آزادی، عزت اور ”حیا کر یار“ ۔

ہیلو تحریم ”پاں پاں والی آ زادی مبارک ہو، مگر وہ کیا ہے کہ مجھے پسند نہیں ہے۔ مگر یہ زنانہ جملہ ہے۔ اس لئے وزن بھلے کم ہو مگر طاقت پوری رکھتا ہے کہ مجھے پسند نہیں ہے۔ لیکن جب مرد یہ جملہ استعمال کرے کہ“ انہیں پسند نہیں ہے“ تو گویا اس کے گھر کی عورت بھی دل کے کسی نہاں خانے سے سمجھ لیتی ہے شاید اسے سچی مچی پسند نہیں ہے۔ اگر اس نے پسند کیا تو خرابی ہو گی۔

اب یہ پسند نہ ہونے کی نفسیات کس طرح ایک عورت کی زندگی خراب کرتی ہے۔ تربیت کرنے والوں کو خبر نہیں ہوتی۔ ہمیں بھابھی کے ساتھ رات کو ہسپتال رہنا پڑا۔ ہسپتال میں اوپر کی منزل پہ کمرے بنے ہوئے تھے۔ اور باہر کھلا لاؤنج تھا۔ بھابھی سو گئیں تو ہم باہر آ کر بیٹھ گئے کہ یہ زنانہ پورشن ہے۔ مرد آسانی سے اندر نہیں آ سکتے۔ ہم نے موبائل پہ کچھ پڑھنا شروع کر دیا۔

کونے میں دو خواتین بیٹھی اونچی آ واز میں باتیں کر رہیں تھیں۔ ایک تو بہت برہم تھی۔ ہم پڑھ نہ سکے گرچہ موبائل پہ ہی نگاہ تھی۔ ان کی گفتگو کا حاصل کچھ یوں کا تھا۔ بڑی والی خاتون کی پانچ بیٹیاں اور تین بیٹے تھے۔ اور حالات بھی سازگار سے کم تھے۔ اور رہن سہن اس سے بھی کم تھا۔ جبکہ چھوٹی والی ان کی چھوٹی بہن تھی اور کافی خوشحال تھیں۔ انہوں نے سوچا ہمارے لڑکے ہیں۔ باہر سے جو لڑکیاں لانی ہیں۔ کیوں ناں گھر کی بیٹیاں راج کریں۔ اور یوں وہ اپنے خاندان سے ہی سب بہوئیں لائیں۔

ان کی سب سے چھوٹی بہو، ان بڑی والی خاتون کی بیٹی تھی۔ جسے خون کی بہت کمی تھی۔ اور باقی بھی بہت سی کمزوریاں تھیں۔ جس کی وجہ سے اس کی پہلی ڈی این سی ہوئی اور اب یہ دوسری تھی۔ جس کے باعث اس وقت بیٹی ایک کمرے میں درد سے تڑپ رہی تھی۔ چھوٹی بہن کو گلہ یہ تھا کہ تم نے بیٹیوں کو کھلایا نہیں۔ بلکہ تم نے محرومی کو نفسیات میں بدل دیا کہ مجھے قیمہ پسند نہیں، پھل پسند نہیں، دوا پسند نہیں۔ ہم دو سال سے سب کچھ لا کر دیتے ہیں اور یہ کھاتی نہیں کہ اسے پسند نہیں ہے۔ تمہاری سب بیٹیوں کو کھانے کی چیزیں یا مہنگی چیزیں کیوں پسند نہیں ہیں؟ جب کہ بیٹے گوشت اور پھل شوق سے کھاتے ہیں۔ انہیں کیسے پسند ہیں۔ کیونکہ تم نے انہیں کھلایا ہے۔ کیونکہ تم نے منتوں کے بعد بیٹے پیدا کیے ہیں۔ اس چکر میں تم نے بیٹیوں کی نفسیات بدل کر میرے بیٹے کا گھر خراب کر دیا ہے۔ تم شادی سے پہلے بتا دیتی کہ اس کو ہر وہ شے پسند نہیں ہے جو تم ان کو دینا نہیں چاہتی تھی یا دے نا سکی۔ تو ہم کبھی شادی نہ کرتے۔ اب اس کو یہاں سے گھر لے جانا۔ اور اگر یہ کھانے پینے پہ آمادہ ہو تو بھیج دینا۔ ورنہ تم سمجھ دار ہو۔

تو تحریم یہ جملہ اصل میں ہماری پسند کا غماز ہو تا ہے۔ جسے نقصان صرف عورت کا ہو تا ہے۔ بس اسے زیادہ ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔

یہ یوم آ زادی ہے۔ عورت کی آزادی نہیں ملک کی آزادی جس پہ یوم آ زادی کے ساتھ خوب جذباتی کھیل کھیلا گیا۔ کسی مرد نے اف بھی نہیں کی۔ بہت سے معززین زمانہ اس میں پیش پیش تھے۔ بات فیس بک کی ہو، ٹویٹر کی یا انسٹاگرام، ٹیلی گرام یا کسی بھی وٹس ایپ گروپ کی۔

”اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں“ اس قومی ترانے کی ویڈیو شیئر کی گئی۔ جس میں ایک لڑکی پرچم اٹھائے بھاگ رہی ہے۔ اور اس کا اچھلتا زنانہ حسن ہم ایسے ڈسکس کر رہے ہیں۔ جیسے یہ دودھ کی نہریں ان کے گھروں میں نہیں بہتیں۔ اور جتنا کوئی بڈھا ہے اس کھیل میں اتنا ہی آ گے ہے۔ وہ اپنی مری ہوئی ماں کا پیا دودھ بھول جاتا ہے۔ جس کی دھاڑیں نہ بخشنے کا کہہ کر اس نے اس کمینے کی شادی اپنی بھانجی سے کروائی ہوتی ہے۔ وہ اپنی بیوی کو بھول جاتا ہے جب وہ بتیس نمبر سے اسے بیالیس کی کر دیتا ہے۔ اور ابھی تک پرائی کی چھتیس والی کو ایسے دیکھتا ہے کہ عینک کا نمبر بدل جاتا ہے۔ جیسے جوان ہو جائے گا۔

کہیں کسی ویڈیو میں گوری کے چکنے بدن پہ پرچم لپٹا ہوا ہے۔ یعنی پرچم کو بھی ڈنڈا میسر نہیں رہا۔ ملک کی دیواروں پہ لکھے اشتہار اتنے سچے ہیں؟ اور حق آزادی کے نام آج ہمیں عورت کا جسم اور اس کی مرضی بری نہیں لگ رہی۔ کوئی بولنے والا نہیں تھا۔

کہیں کوئی لڑکا لڑکی کے ہاتھوں سے جھنڈا اور دوپٹہ لے کر پھنے خانی کرتا ہے۔ اور مظلوم لڑکی کے پاس اچانک سے ایک سپر مین آ جاتا ہے۔ جس نے خود سکارف لے رکھا ہے۔ مگر ولن صاحب فرماتے ہیں جھنڈا یا دوپٹہ؟ تو سپر ہیرو جھنڈا لے کر لڑکی کے کاندھوں پہ اوڑھا دیتا ہے۔ چار حرف ایسے ہیرو پر۔ جس نے اپنا سکارف تک نہ اتارا، اور ولن کا مقابلہ نہ کیا کہ جھنڈا اور دوپٹہ دونوں اس لڑکی کے ہیں۔ مطلب اتنے نامرد ہیرو ہم قوم کو دے رہے ہیں۔ کہ کل کو کوئی ان کو کہے کہ ملک یا کچھ اور؟ تو یہ ملک پہ سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔ اور ایسی لڑکی کہ جو جھنڈے اور دوپٹے میں فرق نہیں کر سکتی۔ ظاہر ہے ہیرو اور ولن میں فرق کیا کرے گی۔ جب کہ نظریہ کے مطابق یہ دونوں ولن ہیں۔

کوئی نہیں بولا تحریم۔ سب شاباش دے کر کوئی اعلی کارنامہ سمجھتے ہوئے شیئر کیے جا رہے ہیں۔ کسی کو قومی پرچم کے پروٹوکول کا، اس کے آداب کا جیسے علم ہی نہیں۔

پاکستان بننے سے قبل بیگم زاہدہ حیات نے آل انڈیا مسلم لیک کی نمائندہ ہوتے ہوئے پہلا پاکستانی پرچم 1946 میں لاہور سیکرٹریٹ پہ، برطانیہ کا پرچم اتار کر لہرایا تھا۔ جب گورا کہتا رہا please stay back۔ مگر اس عظیم عورت کو پرچم لہرانا تھا۔ لہرا کر رہیں۔ کس قدر داد پائی تھی کہ انگریز بھی سوچنے پہ مجبور ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ لاٹھی چارج کی نوبت آ گئی تھی۔ مگر سب کی نگاہ پرچم پہ تھی۔ اس لڑکی کے جسم پہ نہیں تھی۔

مگر یہ آزادی کا کرشمہ تھا۔ یہ ان لوگوں کی بات تھی جن کی زندگی میں، ذہین میں گول ہوتے ہیں۔ ستاروں پہ کمند ڈالنے کے۔ چاند پہ گھر تلاشنے کے۔ اور جن کے ذہین میں بالز ہوتے ہیں۔ مخصوص کمینوں کی طرح، وہ ہمیشہ پھسل جاتے ہیں۔ اب آپ کے تن بدن میں آگ لگے گی کہ چند مردوں کی وجہ سے سب کو گالی کیوں دی جا رہی ہے۔

یار بات کچھ یوں ہے کہ اگر چند ہیں تو باقی کے ان کو روکتے کیوں نہیں کہ آپ غلط کر رہے ہیں۔ آپ کا عمل درست نہیں ہے۔ کوئی مرد کسی کو کیوں نہیں روکتا؟ کسی مرد کو یہ نہیں کہتا کہ ایسا مت کرو۔ کوئی بچہ یہ ویڈیو دیکھ سکتا ہے۔ وہ یہی سمجھے گا کہ یہ درست ہے۔ گویا آپ جب کسی غلط عمل کو نہیں روکتے تو آپ ذہنی طور پہ شریک جرم ہیں۔ عمل والوں کی کمینگی کا لیول بے غیرتوں والا ہے۔ آپ اس کو ذہنی و دلی سپورٹ دے رہے ہیں۔ جیسے یہ آپ کے دل کی آ واز بھی ہے۔ یہ سپورٹ بالکل ویسے ہی ہے جیسے نور، ظاہر کیس میں ظاہر کے گھر کے ملازم اسے سپورٹ کر رہے تھے۔

تحریم دو بار ہم نے جان بوجھ کر تجربہ کیا۔ کہ جب برہنہ مرد کی ویڈیو وائرل ہوتی ہے اسے کیسے صفحہ گوگل سے ہٹوایا جاتا ہے۔ لاہور کے کسی علاقے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ جس میں مرد کو برہنہ کر کے مارا جا رہا تھا۔ تشدد کی بات تھی۔ برہنگی کی نہیں۔ جس نے ویڈیو شیئر کی میں نے اس کی پوسٹ شیئر کر دی۔ ایک اعلی سرکاری افسر کا فوری میسج آ گیا۔ رابعہ کیا ہوا ہے کہاں ہوا ہے؟ میں نے بتا دیا سر مجھے علم نہیں۔ اسی لئے شیئر کی ہے کہ یہاں بہت سے صحافی ہیں۔ شاید کہیں سے مدد آ جائے۔

انہوں نے فون کیا۔ بہت تہذیب سے بات کی۔ عزت دی۔ مگر وہ سب ڈرامہ معلومات لینے کا تھا۔ اور جناب جس کرسی پہ تھے وہ اتوار والے دن وہ حرکت میں آ گئی۔ جس لڑکے نے ویڈیو شیئر کی اس کو ایک گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا گیا۔ اور فیس بک، گوگل ہر جگہ سے وہ ویڈیو دو گھنٹے کے اندر غائب تھی۔ اس لڑکے کا آئی ڈی تک بند کروا دیا گیا۔

یہی دو ہفتے قبل ہوا۔ جب مزدور کو برہنہ کر کے چارپائیوں کے ساتھ باندھ کر مارا گیا۔ سب مرد وہاں حاضری لگا رہے تھے۔ کسی خاتون نے بات نہیں کی، میں نے جان بوجھ کر کچھ لوگوں کو مینشن کیا، ساتھ لکھا کہ اف کس بری طرح باندھا ہوا ہے۔ گویا جیسے لطف لینے والے اس غریب کی برہنگی کا بھی لطف لے رہے تھے۔ اس کے عین ایک گھنٹے کے اندر ویڈیو غائب تھی۔

بتانے کا مقصد فقط یہ کہ مرد ننگا دکھائی دے رہا ہو تو ہر مرد کو اپنا آپ ننگا لگتا ہے۔ اور فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ بلکہ شیئر کرنے والے مرد کو کہا جا رہا ہوتا ہے حیا کر یار۔ عورت کو برہنہ کرنا مذاق اور حسن ہے۔ تب حیا کر یار کوئی نہیں کہتا۔ آ خر کیوں؟

قصہ مختصر یہ کہ حیا کر یار والے مرد، عورت مارچ پہ چیخنے والے مرد، یوم آ زادی پہ عورت کے زیر جامہ فروخت کرتے اذہان کے ساتھ دکھائی دیے۔ افسوس کہ جہاں ان کا دل کرتا ہے عورت کارڈ استعمال کرتے۔ جہاں نہیں کرتا، وہاں ان کو پسند نہیں کی نفسیات سے کھیلا جاتا ہے۔

صاحب

بس یہی بتانا مقصود ہے شاید۔ اگر آپ کا جسم بد صورت ہے تو بنانے والے نے بنایا ہے۔ ورنہ ہم بھی اس خاکی پہ اسی طرح دل و جان سے عاشق ہوتے۔ اور آپ کو بھرے زمانے میں ننگا کر کے اپنا چورن بیچتے۔ اب حسد کی آگ میں اتنا مت جلیں کہ ملک و قوم کی عزت کو داؤ پہ لگا دیں۔ اس کا تعلق عورت کے پتلے موٹے جسم اور گول مٹول ٹانگوں، اور حسین سینے سے نہیں ہے۔ اس آزادی کو بھی آپ کی مخلوق نے اس جسم سے گزر کر ہی حاصل کیا ہے۔ ورنہ وہاں رہ جانے والے بعض بدقسمت مسلمانوں کی طرح آپ کو بھی گاؤ ماتا کا پیشاب زبردستی پلایا جا رہا ہوتا۔ ایسے اذہان والوں کو اب بھی کھلی دعوت ہے کہ یہ مشروب ایک بار پی کر آ زادی کو محسوس کریں۔

ورنہ آپ کو آ زادی کی قیمت سمجھ نہیں آئے گی۔

اس سیریز کے دیگر حصےگولڈن گرلز: انہیں پسند نہیں ہےگولڈن گرلز: اوئے، ننگی کر دی اوئے…
Comments - User is solely responsible for his/her words