شادی شدہ اور کنوارے

ہمارے ہاں جو عمل بیک وقت مقبول اور بدنام ہے وہ شادی ہے۔ جو اس پل صراط کے پار گیا جنت پائی اور جو ابھی پار کرنے کا سوچ رہا ہے وہ بھی جنت میں ہی ہے۔ شادی شدہ افراد شادی کرنے کے بعد اتنے خوش ہوتے ہیں جتنے کنوارے شادی سے پہلے ہوتے ہیں۔ قدیم زمانے سے یہ بحث چلی آ رہی ہے کہ شادی شدہ بہتر ہے یا کنوارا۔ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ کس کو فاتح قرار دیا جائے، کون خسارے میں اور کون فائدے میں ہے۔

دونوں کی زندگی کا مطالعہ کیا گیا۔ نتائج حیران کن ہی نہیں بلکہ پریشان کن نکلے۔ اتنا ہی نہیں دونوں سے رائے لی گئی کہ بہترین زندگی کنواروں کی ہے یا شادی شدگان کی لیکن کسی کی رائے پر کلی طور پر اتفاق نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بعض حضرات شادی کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اور اسے برا سمجھ کر اس برائی کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو دو دو تین تین مرتبہ اس مہم کو سر کرتے ہیں لیکن کنواروں کو نصیحت کر رہے ہوتے ہیں کہ شادی مت کرنا۔ گویا وہ کنواروں کو بے وقوف، احمق اور پاگل سمجھتے ہیں۔ خود قلعے کو فتح کرنے کے بعد یہ مشورہ دینا کہ جنگ مت کرنا دوسرے کو بے وقوف ہی سمجھنے کے مترادف ہے۔ مرزا کہتے ہیں کہ آج کل جھوٹ کا چلن عام ہے کسی پر بھی بھروسا آسانی سے نہیں کرنا چاہیے اگر کوئی کہہ دے کہ زہر سے انسان مر جاتا ہے تو بھروسا نہیں کرنا چاہیے خود کھا کر دیکھ لینا چاہیے۔

جو غیر شادی شدہ ہے اس کا مطلب وہ آزاد اور کنوارے ہیں۔ کنوارا احمق، بے وقوف اور ناتجربہ کار ہوتا ہے کیونکہ اس نے شادی کے فوائد، بیوی کی ناراضگی، روٹھنا منایا، تلخیاں اور طنزیہ لہجہ نہیں دیکھا ہوتا۔ شادی کی عمر ہو جائے تو جان بوجھ کر کنوارا رہنے والے کو لوگ بیمار اور پاگل سمجھتے ہیں۔ مرزا کہتے ہیں کہ یہ ہرگز درست نہیں کہ کنوارا پاگل ہے مطمئن، خوش اور ہشاش باش شخص پاگل نہیں ہو سکتا ۔ پاگل ہونے کے لیے شادی شدہ ہونا ضروری ہے۔

کوئی ترازو ایسی نہیں بنی جو یہ ناپ کر بتائے کہ کنوارا خوش ہوتا ہے یا شادی شدہ۔ کچھ لمحات دونوں کی زندگی میں ایسے ہوتے ہیں جب یہ دونوں خوش ہوتے ہیں اور کچھ پل ایسے ہوتے ہیں جو بیوی کے ساتھ گزار کر انسان فرحت محسوس کرتا ہے۔ شادی شدہ بندے کی زبان پر ایک نصیحت ہمیشہ ہوتی ہے اور اس کا پرچار وہ جہاں موقع ملے کر لیتا ہے کہ شادی نہیں کرنا۔ لیکن خود اس پر وہ عمل نہیں کرتا۔ ایسے شخص پر کم سے کم ہمیں تو بھروسا نہیں کہ جس کے منہ میں سگریٹ ہو اور وہ اس کی برائیاں بھی کر رہا ہو کہ اس سے صحت خراب ہوتی ہے۔

کنوارا بادشاہ ہوتا ہے اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ شادی شدہ غلام ہوتا ہے۔ مرزا سے پوچھا گیا کہ بادشاہ اور غلام میں کیا فرق ہے قربان جاؤں اس کی ذہانت و فطانت پر اس نے تاریخی جملہ کہا کہ جو فرق کنوارے اور شادی شدہ میں ہوتا ہے۔ دو ہی زمانے بادشاہی اور بے فکری کے ہوتے ہیں بچپن اور جوانی کے وہ دن جو کنوارے گزرے ہوں۔ شادی کے بعد میاں بیوی میں ان بن ہو جائے تو طلاق کی نوبت آتی ہے جو رسوائی اور بدنامی کا سبب بنتا ہے۔ کنوارے کو رسوائی کا غم ہے نہ بدنام کا خوف وہ شادی کرے کو کھٹکا لگے ورنہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری!

Comments - User is solely responsible for his/her words