کیا پکایا جائے اور کیا لکھا جائے؟

گھر چلانے کے لئے جہاں اور بہت سے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، وہاں روزانہ ایک مشکل سوال بھی درپیش ہوتا ہے کہ آج کیا پکانا ہے؟ ہمارے گاؤں میں ایک چودھری صاحب رہتے تھے۔ سیاسی پس منظر بھی تھا۔ اس لئے ڈیرہ بھی چلتا تھا۔ نوکر صبح سویرے جب اس دن کے کھانے کے لئے پوچھتا تو اپنی پسند بتانے سے پہلے ہمیشہ یہی جواب دیتے کہ آج زہر پکا لو۔ اس جواب میں بھی یہی راز پوشیدہ تھا کہ روزانہ پکانے کے لئے سبزی، دال گوشت وغیرہ میں سے کس چیز کا انتخاب کیا جائے؟ مزاح کے طور پر کئی گھروں میں دفتر سے آ کر میاں یہ بھی پوچھتا ہے کہ : ”اج کی متھے وجناں اے“ ؟ مطلب آج کیا پکایا ہے؟ آگے سے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے ملتا ہے : جو مرغ بٹیر بھیجے تھے وہی ”وجیں“ گے۔

ہمارے بچپن اور لڑکپن میں بھی یہ مسئلہ تھا، پر اتنا گمبھیر نہیں تھا۔ گھر میں جو کچھ بھی پکتا تھا، اگر وہ پسند نہیں ہوتا تھا تو تھوڑی بہت لے دے کے بعد کھا ہی لیتے تھے۔ بالکل ہی کھانے کو دل نہیں کرتا تھا تو متبادل کے طور پر اچار اور ”گھی مٹھا“ ہوتا تھا۔ ”گھی مٹھا“ دیسی گھی اور دیسی شکر کا آمیزہ ( مکسچر) ہوتا تھا۔ اگر آپ نے تندر کی گرما گرم دیسی گھی سے چپڑی روٹی کے ساتھ یہ آمیزہ بطور سالن نہیں کھایا تو سمجھیں آپ نے کچھ نہیں کھایا۔

کیا مزے کا متبادل تھا یہ سالن کا۔ دیسی شکر میسر نہ ہوتی تو اس کی جگہ پر چینی بھی چل جاتی تھی۔ ضرورت بھی پوری ہو جاتی اور سواد کا سواد بھی۔ بہت عیاشی کروانے کا موڈ ہوتا تو مائیں ناپسندیدہ سالن کے متبادل کے طور پر آملیٹ یا فرائی انڈہ بنا دیتی تھیں۔ ہم نے تو اپنے بچپن اور لڑکپن میں صرف آموں اور خربوزوں کے ساتھ بھی روٹی خود بھی کھائی ہے اور لوگوں کو بھی کھاتے دیکھا ہے۔ ایک لقمہ روٹی کا اور ایک ”سپ“ آم کا۔

اسی طرح ہر لقمے کے ساتھ خربوزے کی قاش کی ایک ”بائٹ“ بھی سالن کا کام دیتی تھی۔ اس زمانے میں سالن کے متبادل کے طور پر یہ دونوں چیزیں ایک قبول عام کا درجہ رکھتی تھیں۔ دیہات میں سبز مرچ کوٹ کر لسی میں شامل کر کے بھی روٹی کے ساتھ بطور سالن استعمال ہوتی تھی اور آج بھی اس کا استعمال منع نہیں ہے۔ ہمارے ایک ملنے والے تو پسی ہوئی سرخ مرچ دیسی گھی میں بھون کر اس سے بھی مزے لے لے کر روٹی کھا لیتے تھے۔ چائے کے ساتھ پراٹھے کا ناشتا تو شاید آج بھی چلتا ہے۔ روٹی کے ساتھ دودھ بھی بطور سالن بھی استعمال ہو جاتا تھا۔

لیکن اب حالات بہت بدل چکے ہیں۔ آپ لاکھ کدو کو سنت نبوی سے جوڑنے کی کوشش کریں، کریلے کو قدرتی خون صفا کا نام دیں، ٹینڈوں، گوبھی، لوبیا وغیرہ کی افادیت پر لمبی لمبی گفتگو کر لیں، بچے آپ کے قابو میں آنے سے رہے۔ اور تو اور دیسی مرغی بھی ناپسندیدہ سالن کی فہرست میں شامل ہو چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں برائلر صرف ہوٹلوں میں ہی اونچی جگہوں پر لٹکا ہوا نہیں ہے، نئی نسل کے دل و دماغ کے بھی اونچے خانوں میں سجا ہوا ہے۔

بچوں کی پسند اور ناپسند نے اب کدو اور توریوں جیسی سبزیوں میں بھی آلوؤں کو شامل کر دیا ہے تا کہ مذکورہ سبزیوں کے سالن میں سے آلوؤں کو الگ کر کے کھایا جا سکے۔ شہروں کی حد تک فاسٹ فوڈز بچوں کے لئے ایک ”عظیم متبادل“ کا روپ دھار چکے ہیں۔ رہے ان کے نقصانات مبنی تحریریں اور بیانات، سب ان کے سامنے دم دبا کر بیٹھے ہیں۔ یہ پسند ہیں تو بس ان کو کھانا ہے چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ غنیمت ہے کہ دالوں کے خاندان میں سے سفید اور سیاہ چنے کسی حد تک بچوں کی پسند میں ابھی باقی ہیں۔

انور مسعود صاحب کی مشہور زمانہ علامتی نظم ”اج کی پکائیے“ میں بھی بالآخر قرعہ فال ”چھولیاں دی دال“ کا نکلا تھا۔ یہاں یہ بھی شکست کھاتی نظر آتی ہے۔ البتہ اس سے بننے والے بیسن سے تلے ہوئے پکوڑوں کی وجہ سے یہ کسی حد تک دوڑ میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں چند دوستوں سے بات ہوئی تو انہوں نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ ہمارے ہاں تو بقر عید پر بھی برائلر پکتا ہے۔ یہ نہیں کہ قربانی کی توفیق نہیں ہوتی۔ بڑی اور چھوٹی دونوں قربانیاں ہوتی ہیں۔

گھر میں بیف اور مٹن کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں لیکن بچوں کی سوئی برائلر پر ہی اٹکی ہوتی کہ ہمیں یہ چھوٹا اور بڑا گوشت اچھا ہی نہیں لگتا۔ کچھ گھرانوں نے اس پریشانی کا حل ہوسٹلز کی طرز پر گھروں میں بھی باقاعدہ ایک مینیو جاری کر رکھا ہے اور اس کو گھر میں کسی جگہ پر یاددہانی کے لئے لٹکایا بھی جاتا ہے کہ روزانہ گھر میں کیا پکے گا۔ اگر کسی گھر میں واقعی اس پر عمل درآمد بھی ہو رہا ہے تو ہمارے خیال میں وہ ایک خوش قسمت اور آئیڈیل گھرانا ہے۔ ہمارے خیال میں اکثر گھروں میں بڑے اس معاملے میں چھوٹوں کے حق میں دستبردار ہو چکے ہیں۔ اس کا دوسرا حل گھر کے افراد کی پسند کے مطابق الگ الگ ہانڈیوں کا پکنا ہے جو ہر گھرانے میں ممکن نہیں۔

کھانے کے بعد اگر لکھنے کا معاملہ دیکھا جائے تو یہ بھی ایک ٹیڑھی کھیر بن چکا ہے۔ لکھنے کا مزہ تو تب ہی ہے کہ پورا سچ لکھا جائے، جو محسوس کیا جائے، جس چیز کا مشاہدہ کیا جائے اسے ہو بہو لوگوں کے سامنے لایا جائے۔ لیکن فی زمانہ یہ کام بہت مشکل ہو چکا ہے۔ کسی کے ہاتھ سرکاری ملازمت کی وجہ سے بندھے ہوئے ہیں اور کوئی مصلحتوں کی وجہ سے مجبور ہے۔ طاقت ور لوگ ہوں یا ادارے دونوں کو آئینہ دکھانا مشکل ہو چکا ہے۔ وہ آئینہ اور آئینہ بردار دونوں کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بوقت ضرورت اس صلاحیت کا استعمال کر بھی لیتے ہیں۔

کتنے لکھنے والے ہیں جن کی زندگیاں مشکل کر دی گئی ہیں۔ پچھلے دنوں پنجاب کے علاقے راجن پور میں ایک ”مخبر“ کے بازو ایک ڈاکو صاحب نے جس طرح کاٹ کر اس کی باقاعدہ وڈیو جاری کی وہ سچ بولنے اور لکھنے والوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس لکھاری نے بھی اپنی کالم نگاری کا آغاز نوائے وقت ملتان میں ”بول کہ لب آزاد ہیں تیرے“ کی ”پیشانی“ کے ساتھ کیا تھا۔ جب دیکھا کہ اس کی لاج رکھنا بہت مشکل ہے تو فیض صاحب کی روح کو مزید بے چین کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اس پیشانی کو ہٹا دیا۔

اور بھی بہت سے لکھنے والے ادھورے سچ لکھنے پر مجبور ہیں یا پھر مکمل پسپائی اختیار کر چکے ہیں۔ اگر آپ کو اطہر شاہ خان جیدی کا شہکار ڈرامہ ”با ادب با ملاحظہ ہوشیار“ یاد ہے تو اس کا وہ منظر بھی یاد ہوگا جس میں بادشاہ سلامت سرکاری مؤرخ کو کٹے ہوئے ہاتھوں والی تصاویر دکھا کر خبردار کرتا ہے کہ یہ وہ مؤرخ ہیں جنہوں نے اس کی یعنی بادشاہ کی مرضی کے خلاف سچی تاریخ لکھنے کی جسارت کی تھی۔ یہ محض ڈرامے کا منظر ہی نہیں، حقیقت میں بھی ایسا ہو جاتا ہے جیسا کہ راجن پور والی وڈیو میں دکھایا گیا تھا۔

اس کے علاوہ اگر لکھنے والا تھوڑا مذہب کا تڑکا لگا دے تو ”لبرلز“ کے ماتھے پر بل پڑ جاتے ہیں اور اس کے برعکس صورت حال پر ”مذہبی عناصر“ لٹھ اٹھا لیتے ہیں۔ دوسرے مذاہب کے بارے میں نرم گوشہ پیدا کر لیں تو آپ کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کی مہم شروع ہو سکتی ہے۔ سیاسی اختلاف پر آپ کا جینا حرام کرنے کے لئے سب حدیں پار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔ ہمارے ایک بہت ہی معتدل دوست نے اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں بطور مزاح ایک سوال پوچھنے کی غلطی کر لی کہ کیا نئے پاکستان میں وزیر اعظم صاحب کے صاحب زادے بھی مستقل قیام کریں گے؟ بس پھر ان کے خلاف ایک ایسا طوفان برپا کر دیا گیا کہ ان کو اپنی پوسٹ ہی واپس لینی پڑی۔

گویا معاملہ پکانے کا ہو یا لکھنے کا ہر ایک کی پسند پر پورا اترنا مشکل ہے۔ اس لئے فی الحال جو کھانے کو مل رہا اور جو پڑھنے کو مل رہا، اس پر اکتفا کرنے کی کوشش کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words