہت سی سماجی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی سے چھٹکارا ہی دونوں ملکوں کو ترقی یافتہ بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

سیاسی مفادات اور اقربا پروری: سیاسی مفادات کی انتہا کا عالم یہ ہے کہ ہمارے معزز لیڈران اقتدار کے لئے نفرت کو پروان چڑھاتے ہیں اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے خلاف بیانیے کو پروان چڑھانا جیسے ہر انتخابی مہم کا حصہ بن چکا ہے۔ دونوں اطراف چند اشرافیہ نسل در نسل ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن کر بیٹھے ہیں اور اپنی اپنی باری پر اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ اقرباء پروری اور مفادات کے اس رواج کا خاتمہ ہی ہمیں ترقی کی بلندیوں تک پہنچا نے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی مداخلت: دیکھنے میں تو ہم انگریز کے تسلط سے آزاد ہو گئے تھے مگر دنیا کی بڑی طاقتوں کی قید آج بھی ہمارے اوپر منڈلا رہی ہے۔ ان طاقتوں نے دونوں ملکوں کو خطے کی سیاست میں ایسا الجھا رکھا ہے کہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے کی بجائے ایک دوسرے کی جڑیں کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔

انصاف کی عدم فراہمی: انصاف کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی جزو ہے۔ اور دونوں ممالک اس جزو سے محروم ہیں۔ ہمارے ہاں انصاف محض اشرافیہ کے تحفظ کے لئے ہے۔ غرباء کے لئے انصاف کا حصول قریب نا ممکنات میں سے ہے۔ جب تک برابری کی سطح پر انصاف کا حصول ممکن نہیں ہو سکتا تب تک دونوں ممالک میں ترقی کی رفتار بھی سست روی کا شکار رہے گی۔

عدم برداشت: برداشت کے فقدان نے معاشرتی رویوں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ معاشرے میں برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ صبر اور صلہ رحمی کم ہو رہی ہے۔ تحمل کی بجائے تناؤ اور گالم گلوچ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ خونی رشتوں کا لحاظ ختم ہو رہا ہے۔ عدم برداشت کو فروغ دینے میں ہمارا منفی رویہ اور میڈیا پر منفی پراپیگنڈہ کردار ادا کر رہا ہے۔ دونوں ممالک میں عدم برداشت کی فضا نے معاشرت کو ختم کر دیا ہے اور لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔ ایسے میں کسی بھی قوم کے لئے ترقی کی راہ پر گامزن ہونا انتہائی کٹھن ہے۔

جانبدار میڈیا اور سوشل میڈیا کی غیر مصدقہ جعلی خبریں : مخالفین پر برسنا، چیخ چیخ کر خبر دینا، خبروں کو غلط رنگ دینا اور مخالفین پر برسنا دونوں اطراف ایسے ہی میڈیا کو فروغ دیا جا رہا ہے جو اپنے مخالفین پر نفرت کے تیر برسا کر داد وصول کر سکے۔ جسے دیکھیں اپنے دفاع کے لئے چینل کھڑا کر لیتا ہے۔ میڈیا محض طاقتور کا ہتھیار بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا کو کردار کشی اور جعلی خبروں کو فروغ دینے کے لئے استعمال کرنا تو جیسے معمول بن گیا ہے۔ میڈیا کا یہ غلط اور صحافت کے اصولوں سے مبراء استعمال دونوں ممالک کو وقتی تڑکے والی لوریاں تو سنا سکتا ہے۔ مگر ترقی کی راہیں طے کرنے میں اس کا کوئی کردار نہیں۔

کردار کشی اور رازداری کے حقوق کا سلب ہونا: دونوں ممالک میں ایسا گھٹن زدہ معاشرہ تشکیل پا رہا ہے جس میں شرفاء کے لئے سانس لینا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ کردار کشی کر کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنانے کا رواج عام ہے۔ کسی کی ذاتی زندگی کی رازداری محفوظ نہیں۔ لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ معاشرتی برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ معاشرے کو ایسے گھٹن زدہ ماحول سے آزادی چاہیے۔ اور ایسا معاشرہ چاہیے جہاں لوگ سکھ کا سانس لے سکیں اور ملک ترقی کی راہوں پر چلنے لگیں۔

سائنس میں عدم دلچسپی: سائنس کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ لوگ ویکسین لگوانے کی بجائے گائے کے پیشاب میں کورونا کا علاج ڈھونڈ رہے ہیں۔ دم سے کورونا کو بھگا رہے ہیں۔ گندے تالابوں میں نہلا کر بیماریوں سے پاک کیا جا رہا ہے۔ انسانوں کی جانوروں سے شادیاں کرائی جا رہی ہیں۔ ایسی بہت سی دیگر توہمات آج بھی موجود ہیں۔ دونوں ممالک میں سائنس کی وزارتوں کا کام محض تنخواہ اور پروٹوکول کا حصول ہی ہے۔ آج دونوں ممالک میں لاکھوں انجینئرز بے روزگار ہیں۔ بلکہ دونوں طرف انجینئرنگ کی ڈگری لینا بے روزگاری کو حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ ہمارے ڈاکٹرز اور انجینئرز دوسرے ممالک میں جا کر بسنے پر مجبور ہیں۔ ایسا دور جس میں ٹیکنالوجی کا حصول لازم ہو وہاں سائنس سے بیزاری دونوں ملکوں کو ترقی پذیر ہی رکھ سکتی ہے۔

کنٹرول شدہ تعلیمی نصاب اور تاریخ میں رد و بدل: پوری دنیا میں یہ دو ملک ایسے ہیں، جہاں تاریخ میں ردو بدل کر کے اس کو اپنے مطابق لکھنے کا خاصہ رجحان ہے۔ مغرب والوں نے اپنی تاریخ کو چھپائے بغیر اسے اپنی نسلوں تک منتقل کیا اور اس سے سبق سیکھا۔ اسی بدولت آج وہ مذہب اور ترقی یافتہ ہیں۔ مگر ہمارے ہاں نصاب کو عین اس مطابق ترتیب دیا جاتا ہے کہ جس میں حکومت کی تعریفیں ہوں۔ تاریخ کے اصلی پہلو اجاگر نہ ہوں۔ اور ہر اس کام کا کریڈٹ موجودہ حکومت کے کھاتے میں ہو جو اس نے کبھی کیا ہی نہ ہو۔ ایسے تاریخ میں کبھی زندہ نہیں رہا جا سکتا۔ اور نہ ہی زبانی تعریفوں اور تقریروں سے آپ ترقی یافتہ بن سکتے ہیں۔

کرپشن، غربت اور بد عنوانی کی مثالیں اس کے علاوہ ہیں۔ اگر دونوں ممالک ترقی کی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہیں تو آپسی نفرت کے کاروبار کو پس پشت رکھ کر حقیقی معنوں میں معاشرے کو بہت سے معاملات میں آزادی دینا ہو گی۔ ذرا سوچئے!

ذوالقرنین ہندل: مصنف پیشے کے اعتبار سے مکینیکل انجینئر ہیں۔ وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔ آگاہی ایوارڈ ( 2019 ) حاصل کر چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words