چلو چلو کابل چلو

لبرلوں کو امریکہ یورپ بہت پسند ہے۔ ویزا نہیں ملتا ورنہ ان میں سے بہت سے وہاں چلے جائیں۔ جنہیں ملتا ہے وہ سال میں دو چار ماہ ادھر رہ آتے ہیں تاکہ اپنے پسندیدہ لبرل نظام کے تحت زندگی کا کچھ وقت گزار لیں۔

امید ہے کہ رجعت پسند بھی اسی طرح کریں گے۔ اب افغانستان میں تو ویزے کا بھی مسئلہ نہیں ہو گا۔ وہاں تو ویزے کے بغیر ہی بے شمار پاکستانی موجود ہیں۔ بلکہ جب امریکہ نے حملہ کیا تھا تو دس ہزار کے قریب لڑکے لے کر اکیلے مولانا صوفی محمد ہی بارڈر پار کر گئے تھے۔ ویزے یا پاسپورٹ کا کیا سوال ان میں سے بہت سے بچوں کے پاس تو شناختی کارڈ تک نہیں تھا۔

یا بس زبانی کلامی حمایت ہی ہے؟ ہمارے رجعت پسند اور طالبان کے حامی خود اس نظام کے تحت کچھ مدت کے لیے بھی زندگی گزارنا پسند نہیں کرتے جو انہیں افغانوں کے لیے چاہیے؟

انہیں پاکستان کا نظام اور دستور تو برا لگتا ہی ہے۔ وہ جن القاب سے پاکستانی فوج اور حکومت کو پکارتے ہیں، پی ٹی ایم کے نعرے تو ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ سیدھا سیدھا اسلام کے دائرے سے خارج ہی کر ڈالتے ہیں اور مرتدین کا حکم لگا کر ان کے سروں سے فٹ بال کھیلنے کو کھلے یا پوشیدہ الفاظ میں جائز بتاتے ہیں۔ ایسا ہی برا ہے پاکستان تو اپنے پیارے افغانستان کا رخ کریں جہاں اب طالبان ان کا پسندیدہ نظام رائج کر چکے ہیں۔

ویسے بھی ایک عالمی امت کا پرچار کرنے والوں کے لیے ریاستی سرحدوں کی اہمیت نہیں ہوتی۔ ساری دنیا کو اپنا گھر سمجھنے اور وہاں اپنی پسند کا نظام نافذ کرنے کے شوقینوں کے لیے کیا اسلام آباد، کیا کابل اور کیا دمشق۔ ایک ہی بات ہے۔ دولت اسلامیہ والے بھی تو پاکستان کو اپنا ایک صوبہ قرار دیتے ہیں۔ ایک ہی عالمی مسلم خلافت کے دیگر حامیوں کا بھی یہی نظریہ ہے۔ تو پھر یہ تو بس ایک ہی ریاست کے ایک شہر سے دوسرے جانے کی بات ہوئی، بسم اللہ کریں اور چلو چلو کابل چلو کا نعرۂ مستانہ بلند کرتے ہوئے کابل کا رخ کریں۔

اب وہاں امان اللہ خان جیسے کوئی پرانے بادشاہ تو ہیں نہیں جنہوں نے پچھلی مرتبہ خلافت کے شوقینوں یعنی تحریک ترک موالات کے تحت دار الحرب والے ہندوستان سے دار الاسلام والے افغانستان جانے کے شوقینوں کو اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیا تھا، اور بے شمار دیسی جان و مال کا نقصان اٹھانے پر مجبور ہوئے تھے۔ اب تو ان کے پسندیدہ طالبان کی حکومت ہے جو اپنے حامیوں کو کھلی بانہوں سے قبول کرتی ہے۔ مرد وہاں اسلحے سے جہاد کر سکتے ہیں تو جہاد بالنکاح والی آفر خواتین کے لیے امارت اسلامیہ افغانستان میں بھی موجود ہے۔

دوسری طرف خبروں کے مطابق تاجک رہنما صلاح الدین ربانی، یونس قانونی، احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ضیا مسعود، احمد ولی مسعود، ہزارہ رہنما استاد محقق، کریم خلیلی، استاد عطا نور کے بیٹے خالد نور اور افغان قومی اسمبلی کے سپیکر رحمانی پی آئی اے کی خصوصی پرواز سے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ نوٹ کریں کہ شمالی اتحاد والوں کی یہ خصوصی پرواز پی آئی اے کی ہے، ائر انڈیا کی نہیں۔ اور یہ سب اسلام آباد پہنچے ہیں، نئی دہلی نہیں۔

یہ شمالی اتحاد والے تو پاکستان کے دشمن نہیں ہوا کرتے تھے؟ ہمیں یہ بات سمجھنے میں مشکل کیوں پیش آتی ہے کہ ریاستوں کے مفادات ہوتے ہیں، دوستیاں دشمنیاں، محبتیں یاریاں نہیں۔ اب پاکستان نے وہاں کی طالبانی حکومت سے بھی تعلقات بنا لیے ہیں اور اس کے مخالفین سے بھی، جنہیں ظاہر ہے کہ وہ اس حکومت کو پریشر میں رکھنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔

لیکن ادھر کی طالبانی حکومت بھی یہی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے سینکڑوں قیدیوں، بشمول بدنام لیڈروں کی افغان جیلوں سے رہائی کی خبر آپ پڑھ چکے ہوں گے۔ اور پاک افغان سرحد پر ان کے نعروں کی ویڈیو بھی آپ دیکھ چکے ہوں گے جو وہ پاکستانی سرحدی محافظوں کو سنا رہے تھے۔ یعنی دونوں ریاستیں ایک دوسرے کے دشمنوں کی دوست ہیں جبکہ دونوں حکومتیں کہتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی دوست ہیں۔

کہنے کو تو طالبان حکومت کہتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ دوحہ میں انہوں نے امریکہ کو یہی یقین دلایا تھا اور پاکستان کو بھی یہی کہتے ہیں۔ لیکن ایک معمولی سا تکنیکی نکتہ ہے۔ افغان بادشاہوں، کمیونسٹ اور جمہوری لیڈروں کی طرح طالبان بھی ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے۔ ان کی رائے میں بھی افغانستان کی سرحد اٹک تک ہے اور دوسری طرف پشین اور کوئٹہ سے آگے تک۔ یعنی اس علاقے کو وہ پاکستانی نہیں افغانستان قرار دیتے ہیں۔ تو پھر ٹی ٹی پی والے جب اس علاقے میں دوبارہ دہشت گردی کریں گے تو افغانستان کے طالبان کے مطابق ان کی سرزمین پاکستان خلاف استعمال نہیں ہو رہی ہو گی۔

پھر اب طالبان کی حمایت میں دفتروں کے دفتر سیاہ کرنے والے ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ ”دراصل افغان طالبان اور ہیں اور ٹی ٹی پی والے اور، دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، بلکہ آرمی پبلک سکول جیسی کوئی دہشت گردی ہو تو افغان طالبان اس پر افسوس کا اظہار بھی کیا کرتے ہیں“ ۔ یہ اور بات ہے کہ وہ افسوس تو کر لیتے ہیں، لیکن ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔ پاکستان کے لیے طالبان سے بہتر تو اشرف غنی کی حکومت تھی جس نے چاہے امریکی دباؤ پر ہی سہی، لیکن انہیں جیل میں تو ڈال رکھا تھا۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words