افغانستان : گریٹ گیم کا ایک اور باب بند 

امریکی میڈیا میں ماتم برپاہے۔ وہاں دہائی مچانے والے نام نہاد مفکرومبصر بنیادی طورپر اس فکر میں مبتلا نہیں کہ طالبان کی برق رفتار پیش قدمی کے نتیجے میں ہزاروں افغان اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کو مجبور ہوئے۔ عورتوں اور بچوں سمیت کئی گھنٹوں تک پیدل چلنے کے بعد وہ کابل اور قندھار جیسے شہروں کے نواحی علاقوں میں پناہ کے متلاشی ہیں۔ بے شمار افراد پلاسٹک کے بنائے خیموں میں رہنے کو مجبور ہوئے۔ ایک وقت کے کھانے کے لئے بھی وہ ہمارے ہاں مزاروں کے باہر جمع ہوئے ہجوم کی طرح راشن کے حصول کے لئے دل دہلادینے والی تگ ودو میں مصروف ہیں۔ ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں ذلت ورسوائی کی بابت شادیانے بجانے والے بے شمار پاکستانی بھی انسانی ذلت کے ان مناظر کو نظرانداز کئے ہوئے ہیں۔

ٹی وی سکرینوں اور اخبارات کے ادارتی صفحات پر چھائے امریکی ’’ماہرین‘‘فقط اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کو بے چین ہیں کہ مسلسل 20برسوں تک سوسے زیادہ ارب ڈالر کے خرچ سے تیار ہوئی افغان فوج جسے جدید ترین اسلحہ بھی فراہم ہوا تھا ایک لاکھ سے کم بتائے طالبان رضا کاروں کے سامنے ریت کی دیوار کیوں ثابت ہوئی۔ امریکی صدر کو بھی کامل یقین تھا کہ کاغذوں میں بتائے اندازوں کے مطابق افغان فوج اشرف غنی حکومت کو چھ سے زیادہ مہینوں تک برقرار رکھ سکتی ہے۔ قندھار وہرات گنوادینے کے باوجود وہ مزار شریف اور کابل کو طالبان کے ہاتھ نہیں آنے دے گی۔ یوں افغانستان میں خانہ جنگی طویل تر ہوتے ہوئے فریقین کو بالآخر کسی ’’سیاسی سمجھوتے‘‘ کو مجبور کردے گی۔ ’’سیاسی سمجھوتہ‘‘ مگر افغانستان کی تاریخ میں کبھی ہوا نہیں۔ تخت یا تختہ والے معرکے ہوتے ہیں جس کے انجام پر کوئی ایک فریق ہی کامیاب وکامران قرار پاتا ہے۔

مذاکرات کی میز پر جو طے ہونا تھا وہ دوحہ میں گزشتہ برس کے اختتام میں طے ہوگیا تھا۔ دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے امریکہ نے طالبان نہیں ’’امارات اسلامی افغانستان‘‘ کو تحریری طورپر یقین دلایا کہ اس کے علاوہ نیٹو افواج بھی 2021کے ابتدائی تین ماہ گزرتے ہی ان کے ملک سے نکل جائیں گی۔ بہتر تو یہی تھا کہ اس معاہدے پر دستخط کے بعد طالبان کے نمائندوں کو ’’امارت اسلامی افغانستان‘‘ تسلیم کرتے ہوئے ان سے درخواست کی جاتی کہ غیر ملکی افواج کی بحفاظت واپسی اور اقتدار کی پرامن منتقلی کے راستے بنائیں۔ دوحہ میں ہتھیار ڈالنے کے بعد یہ توقع رکھنا واضح حماقت تھی کہ مذاکرات کی میز پر کامران ٹھہرا فریق اشرف غنی حکومت سے نام نہاد پرامن انتقال اقتدار اور ’’سب کے لئے قابل قبول حکومت‘‘ کے قیام کے لئے گفتگو کرے گا۔ دوحہ میں ہوا معاہدہ سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ سول عدالت کا جائیداد پر قبضے کے تناظر میں ہوا فیصلہ تھا۔ جس فریق کے حق میں یہ فیصلہ ہوا وہ ہر طریقے سے اپنا ’’حق‘‘ وصول کرنے کا حق رکھتا تھا۔

اپنے ’’حق‘‘کو وصول کرنے کے لئے طالبان نے بھی عجلت نہیں دکھائی۔ کابل کی جانب پیش قدمی سے قبل بلکہ انہوں نے کمال مہارت سے اس امر کو یقینی بنایا کہ افغانستان کے شمال میں واقع ان تمام علاقوں پر اپنا تسلط یقینی بنایا جائے جہاں پشتو بولنے والے اکثریت میں نہیں۔ طالبان کے گزشتہ دور میں ان علاقوں سے ’’شمالی اتحاد‘‘ نمودار ہوا تھا۔ نائن الیون کے بعد وہ ہی امریکہ کو افغانستان پر قبضہ جمانے میں حقیقی سہولت کار ثابت ہوا تھا۔ ہرات کے اسماعیل خان نے بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا۔ دوحہ مذاکرات شروع ہونے سے کئی ماہ قبل ہی طالبان نے کئی بار قندوز جیسے شہروں کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کی تھی۔ اشرف غنی حکومت امریکی فضائیہ کی مدد سے انہیں ناکام بناتی رہی۔ دوحہ مذاکرات کامیاب ہوجانے کے بعد یہ چھتری میسر نہ رہی۔ طالبان نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

شمالی افغانستان کے کئی شہروں کے بعد قندھار و ہرات بھی طالبان کے روبرو ڈھیر ہوگئے تو امید باندھی گئی کہ مزار شریف کا سفاک ٹوپک سالار (وارلارڈ) رشید دوستم ’’ازبک غیرت‘‘ کو ڈھال کی صورت کھڑا کردے گا۔ اس نے خود کو ’’مارشل‘‘کا لقب بھی دے رکھا ہے۔ اپنی پرتعیش رہائش کے لئے اس نے کئی محل تعمیر کر رکھے تھے۔ گزشتہ جمعہ کی شب تک وہ کیمروں کے روبرو اپنی ’’ملت کی آبرو‘‘ بچانے کے لئے ’’شہادت‘‘ کی خواہش کا اظہار کرتا رہا۔ اسے دیکھتے ہوئے نجانے کیوں مجھے صدام حسین کا ایک وزیر یاد آتا رہا۔ 2003میں امریکی فوج بغداد میں داخل ہونے والی تھی ۔ وہ مگر بین الاقوامی میڈیا کے روبرو بڑھکیں لگاتا رہا۔ صدام اور اس کے ساتھیوں کی طرح دوستم بھی ہفتے کی شام اپنی ’’ملت‘‘ کو ’’غیروں‘‘ کے سپرد کرکے فرار ہوگیا ہے۔

دوستم جیسے پھنے خان دلاور اب یہ جواز تراش رہے ہیں کہ اشرف غنی حکومت اور افغان فوج اسے کماحقہ کمک فراہم نہ کر پائی۔ افغان فوج کی تعداد تین لاکھ بتائی جاتی رہی ہے۔ یہ حقیقت مگر عرصہ ہوا عیاں ہوچکی تھی کہ یہ تعداد درحقیقت اس عملے کی طرح تھی جو ہمارے ہاں کسی زمانے میں ’’گھوسٹ‘‘ سکولوں کے لئے تنخواہیں وصول کرتا تھا۔ فوج کے علاوہ پولیس کا عالم جاننا ہو تو فقط یہ حقیقت ہی آپ کی آنکھ کھولنے کو کافی ہونا چاہیے کہ سرکاری دستاویز کے مطابق صرف قندھار شہر میں پولیس کی نفری 12ہزار تھی۔ ’’حاضر ڈیوٹی‘‘ پولیس کی تعداد مگر کبھی ایک ہزار سے زیادہ نہیں رہی۔ سرکار سے تنخواہیں لے کر ’’پولیس‘‘ کی بے پناہ اکثریت مقامی ٹوپک سالاروں کی ’’بھتہ خور‘‘ معاون ہی رہی۔

جو اعدادوشمار میں نے بیان کئے ہیں ذاتی تحقیق سے میسر نہیں ہوئے۔ امریکہ کے افغانستان میں ہوئے خرچ پر نگاہ رکھنے کا ایک باقاعدہ ادارہ ہے۔ اس کا ہوا ’’آڈٹ‘‘ مگر امریکی عوام سے چھپایا جاتا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ جیسے اخباروں نے ٹھوس اطلاعات تک رسائی کے آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے عدالتوں کے ذریعے امریکی حکومت کو مجبور کیا کہ اس ادارے کی جانب سے تیار ہوئی رپورٹس عوام تک پہنچانے کے لئے انہیں فراہم کی جائیں۔ وہ رپورٹس پڑھتے ہوئے آپ بآسانی جان سکتے ہیں کہ امریکی فوج افغانستان میں ’’اچھی حکومت‘‘ قائم کرنے کو ہرگز تعینات نہیں ہوئی تھی۔ افغانستان میں درحقیقت امریکی فوج اور اس کے لئے کام کرنے والے ٹھیکے دار منافع کمانے کا طویل ’’سیزن‘‘ لگارہے تھے۔

اسی لئے مجھے ہرگز حیرت نہیں ہوئی جب امریکہ کو بالآخر طالبان سے فریاد کرنا پڑی کہ وہ کابل میں داخل ہونے سے قبل اس شہر میں قائم امریکی سفارت خانے میں چار ہزار کے قریب افراد کو وہاں سے نکلنے دیں۔ پانچ ہزار امریکی فوجی اب کابل ایئرپورٹ پر ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کی کثیر تعداد سمیت موجود ہیں۔ کوشش ہورہی ہے کہ امریکہ کو ویسی ذلت نہ دیکھنا پڑے جو اسے 1975میں جنوبی ویت نام کے دار الحکومت سائیگان سے نکلتے ہوئے نصیب ہوئی تھی۔ اشرف غنی اور اس کی فوج کا حقیقی سرپرست یعنی امریکہ جب اپنی جان بخشی کی فریاد کرنے لگے تو وہ دوستم جیسے پاٹے خان دلاوروں کی مدد کو کیوں آمادہ ہوتے۔

افغانستان میں گزشتہ دو سو برسوں سے چلائی عالمی قوتوں کے مابین ’’گریٹ گیم‘‘ کے ایک اور باب کا اب اختتام ہونے کوہے۔ یہ مگر آخری باب نہیں۔ کچھ ہی عرصے بعد ایک نئی کہانی کا آغاز ہوگا۔ جس کے کردار بھی حیران کن حد تک ’’نئے‘‘ ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words