”بدلے طالبان“ کی واپسی اور پاکستان


افغانستان مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں چلا گیا۔ یہ سب کچھ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان سالوں سے جاری مذاکرات اور بالآخر دوحہ میں ہونے والے معاہدے کے عین مطابق ہوا۔

افغان تنازعے میں امریکہ کو شکست ہوئی یا نہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات اور معاہدہ طالبان اور امریکہ کو اتنا قریب لے لایا ہے کہ دونوں اب اتحادی بن گئے ہیں۔ پچھلے تقریباً ڈیڑھ مہینے سے افغانستان میں ہونے والے واقعات کا اگر ایک جائزہ لیا جائے تو امریکہ طالبان اتحاد آپ کو واضح نظر آئے گا۔

ڈیڑھ مہینے پہلے امریکی انخلاء تقریباً مکمل ہونے کے بعد جس طرح سے طالبان نے پیش قدمی شروع کی اور خصوصی طور پر جس طریقے سے مغربی میڈیا میں اس کی تشہیر ہوئی تو میں تو ذاتی طور سے اس بات کا قائل ہو گیا کہ امریکہ اور طالبان اب اتحادی ہیں۔

یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ اسی طرح کا اتحاد ہم اس سے پہلے 80 کی دہائی میں روس کے خلاف دیکھ چکے ہیں۔ تب پاکستان بھی اتحاد کا حصہ تھا لیکن اس نئے اتحاد کے بارے میں پاکستان کا کردار مجھ پر ابھی تک واضح نہیں۔ اور اگر پھر بھی کوئی اس بات سے اختلاف رائے رکھتا ہے تو مزید پیچھے جاکر متحدہ ہندوستان کی تاریخ پر نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ کس طرح تاج برطانیہ نے ملاؤں اور پیروں کو اپنے مقاصد اور خصوصاً تحریک آزادی کے خلاف استعمال کیا۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کچھ سالوں کے لئے اسلامی اور مغربی انتہاء پسند طاقتیں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوئیں لیکن اب ایک بار پھر ایک مشترکہ دشمن کے خلاف اتحادی ہو گئے ہیں۔

اب افغانستان اور علاقے کی اس بدلی صورتحال میں پاکستان کے لئے کیا رکھا ہے اس پر بات کرتے ہیں۔

پاکستان میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر طالبان کی آمد پر کافی جوش و خروش ہے۔ اگر سوال پوچھیں کہ بھئی آپ کیوں طالبان کو سپورٹ کرتے ہیں تو ایک بات یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ طالبان اب بدلے ہوئے ہیں اور میچور بھی ہیں۔

بہرحال پاکستان میں ”گڈ اور بیڈ“ یعنی دو طرح کے طالبان ہیں۔ گڈ طالبان میں سے کچھ افغان طالبان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ اب جب کہ افغان طالبان افغانستان پر مکمل کنٹرول میں ہیں اور امریکہ کے ساتھ معاہدہ بھی ہو گیا تو ہمارے والے گڈ طالبان تو واپس ہی آئیں گے کیونکہ افغانستان میں تو ظاہر ہے ان کو نئی سیٹ اپ میں کوئی کردار نہیں ملنے والا۔

جو بیڈ طالبان یعنی ٹی ٹی پی ہیں ان میں سے کچھ چھپے ہوئے ہیں اور کبھی کبھی کوئی وار کرلیتے ہیں لیکن زیادہ تر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ مشرقی افغانستان (شاید کنڑ) منتقل ہوچکے ہیں۔ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے حوالے سے کیا اقدامات کرتے ہیں یہ ابھی واضح نہیں ہوا۔ لیکن اگر افغان طالبان ”بدلے اور میچور“ ہیں تو پھر بدلے طالبان ہمیں ایسی ایسی سرپرائزز بھی دے سکتے ہیں جس کے لئے شاید ہم تیار نہ ہوں۔ جس طرح سے افغانستان پر طالبان نے تقریباً پرامن طریقے سے ایک ہی مہینے میں کنٹرول سنبھالا، مخالف افغان رہنماؤں سے انگیج رہے اور دوسرے ممالک کے دورے اور ملاقاتیں کی، یہاں تک کے انڈینز سے بھی ملاقاتیں کی تو کوئی بھی تبدیلی ہمیں سرپرائز کر سکتی ہے۔

نوے کی دہائی میں جب طالبان افغانستان پر قابض ہوئے تو ملک سالوں کی جنگ کی وجہ سے تقریباً مکمل کنڈر تھا۔ اب کی بار وہ ایک آباد ملک پر قابض ہوئے ہیں جہاں انفراسٹرکچر بھی ہے ادارے بھی کام کر رہے ہیں اور پولیس اور امریکی ”تربیت یافتہ“ فوج بھی ہے۔ اور خصوصاً امریکہ کی آشیرباد بھی حاصل ہے۔ اور کم از کم اس وقت افغانستان مکمل طور پر ایک کمانڈ کے ماتحت ہے تو شاید آئندہ کچھ عرصے کے لئے افغانستان میں طالبان کو کوئی اندرونی مخالفت کا سامنا بھی نہ ہو۔ تو یہ جو بدلے طالبان ہیں یہ پاکستان کو شاید وہ کچھ نہ دے سکیں جس کی ہمیں امید ہے۔

پاکستان معاشی طور سے اس پوزیشن میں بھی نہیں کہ ایک وقت میں امریکہ چین اور روس اور سعودی عرب اور ایران کو ایک ساتھ انگیج رکھ سکے۔ خصوصاً جب امریکہ خطے میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے طالبان کے ذریعے نئے اقدامات کرے گا۔

اور ایسی آئیڈیل سچویشن تو شاید ممکن نہ ہو جس میں امریکہ، روس، چین، سعودی عرب، ایران، پاکستان، انڈیا اور طالبان سبھی ایک پیج پر ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
محمد ناصر خان، اسلام آباد کی دیگر تحریریں