افغان باقی کہرام باقی!


ایک ہفتے میں جس طرح افغان حکومت پر طالبان نے قبضہ کیا ہے اس پر کافی مبصرین اب اپنی آراء رقم کریں گے۔ ”اب کیا ہوگا“ کی بجائے میں افغانستان کا نوحہ اس کی تاریخ کے کچھ ادوار کا حوالہ دے کر لکھنا چاہتا ہوں کیونکہ آج کو سمجھنے کے لئے گزرے کل کی سمجھ مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بندہ پشتون گھرانے سے ہو اور طالبعلمی میں مارکسیت سے بھی متاثر رہ چکا ہو وہ بھلا افغانستان سے کیسے لا تعلق رہ سکتا ہے۔ میں افغان تاریخ کو تاہم قوم پرستانہ اور خود پسندانہ نقطۂ نظر سے دیکھنے کی بجائے ریشنل ازم کے غیر جذباتی فریم ورک کی مدد سے دیکھتا ہوں۔

افغانستان کی تاریخ کا ذکر کر کے قوم پرست اکثر یہ دعوی کرتے ہیں کہ تمام بیرونی حملہ آوروں کو افغان عوام نے شکست دی۔ اس دعوے میں اس حد تک تو صداقت ضرور موجود ہے کہ کسی بیرونی طاقت کو افغانستان میں جم کر حکومت کرنے کا موقع نہیں ملا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بیرونی حکمرانوں کو جس لا متناہی مسئلے نے شکست دی وہی اندرونی حکومت سازوں کی شکست و ریخت کا بھی باعث بنا تھا۔ اور وہ مسئلہ تھا اندرونی خلفشار یا کبھی ختم نہ ہونے والا کہرام۔

اگر افغان تاریخ کا نچوڑ نکال کر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ افغان معاشرے میں جدید ریاستی اداروں کا فقدان رہا ہے۔ تاہم حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو برطانیہ اور کچھ یورپی معاشروں کو چھوڑ کر باقی سبھی معاشروں میں بھی یہ جدید ادارے ناپید تھے۔ مشہور کتاب ”سیپئینز“ کے مصنف یوول ہراری کہتا ہے کہ سامراج کا اچھا پہلو یہ ہے کہ یہ مفتوحہ اقوام پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ مثلاً ہندوستانی عوام نے شدید جنگ آزادی لڑی لیکن برطانوی اداروں یعنی سیاسی جماعتیں، الیکشن، اور دیگر جمہوری اقدار کو مستقل اپنا بھی لیا۔ جن مفتوحہ علاقوں میں مستقل شورش رہی وہاں ان جدید اداروں کو جڑیں پکڑنے میں بھی ناکامی ہوئی اور اب تک ان معاشروں میں انتشار کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔

سوشل میڈیا میں کبھی کبھار قوم پرستانہ جذبات سے معمور یہ مباحثہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ احمد شاہ ابدالی زیادہ عظیم تھا یا رنجیت سنگھ۔ پچھلے وقتوں کے بادشاہوں اور سلطنت سازوں کو موجودہ دور کے اقدار کی مدد سے جانچنا ایک غیر منطقی رویہ ہے۔ دونوں فرماں روا پرلے درجے کے ظالم اور طاقت کے رسیا تھے لیکن مختلف گروپوں کو اکٹھا کر کے سلطنت کھڑی کرنا غیر معمولی قائدانہ اور منتظمانہ صلاحیتوں کے بغیر ممکن نہیں ہوا کرتی۔

میرے نزدیک اگر کسی قائد کی عظمت پرکھنی ہو تو سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس نے کوئی ایسا ریاستی ادارہ بنایا جو اس کی موت کے بعد بھی قومی تسلسل کا باعث بنا۔ احمد شاہ ابدالی ایک عالیشان جنگجو اور فاتح تھا لیکن افغان قوم کو ایسا کیا ادارہ دیا جو آج تک قائم ہو۔ جواب صفر ملتا ہے۔ رنجیت سنگھ اس لحاظ سے بہتر منتظم ثابت ہوا کہ اس نے ایک اہم ادارہ بنایا۔ خالصہ فوج۔ یہ ادارہ نہ صرف اس کی زندگی میں اس کی طاقت کا باعث بنا بلکہ سلطنت ختم ہونے کے بعد بھی اس ادارے کو انگریز حکمرانوں نے قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اپنا لیا اور جو آج بھی بھارتی دفاع کا اہم ستون ہے۔

افغان فوج کے بطور ادارہ ریت کی دیوار بننے کا پہلا واقعہ انیسویں صدی کے اوائل میں پیش آیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہندوستانی حکومت کی افغانستان میں دلچسپی انیسویں صدی کے اوائل میں شروع ہوئی جب کچھ جاسوسوں نے خبر پہنچائی کہ نپولین ایران اور روس کے ساتھ ساز باز کر کے انڈیا پر حملہ آور ہونے کا پلان بنا رہا ہے۔ یہ وہ دور تھا کہ نہ برقی آلات تھے نہ کوئی نقشے۔ کچھ انگریز و مقامی سیاحوں کو ان نامعلوم علاقوں کو بہتر جاننے کے لیے افغانستان اور وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں کی طرف بھیجا گیا جنھوں نے انتہائی جانبازی سے کام لیتے ہوئے مفصل سفرنامے لکھے اور نقشہ سازی کر کے برطانوی حکومت اور عام قارئین کے لیے ان گمنام علاقوں کی گمنامی کم کرنے میں مدد دی۔

نپولین کی شکست کے بعد یہ خطرات ٹل گئے لیکن کچھ انگریز مصنفین نے روسی عزائم پر ایسی کتابیں لکھیں کہ برطانوی حکومت میں کھلبلی مچ گئی۔ نتیجتاً پچھلے سیاحتی دوروں کے ہیرو الگزینڈر برنز کو کابل میں فرمانروا دوست محمد خان کے پاس بھیجا گیا۔ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی افغانستان کہرام کی حالت میں تھا۔ خود دوست محمد ایک بغاوت کے نتیجے میں تخت کابل پر قابض تھا جبکہ احمد شاہ ابدالی کے خاندان کا سپوت شاہ شجاع کوہ نور ہیرے سمیت جان بچاتا رنجیت سنگھ کے رحم و کرم پہ آ گیا تھا جس نے کم مائیگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معزول شاہ سے زبردستی کوہ نور چھین لیا۔

افغانستان اس وقت بھی تین ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ قندھار اور ہرات میں مختلف حکمران تھے۔ پشاور تب کابل حکومت کا حصہ تھا لیکن جب شاہ شجاع اور دوست محمد کے لشکر آپس میں بدست و گریباں تھے رنجیت نے اسے بآسانی حاصل کر لیا۔ دوست محمد نے روس کے مقابلے میں کمپنی کی حکومت سے تعاون کی شرط یہ رکھی کہ وہ رنجیت سے پشاور واپس دلا کر دے۔ کمپنی کی حکومت رنجیت سے اچھے تعلقات کی خواہاں تھی اس لیے معذوری ظاہر کی۔ اس دوران جب روسی سفیر سے شاہ کابل کے معاہدے کی خبر ہندوستان پہنچی تو کمپنی نے اپنی فوج کے ساتھ شاہ شجاع کو واپس بھیج کر کابل کے تخت پر بٹھا دیا۔

جیسے طالبان کو حالیہ دنوں میں بغیر مزاحمت کے کابل تک رسائی ملی بالکل اسی طرح ہر شہر سے افغان فوج غائب ہوتی گئی۔ شاہ شجاع کی حکومت بنوا کر حالات اتنے پر سکون دکھنے لگے کہ اکثریتی انگریز فوج کو واپس بھیج دیا گیا اور چند ہزار کابل میں رہ گئے۔ اس کے بعد کی کہانی دلچسپ ہے لیکن طوالت کے خطرے کے پیش نظر صرف یہ کہنا کافی ہے کہ ایک دن اچانک کابل میں شورش شروع ہوئی اور انگریز فوجی اپنے خدمتگاروں سمیت قلعے میں محصور ہو گئے اور خورد و نوش کی قلت کے باعث دوست محمد کے صاحبزادے سے معاہدے کے تحت واپس کوچ کرنے لگ گئے۔

معاہدے کے بر عکس ان کو سفر کے دوران ایک ایک کر کے مارا گیا۔ کمپنی کی حکومت نے مواخذے کی فوج بھیج کر دوبارہ کابل پر قبضہ کر کے کابل بازار کو بطور سزا جلا ڈالا۔ دوسری طرف ادارہ سازی اور تبدیلیاں لانے کی کوششوں کو ترک کر کے واپس دوست محمد کو گدی پہ بٹھا دیا اور اس نے بھی کچھ امداد کے عوض انگریز حکومت کا وفا دار رہنے کی حامی بھر لی۔

یہ افغان معاشرے کو بدلنے کی پہلی کوشش تھی جو ناکام ثابت ہوئی۔ تقریباً اسی طرح کی دوسری کوشش 1878 میں دوبارہ کی گئی اور پہلے کی طرح، سوائے میوند کے محاذ کے، افغان فوج ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ اور ایک دفعہ پھر ظاہری امن کے بطن سے اچانک شورش نے جنم لیا اور برطانوی حکومتی نمائندے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ برطانوی حکومت نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ بجائے اس کے کہ کابل میں بیٹھ کے نگرانی کی جائے بہتر ہے کہ کچھ مالی امداد کے عوض کابل حکومت کی خارجہ پالیسی پر گرفت رکھی جائے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغان اور پشتون قبائلی علاقہ جات میں مذہبی شخصیات ہمیشہ سے کلیدی کردار کی حامل رہی ہیں۔ خود افغان حکمرانوں نے امیر لقب اختیار کر کے جہادی جذبات پر انحصار کی کوشش کی۔ جب انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستانی حکومت ملا نجم الدین اور ملا سید اللہ کے لشکروں سے بر سر پیکار تھی۔ افغانستان میں اس وقت کا آہنی امیر عبدالرحمن بھی اپنے علاقوں سے ملا نجم الدین کے پیری مریدی نیٹ ورک کے اثر کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔

انگریز حکومت کے پاس منظم فوج تھی اس لیے ان وقتی شورشوں کو دبانے میں کامیاب رہی۔ افغانستان میں چار اطراف میں قبائلی معاشرہ ہونے کے باعث مذہبی لیڈران کی گرفت کبھی کمزور نہ ہو سکی۔ افغان امیر امان اللہ نے اپنے ملک کو جدید انداز میں استوار کرنے کی سنجیدہ کوشش کی تو اچانک پھر سے مذہبی نعروں کا کہرام سر اٹھا لیتا ہے۔ اور نہ صرف بادشاہ کو ملک سے بھاگنا پڑ جاتا ہے بلکہ ایک رہزنوں کے گروہ کا سردار بچہ سقہ افراتفری سے فائدہ اٹھا کر تخت کابل پر براجمان ہو جاتا ہے۔

افغان معاشرے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی سب سے زیادہ اہم اور بھر پور کوشش ثور انقلاب کے بعد انقلابی حکومت کی طرف سے دیکھنے کو ملی۔ مارکسی تحریک عموماً گروپ بندیوں کا شکار رہتی ہے اور یہ تو افغان معاشرہ تھا۔ پہلے دن سے پرچمیوں اور خلقیوں کی چپقلش جاری رہی۔ ماسکو کی طرف سے دہائیاں آتی رہیں کہ شخصی اختلافات چھوڑ کر مل جل کر کام کیا جائے لیکن اندرونی سازشیں چلتی رہیں۔ جب تمام ہدایات کے باوجود انقلاب کے راہنما کو نائب راہنما نے قتل کر دیا تو سوویت افواج کو نہ چاہتے ہوئے بھی کابل آنا پڑا۔

کابل میں برطانوی سفیر سر راڈرک ان واقعات کی تفصیل اپنی کتاب ”افغانٹسی“ میں بیان کرتے ہوئے اس وقت افغان معاشرے کی عکاسی کے لئے کہتا ہے کہ معاشرہ میں ایک طرف کچھ خواتین ائر فورس میں پیراشوٹنگ کی ٹریننگ کر رہی تھیں اور دوسری طرف شٹل کاک برقعوں میں محبوس تھیں۔ پھر وہ وسطی ایشیا کی مسلمان ریاستوں کا حوالہ دے کر کہتا ہے کہ روس نے زبردستی ان انتہائی پسماندہ معاشروں کو جدیدیت کی راہ پر ڈال دیا تھا اور اگر افغانستان میں بھی اسے کھلا ہاتھ دیا جاتا تو شاید وہ اسے بھی زبردستی جدت کے راستے پر لے آتا۔ یہ مصیبت زدہ معاشرے کی بد قسمتی ہے کہ اسے پڑوسی بھی ہم سا ملا جس نے امریکہ کے ساتھ مل کر اس کوشش پر پانی پھیر دیا۔ اور افغان معاشرہ ایک دفعہ پھر کہرام کا شکار ہو گیا۔

طالبان پر جب امریکی بمبار طیاروں نے ناردرن الائنس کی معاونت کے ساتھ حملہ کیا تو وہ حکومت اسی طرح پگھل گئی جیسے پچھلی حکومتیں غائب ہوئی تھیں۔ اس دفعہ مغربی اقوام اور عالمی اداروں نے دفاعی، معاشی اور ثقافتی اداروں کے قیام میں خوب دلجمعی سے حصہ لیا لیکن ماضی سے پیوستہ عوامل یعنی مذہبی شدت پسندی، گروہ بندیاں، اقربا پروری اور مالی بدعنوانیاں ان کوششوں میں رخنہ ڈالتی رہیں۔ ڈاکٹر نجیب کی صاحبزادی نے ”افغانستان کے زخم خوردہ بدن پر مرہم“ عنوان سے ایک اچھی کتاب لکھی ہے جبکہ معزول صدر اشرف غنی ”ناکام ریاستوں کی بحالی“ کتاب کے مصنف ہیں۔

یہ نیا اٹھنے والا کہرام اس بات کی نشاندہی ہے کہ افغان معاشرے کے زخم ابھی مندمل نہیں ہونے والے اور نہ ناکام ریاست کی بحالی کی کوششیں بار آور ثابت ہو سکی ہیں بلکہ ایک نئے تکلیف دہ اور پر خطر دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ جدید جمہوری معاشرے اور قدامت پسند مذہبی جنونیت کے درمیان معلق افغانستان ایک دفعہ پھر نئے کہرام کا شکار ہو گیا ہے۔ دیکھیں یہ پر آشوب دور کب تک جاری رہتا ہے۔ لگتا ہے جب تک کہسار باقی ہیں تب تک ”افغان باقی، کہرام باقی“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words