طالبان کابل میں: ’شہر میں افواہوں کا بازار گرم، ہر طرف بے یقینی اور خوف‘
افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کی رفتار نے جہاں تجزیہ کاروں کے اندازوں کو غلط ثابت کیا وہیں صحافیوں کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ کابل اتنی جلد طالبان کے کنٹرول میں چلا جائے گا جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بہت سے غیر ملکی صحافی اور میڈیا سے متعلق افراد بھی وہاں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
بی بی سی کے کیمرہ پرسن مدثر ملک بھی ان میں سے ایک ہیں جنھوں نے اتوار کو اپنے کابل کے سفر اور وہاں کی صورتحال کی تفصیلات حمیرا کنول کو بتائیں۔
‘میں یہاں کابل کے مرکز میں اپنی رہائش گاہ پر ہوں۔ میرے کمرے سے سڑک پر مجھے کچھ دیر پہلے مجھے گاڑیاں گزرتی دکھائی دیں۔ ان کی تعداد تین تھی فور بائی فور۔ ان گاڑیوں میں حکومتی اہلکار نہیں بظاہر طالبان کے حلیے کے لوگ تھے۔ اس وقت یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ کابل شہر میں وہ کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ کبھی کبھی شہر میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں معلوم نہیں یہ ہوائی فائرنگ ہے یا پھر طالبان اور فورسز کے مابین کہیں لڑائی ہو رہی ہے۔ لیکن میں اتنا سمجھ رہا ہوں کہ یہ عام پستول کی نہیں بھاری ہتھیاروں کی فائرنگ ہے۔ اوپر فضا میں بھی ہیلی کاپٹروں کی، جیٹ طیاروں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
‘آج کے دن میں صورتحال اتنی تیزی سے بدلی ہے کہ نہ تو ہم صحافیوں کو سمجھ آ رہی ہے کہ وہ کام کیسے کریں اور نہ ہی دوسرے صوبوں سے کابل میں پناہ لینے والوں کو سجھائی دے رہا ہے کہ وہ کہاں جائیں۔ آخری خبر یہی ہے کہ اشرف غنی کے جانے کے بعد صدارتی محل اب طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ میں ابھی گلبدین حکمت یار کا ٹی وی انٹرویو دیکھ رہا ہوں جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے طالبان کو سمجھایا ہے کہ لڑائی نہ کریں اس سے گریز کریں۔‘
‘ایئرپورٹ سے یہاں اپنی قیام گاہ تک پہنچنے میں مجھے عام طور پر 30 منٹ لگتے ہیں لیکن آج مجھے ساڑھے تین گھنٹے لگ گئے۔ بہت زیادہ رش تھا۔ بہت سے راستے بند بھی تھے، راستوں سے منسلک بیرونی گلیاں بھی بند تھیں۔ یوں لگ رہا تھا کہ کابل شہر کے سب لوگ مرکز سے مضافاتی علاقوں کی جانب بھاگ رہے ہوں۔ انھیں دیکھ کر میں سوچ رہا تھا نجانے یہ جا کہاں رہے ہیں کیونکہ پورے ملک میں ایک ہی جیسی صورتحال تھی۔ شہر کے تمام علاقوں میں دکانیں بند نظر آ رہی تھیں۔
‘میرا ایک مہینے میں کابل کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ دو ہفتے قبل میں یہاں سے پاکستان گیا تھا اس وقت بھی کابل سے نکلنے والی فلائٹس فل تھیں لیکن یہاں لینڈ کرنے والے جہازوں میں بہت کم مسافر ہیں۔ اسلام آباد سے 55 منٹ کی فلائٹ کے ذریعے میں کابل کے ہوائی اڈے پر پہنچا تو ایئرپورٹ پر سٹاف تو اپنی جگہ موجود تھا لیکن ایئرپورٹ پر معمول کے حالات کی نسبت 70 فیصد سے زیادہ کمی محسوس ہوئی۔ شاید اندرون ملک فلائٹس نہیں تھیں اس لیے یہ سناٹا کچھ زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔ جس جہاز میں میں آیا تھا اسے اسلام آباد جانے میں تین گھنٹے انتظار کرنا پڑا اس دوران یہاں کوئی اور فلائٹ لینڈ بھی نہیں کر سکی۔
’جب میں یہاں پہنچا تو معلوم ہو چکا تھا کہ طالبان کابل شہر کے مضافات میں پہنچ چکے ہیں۔ کہیں کہیں فون کی سروس خراب چل رہی ہے اور انٹرنیٹ کا بھی یہی حال ہے۔ بین الاقوامی میڈیا سے منسلک صحافی بتا رہے ہیں کہ ان کے اداروں نے انھیں ملک چھوڑنے کو کہا ہے وہ سب اپنی ٹکٹس ارینج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کام کیسے کیا جائے۔
’دن بھر میں صورتحال بہت تیزی سے بدلی۔ شہر میں بہت سی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں۔ ہم صحافیوں کو بھی اپنی طے شدہ جگہوں کو چھوڑ کر ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہونا پڑا جب ہمیں یہ افواہ سننے کو ملی کہ ہوٹل میں سکیورٹی ایشو ہو گیا ہے۔ باہر بھی جگہ جگہ لوگ افواہیں سن کر ادھر ادھر جا رہے تھے۔
’طالبان کی جانب سے جاری بیانات میں یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ وہ صحافیوں سمیت کسی کو کچھ نہیں کہیں گے لیکن ہر جانب خوف ہے اور بےیقینی ہے۔ حکومت نے گذشتہ ہفتے تک چار افغان صحافیوں کو گرفتار کیا تھا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے خفیہ ادارے کے ایجنٹ ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ افغان صحافی بھی ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ چاہے کوئی انسانی سمگلر ہو وہ اسے افغانستان کی سرحدوں سے باہر لے جائے۔‘
یہاں کابل میں خواتین صحافیوں میں سے چند ایسی ہیں جو خطرے کے باعث اپنے گھروں کو چھوڑ کر عارضی طور پر کہیں اور رہنے پر مجبور ہیں جبکہ کچھ ایسی بھی ہیں جو اب اپنا نام رپورٹس میں استعمال نہیں کر سکتیں۔
میری ایسی ہی چند خواتین صحافیوں سے گفتگو ہوئی۔ مرجانہ یہاں کی مکین ہیں جن کا کہنا ہے کہ ’معلوم نہیں اب ہمارے ملک کا کیا ہو گا، ہم سب بہت پریشان ہیں۔‘
اب کسی بھی دوسرے صوبے میں کوئی غیر ملکی صحافی نہیں سبھی کابل منتقل ہو چکے ہیں اور اب یہاں سے بھی نکلنا چاہتے ہیں۔ مرجانہ آخری بار ایک ہفتے قبل مزارِ شریف میں ایک انٹرویو کے لیے گئی تھیں لیکن اس کے بعد وہ کام کے لیے باہر نہیں جا سکی۔
ایک اور صحافی یہاں سے نکلنے میں تو کامیاب رہیں لیکن ان کا پورا خاندان پیچھے رہ گیا جن کی فکر انھیں ہر لمحہ ستا رہی ہے۔ کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ طالبان اتنی جلدی کابل پر قبضہ کریں گے اور پھر کابل ماضی جیسے ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
طالبان افغانستان تنازعے میں سعودی عرب سمیت کون سا اسلامی ملک کس کے ساتھ ہے؟
‘بیٹے کے بغیر مر جاؤں گی اسے کابل میں نہیں چھوڑ سکتی’
داڑھی، برقعہ، موسیقی۔۔۔ کیا طالبان دوبارہ نوے کی دہائی کے سخت گیر قوانین کا نفاذ کریں گے؟
’حالیہ مہینوں میں طالبان نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں چند صحافیوں کو قتل کیا ہے، ابھی تو وہ کہہ رہے ہیں کہ کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا لیکن اس پر اعتبار کرنا قدرے مشکل ہے۔‘
’دو ہفتے پہلے جب میں مہینہ بھر یہاں رہا تو بھی ہمیں ہدایات تھی کہ شہر کے اندر ہی رہیں کیونکہ باہر جانے والوں کو اگر طالبان کی چوکی کا سامنا کرنا پڑے تو معلوم نہیں کہ وہ بچ پائیں گے یا نہیں۔ ہاں ہم تب ہوٹل سے باہر جا سکتے تھے لیکن اب یہ بھی ممکن نہیں۔‘
’یہاں سکیورٹی بہت سخت تھی میرے خیال سے جب بگرام کے اڈے سے امریکی فوجی بغیر بتائے گئے تو افغان فورسز کا مورال ڈاؤن ہوا۔ دو ہفتے پہلے تک بھی یہاں کابل میں جو زیادہ غیر ملکی رہ گئے تھے وہ صحافی ہی تھے۔ اور صرف جرنلسٹ ہی تھے جو کابل میں آ جا رہے تھے لیکن اب وہ بھی واپسی کے منتظر ہیں۔‘
’معلوم نہیں کہ میں مزید کتنے روز یہاں ہو لیکن ایک بات حالیہ عرصے میں، میں نے شدت سے محسوس کی وہ یہ ہے کہ پہلے جب بھی میں مقامی افغان لوگوں سے ملتا تھا تو وہ کہتے تھے چلو جیسے بھی ہو ہمارے بھائی ہو، یہ حکومتوں کا مسئلہ ہے۔ لیکن اب ایسے لگتا ہے جیسے ان کے منھ کا ذائقہ خراب ہو گیا ہے اور وہ کہتے ہیں پاکستان ٹھیک نہیں کر رہا۔‘



