فرات کنارے : سیدنا حسین (رض) کی داستان عزیمت

شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) نے سماجی اور معاشی ارتقاء کی چہارگانہ درجہ بندی کی ہے، جنہیں انہوں نے اتفاقات کا نام دیا ہے۔ پہلے ارتفاق میں ظاہر ہے کہ انسان ناتجربہ کار تھا اور اپنی گزر اوقات شکار پر کرتا تھا اور غاروں گپھاوں کو اپنا مسکن بناتا تھا۔ دوسرے درجے میں انسان خانہ بدوشی کی صورت میں اپنا مسکن تبدیل کرتا رہتا تھا۔ اسے جہاں کہیں نخلستان، چراگاہیں اور پانی ملتا وہ اپنے ریوڑ وہاں منتقل کرتا رہتا تھا۔

تیسرے درجے یا دور میں انسان نے آبی ذخائر کے کناروں پر اپنی مستقل بستیاں قائم کیں۔ چوتھے ارتفاق میں انسان نے دریاؤں، ندی نالوں اور چشموں کے آس پاس اپنی مستقل بستیاں قائم کیں۔ اس دور میں جب انسان نے تجارت کرنا بھی سیکھی تو مختلف بستیوں کے درمیان آبی راستوں سے ہی تجارت بھی ہونے لگی۔ بستیوں کی خوشحالی کو بنائے رکھنے کے لئے مختلف رسمیں، رواج اور قوانین وضع کیے جانے لگے۔ اس طرح انسانیت کے اس دور کو نیم بین الاقوامیت (سیمی گلوبلائیزیشن) بھی کہا جاسکتا ہے۔

عمرانیات اور بشریات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اس قسم کی کئی بستیاں قائم ہوئیں۔ ان بستیوں نے زندگی کے مختلف میدانوں میں خوب ترقی کر کے مضبوط تہذیبوں کی شکل اختیار کی۔ تاہم ان تہذیبوں کے باشندوں نے حاصل شدہ عروج کو مختلف مظاہر فطرت کی طرف منسوب کرنا شروع کیا، جس سے یہ تہذیبیں بلا استثنا شرک کی سرپرستی کرنے لگیں کیونکہ انہوں نے سیدھے سادے فطرتی ماحول سے خلاصی پاتے ہی تصور خدا میں اختلاف کیا۔

واضح رہے قرآن کا یہ نظریہ جس میں اولاد آدم نے اپنا سفر توحید کی روشنی میں شروع کیا آگست کامٹے جیسے ماہرین سماجیات سے بالکل مختلف ہے جو زمانہ جدید میں ہمیں یہ باور کراتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انسان نے زمین پر اپنا سفر توہمات سے شروع کیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شرک اسی سوچ یا نظریے کی اگلی کڑی ہے، جبکہ ایک خدا کا تصور اس کی چوٹی کی ارتقائی شکل ہے۔ تاہم قرآن اس تصور کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ (البقرہ: 213 )

فینیشین تہذیب بحر اوسط کے مشرقی حصے میں پھلی پھولی جبکہ تہذیب مصر کو نیل کے ساحلوں نے سہارا دیا۔ اسی طرح یونانی شہری ریاستوں کو بحر اوسط نے سینچا۔ رومی تہذیب کی وسعت اور اس میں بہتے دریاؤں کے جال کو اس مجسمے سے سمجھا جاسکتا ہے جو پہلی صدی عیسوی سے روم کے شہر ”اسس“ میں موجود ہے۔ اس مجسمے میں دریائے نیل کو ایک بزرگ کی صورت میں دکھایا گیا ہے جس کے ارد گرد اس کے بچے چھوٹے چھوٹے ندی نالوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی طرح وادی سندھ نے ہڑپہ اور موہنجوداڑو کی تہذیب کو جنم دیا اور بالکل اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ آن بان کے ساتھ وادی فرات اور دجلہ نے سمیریا، اسیریا اور بابل کی تہذیبوں کو پروان چڑھایا۔

چونکہ یہ تہذیبیں بالمجموع اوہام پرستی اور شرک کا گڑھ تھیں اور ان کے زیر سایہ مختلف نسلیں آباد تھیں، اس لئے خالق کائنات نے نبوت کو بھی ”ولکل قوم ہاد، ہر قوم کے لئے ہادی“ کے درجے سے اٹھا کر ایک پورے خطے (مشرق وسطی) کو عالمی ہدایت کا مرکز بنانے کا فیصلہ فرمایا۔ اس مقصد کی خاطر ابراہیم (ع) کو ایک ”امت حنیف“ قرار دے کر آپ (ع) کی ذریت میں ہدایت کو جاری رکھنے کا منصوبہ عمل میں لایا گیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دریائے فرات کے ہی دہانے پر ”ار“ کا شہر آباد تھا جہاں ابراہیم (ع) کو شرک کی بیخ کنی کے لئے مبعوث کیا گیا تھا۔

اس طرح اسی فرات کے کنارے آنجناب (ع) کے لئے بادشاہ وقت کے حکم سے وہ الاو تیار کیا گیا تھا جس کا فیصلہ اس مشرک قوم نے متحد ہو کر کیا تھا۔ نظام شرک کو سہارا دینے کے لئے ان لوگوں نے ایک دوسرے کی ڈھارس باندھتے ہوئے کہا تھا کہ ”اسے جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو!“ (الانبیاء: 68 ) ظاہر ہے کہ یہ لوگ مجسموں کے پیچھے کارفرما نظریے کا دفاع چاہتے تھے جسے دور جدید کے کئی جید علماء نے ”سیاسی شرک“ سے تعبیر کیا ہے جس کے زیر سایہ شرک کی تمام اقسام کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔

تاہم اللہ تبارک و تعالٰی نے آگ کو آنجناب کے لئے سلامتی بنا دیا اور آپ (ع) کو اس بستی سے ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا اور توحید کی ترویج کے لئے مختلف مراکز قائم کرنے کے لئے کہا گیا۔ ان مراکز میں اس مرکز کو کلیدی اہمیت حاصل ہوئی جو آپ (ع) نے ”وادیٔ زم زم“ جو اس وقت تک ”وادیٔ غیر ذی زرع“ (بے آب و گیاہ وادی) تھی، میں قائم کیا۔ قیام توحید و عدل کی اس داستان کی دلنشین رنگینی کا اندازہ ابراہیم (ع) کے فرزند ارجمند، اسماعیل (ع) کے واقعہ ذبح سے ہی ہوتا ہے جہاں باپ بیٹے نے خود کو صبر و استقامت کا شاہکار ثابت کیا۔

یہاں پر یہ بات واضح کر دینا نہایت ضروری ہے کہ توحید اور عدل ہی وہ مرکزی قدریں ہیں جن کے قیام کے لئے انبیاء (ع) کو مبعوث کیا جاتا رہا ہے۔ دراصل توحید انسان کو عمودی طور پر خالق کائنات سے جوڑتا ہے جبکہ عدل کے ذریعے انسانوں کا آپس میں افقی تعلق قائم ہوتا ہے۔ اور جب اس میزان میں کسی قسم کی تخریب ہوتی ہے تو حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی بنیادیں بھی درہم برہم ہوجاتی ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ توحید و عدل یا بالفاظ دیگر دین حق کی تکمیل رسول اللہ (ﷺ) کے مبارک ہاتھوں سے ہوئی جس کا اعلان قرآن نے بین الفاظ میں کیا ہے۔ (المائدہ: 3 )

چاروں خلفاء راشدون (رض) نے اپنے اپنے دور خلافت کا نظام منہج نبوت پر چلایا اور اپنے قول و فعل سے ثابت کیا کہ ”لا طاعت المخلوق فی معصیت الخالق“ یعنی خالق کی معصیت میں کسی بھی صورت میں مخلوق کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق (رض) نے بر سر منبر اعلان فرمایا کہ ”لوگوں پر میری اطاعت تب تک لازم ہے جب تک میں ان کو راہ راست پر چلاؤں اور جب میں ٹیڑھا ہو جاؤں تو ان کو مجھے سیدھا کرنے کا پورا حق ہے۔

“ سیدنا عمر (رض) نے کئی بار اپنے اجتہادات تبدیل فرمائے جب عام لوگوں نے انہیں اس طرف توجہ دلائی۔ سیدنا عثمان (رض) نے اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر صرف اس وجہ سے باغیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کروائی کہ کہیں مدینہ النبی کی حرمت پر کوئی آنچ نہ آئے۔ سیدنا علی (رض) نے خارجیوں کے خلاف بھی تب تک جنگ نہیں کی جب تک وہ آپ (رض) سے برسر پیکار نہیں ہوئے۔

تاہم یزید کے برسر اقتدار آنے کے بعد خلافت کی نہج بالکل بدل دی گئی۔ اس سے قبل بیعت اقتدار کی شرط ہوا کرتی تھی جبکہ اب اقتدار کے ذریعے بیعت لی جانے لگی۔ ظاہر ہے کہ کئی اولوالعزم حضرات کے لئے یہ بنیادی تبدیلی اور اس کے زیر سایہ رونما ہونے والے مزید تغیرات قابل قبول نہیں تھے۔ ان حضرات میں سیدنا حسین (رض) ، سیدنا عبداللہ ابن زبیر (رض) ، سیدنا عبداللہ ابن عمر (رض) ، سیدنا عبدالرحمن ابن ابی بکر (رض) اور سیدنا عبداللہ ابن عباس (رض) قابل ذکر ہیں۔

تاہم ان میں سے دو حضرات، سیدنا حسین (رض) اور سیدنا عبداللہ ابن زبیر (رض) نے عزیمت کا راستہ اختیار کیا جبکہ باقی حضرات نے رخصت کے راستے کو چنا۔ واضح رہے کہ اسلام میں دونوں راستوں میں سے کوئی راستہ اختیار کرنے کا انسان کو اختیار ہے تاہم ہر انسان ”درد عرفان“ (جاننے کے درد) کے حساب سے ہی کسی راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ ان اصحاب عزیمت میں سے ایک یعنی سیدنا عبداللہ ابن زبیر (رض) کافی عرصے تک بنو امیہ کے ساتھ برسر پیکار رہے اور ایک وقت میں وہ ایک متوازی خلافت قائم کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ تاہم آپ (رض) مروان کے دور حکومت میں حجاج کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

سیدنا حسین (رض) کو خانوادہ نبوت کا چشم و چراغ ہونے کی وجہ سے اس بات کا ادراک تھا کہ خلافت کے بنیادی تصور میں رونما ہونے والا یہ تغیر آگے چل کر کیا گل کھلائے گا۔ بنو امیہ کے قلیل اور بنو عباس کے طویل دور حکومت کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ کبھی بھی ان حکمرانوں نے خلافت راشدہ کے خد و خال کو نہیں اپنایا۔ بنو امیہ نے کس طرح اسلامی طرز حکمرانی کو پس پشت ڈال کر اپنی حکومت کو ”عرب استعمار“ میں تبدیل کیا اس کا اندازہ ان اصلاحات سے لگایا جاسکتا ہے جو انہی میں سے ایک منصف مزاج حکمراں، عمر ابن عبدالعزیز (رح) نے اپنے قلیل (سوا دو سال) دور حکومت میں انجام دیے۔

حلقہ بگوش اسلام ہونے والے غیر مسلموں کے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اعلان کرنا پڑا کہ ”محمد (ﷺ) کو اللہ تعالٰی نے ہادی بنا کر بھیجا تھا نہ کہ ایک عامل (ٹیکس کلیکٹر) بنا کر!“ بنو عباس نے اگرچہ قابل لحاظ حد تک عوام کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا تاہم ملوکیت کے جو جراثیم مسلم حکمرانی میں سرایت کرچکے تھے ان سے یہ بھی چھٹکارا حاصل نہ کرسکے۔ دونوں خاندانوں کا تقریباً ایک جیسا حشر ہوا؛ بنو امیہ کا عبرتناک خاتمہ بنو عباس کے ہاتھوں بہت جلد ہوا جبکہ اسی سے ملتا جلتا اختتام پانچ سو سال بعد بنو عباس کا منگولوں کے ذریعے ہوا!

اگرچہ مستقبل کا علم اللہ تعالٰی کی ذات کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہوتا تاہم سیدنا حسین (رض) جیسے آغوش نبوت میں پروان چڑھنے والے مومن کی فراست نے آپ (رض) کو عندیہ دیا ہوگا کہ خلافت کی بنیاد میں پڑنے والی یہ ٹیڑھ خلافت کی عمارت کو زمین بوس کرنے کے لئے کافی ہے :

خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج

اس لئے برائی کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ہی آپ (رض) نے ایام حج میں مکہ المکرمہ کو الوداع کہہ کر کوفہ کا رخ کیا۔ کئی ایک صحابہ (رض) نے آپ (رض) کو روکنے کی کوشش کی لیکن آپ (رض) نے ”فاذا عزمت فتوکل علی اللہ“ کے تحت اپنا سفر جاری رکھا۔ راستے میں آپ (رض) کو عرب کا ایک مشہور شاعر، فرزدق ملا۔ آپ (رض) نے اس سے کوفہ کے حالات کے بارے میں پوچھا۔ فرزدق کا جواب بھی بڑا ہی قابل توجہ ہے :

” قلوب الناس معک و سیوفہم مع بنی امیہ!“
یعنی (کوفہ کے ) لوگوں کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں مگر ان کی تلواریں بنو امیہ کے ساتھ ہیں۔

اس جواب سے اگر ایک طرف بنو امیہ کا سیاسی جبر چھلکتا ہے تو دوسری طرف اس میں اہل کوفہ کی متلون المزاجی بھی صاف ظاہر ہوتی ہے۔ مزاج کا یہ تلون دراصل ان کی فطرت ثانیہ بن چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ سیدنا حسین (رض) کے سفیر اور عم زاد یعنی مسلم ابن عقیل (رض) کی حفاظت کرنے سے قاصر رہے۔ ان کی شہادت کی خبر بھی سیدنا حسین (رض) نے دوران سفر سنی۔ لیکن آپ (رض) کے پائے استقلال میں کوئی جنبش پیدا نہ ہوئی۔

سیدنا حسین (رض) بالآخر اسی ”فرات کے کنارے“ خیمہ زن ہوئے جہاں کبھی ابراہیم (ع) کے لئے سلگائی ہوئی نمرود کی آگ کو خالق کائنات نے آنجناب (ع) کے لئے سلامتی بنا دیا تھا۔ یہیں پر ابوالانبیاء (ع) نے ظلم کی انتہائی شکل یعنی نظام شرک کو للکارا تھا اور یہیں پر بنو اسماعیل کے گل سر سبد اور خانوادہ نبوت کے چشم و چراغ یعنی سیدنا حسین (رض) مسلمانوں کی ظلم اور استبداد پر مبنی حکومت کو للکار رہے تھے۔ اتمام حجت کے طور پر آپ (رض) نے وہ تمام خطوط مدمقابل فوج میں موجود ان لوگوں کو دکھائے جنہوں نے آپ (رض) کو کوفہ آنے کی دعوت دی تھی۔

اب آپ (رض) پر فرات کا میٹھا پانی بند کیا گیا اور آپ (رض) کے خیموں میں آگ لگادی گئی۔ آپ (رض) کی نگرانی میں آپ (رض) کے اعوان و انصار داد شجاعت دیتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آخر پر آپ (رض) نے اپنے پدر بزرگوار، فاتح خیبر، سیدنا علی (رض) کا انداز اپناتے ہوئے دشمن کو آغوش نبوی میں پرورش یافتہ ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے دم آخریں تک اپنی پامردی کے جوہر دکھائے۔ افسوس! شقی دشمن نے آپ (رض) کی شہادت کے بعد بھی آپ (رض) کے جسم اطہر کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جس کے آپ (رض) مستحق تھے۔

بے شک کعبہ سے لے کر فرات کنارے کربلا تک سیدنا حسین (رض) کا یہ سفر عزم صمیم، استقلال، صبر، ہمت، حوصلہ، توکل اور شجاعت کی داستان عزیمت پر مبنی ہے جو ابد تک اس بات کا ثبوت فراہم کرتی رہے گی کہ انبیاء (ع) کی تحریک توحید کی شمع کو صدیقین، شہداء اور صالحین نے اللہ کے اذن سے فروزاں رکھا ہے!

غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل

Comments - User is solely responsible for his/her words