امریکا ریت کی دیوار ثابت ہوا

افغان طالبان کابل کے صدارتی محل میں داخل ہو چکے ہیں۔ دوحہ معاہدے کے بعد امریکہ اور دیگر نیٹو فورسز نے 11 ستمبر تک انخلا کا مرحلہ طے کرنا تھا۔ لیکن امریکا سمیت تمام نیٹو فورسز بہت جلدی اور عجلت میں افغانستان چھوڑ دیا۔ ان کے جانے کے بعد افغان فورسز طالبان کے سامنے بے بس دکھائی دیے اور یوں وہ چند دنوں میں افغانستان کے 34 صوبوں میں سے اکثریت افغان طالبان کے زیر کنٹرول آ گئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے امریکہ نے یہ فیصلہ کر لیا گزشتہ بیس سالوں کے دوران 2 ٹریلین ڈالر اور ڈھائی ہزار فوجیوں کی قربانی دینے کے باوجود وہ نتائج حاصل نہیں ہوئے جو وہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔

بیس سال قبل جب نائن الیون کا واقعہ ہوا اس کے بعد چھوٹے بش نے یہ کہہ کر افغانستان پر یلغار کی کہ اب ہم افغانستان کو دہشت گردوں سے پاک کر کے خوشحالی جمہوریت اور آزادی کا روشن مینار بنائیں گے۔ لیکن بیس سال کے بعد جس ناکامی اور ندامت کا امریکہ کو سامنا کرنا پڑا اس کا کبھی اس نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ نائن الیون کے واقعے کے بعد مسلمانوں کو بہت ٹارگٹ کیا گیا۔ یہاں تک کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے جب امریکہ نے حملہ کیا تو اس سے پہلے پاکستان کے جنرل مشرف سے بڑی سخت گفتگو ہوئی۔ یعنی اگر پاکستان نے امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو ہم پاکستان کو پتھر کے دور میں پہنچا دیں گے۔

اور پاکستان نے ان کی شرائط سے بڑھ کر ان کا ساتھ دیا اور خوب ڈالر حاصل کیے۔ یہاں تک کہ سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر بھی نہ رکھا اور طالبان سفیر کو امریکہ کے حوالے کر دیا۔ لیکن حق اور سچ کو آنچ نہیں ہوتی۔ امریکہ، نیٹو فورسز اور بھارت مل کر بھی طالبان کو شکست نہ دے سکے۔ طالبان اپنے پہلے دور میں مزار شریف پر قابض نہیں ہو سکے تھے۔

لیکن اس مرتبہ فیلڈ مارشل اور وار لارڈ عبدالرشید دوستم اور ملیشیا لیڈر عطا محمد نور بھی ان کا راستہ نہ روک سکے۔ یہ دونوں لیڈر اپنا محل نما گھر چھوڑ کر ازبکستان فرار ہو گئے۔ جب عبدالرشید دوستم کے محل نما گھر کی ویڈیو دیکھی جس میں افغان طالبان بڑے مزے سے خشک میوہ جات کھا رہے تھے تو دل میں خیال آیا اس محل نما گھر میں رہنے والے عبدالرشید دوستم کس طرح ان افغان مجاہدین کا سامنا کر سکتا ہے۔ جن کے پاؤں میں جوتے تک نہیں ہیں۔

آخری اطلاعات آنے تک افغانستان کے صدر اشرف غنی اور نائب صدر بھی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ اگرچہ اشرف غنی نے چند دن قبل امریکا کا دورہ بھی کیا اور امریکی صدر جو بائیڈن سے بڑی درخواست بھی کی۔ امریکی افواج کو افغانستان سے مت نکالیں۔ کیونکہ اشرف غنی کو اپنی تقریباً چار لاکھ فوج کا بخوبی علم تھا اس لیے وہ منت خوشامد کر رہے تھے۔ لیکن امریکی صدر کو بخوبی اندازہ ہو چکا ہے۔ اگر بیس سال اور بھی گزار دیے جائیں تو پھر بھی ان کے حق میں نتیجہ نہیں نکلنے والا۔

امریکی صدر نے اپنی قوم کو اعتماد میں لیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے۔ افغان فوج کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنی ہوگی ہمارا کام افغان فوج کو تنخواہ دینا جدید اسلحہ فراہم کرنا ہے۔ لیکن ان کی جگہ ہم طالبان سے لڑ نہیں سکتے۔ لیکن افغان چار لاکھ فوجی 75 ہزار طالبان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ کابل پر قبضہ کرتے ہوئے ان کو ایک گولی بھی نہیں چلانی پڑی اور قبضہ ہو گیا۔ سمجھ سے بالاتر ہے گزشتہ بیس سالوں میں کیا ان افغان فوجیوں کی ایسی تربیت ہوئی ہے۔

ٹی وی پر ایسے ناقابل یقین مناظر دیکھنے کو ملے۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے امریکی سفارتی عملے کو نکالا جا رہا تھا۔ بیس سال قبل جس طرح سفارتی آداب کے منافی طالبان کے ساتھ سلوک کیا گیا اگر آج وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ سلوک کرتے تو حساب برابر ہو جاتا۔ لیکن انہوں نے ایسا کوئی رویہ اختیار نہیں کیا۔ جس کو غیر ذمہ دارانہ رویہ کہاں جائے۔ انہوں نے اعلان کیا جس نے اپنی مرضی سے ملک چھوڑنا ہے تو چھوڑ دے۔

افغان طالبان کے ترجمان محمد سہیل شاہین کے مطابق افغان طالبان لڑکیوں سے زبردستی شادی کرنے کے حوالے سے منفی خبریں پھیلائی جا رہی ہے ہیں، ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

اب امکان یہی ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت بنے گی۔ انیس سو چھیانوے کے طالبان اور 2021 کے طالبان میں کافی فرق دیکھنے کو ملا ہے۔ اس مرتبہ پاکستان کے علاوہ بہت سارے ممالک افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم بھی کریں گے اور ساتھ مل کر چلیں گے۔ گزشتہ دورحکومت کی طرح اس مرتبہ سخت گیر رویہ نہیں اپنایا جائے گا۔ اس مرتبہ افغان طالبان کو بہتر افغانستان ملا ہے۔ کیونکہ گزشتہ بیس سالوں کے دوران امریکا نے نیٹو فورسز اور بھارت نے یہاں کافی سرمایہ کاری کی ہے۔

ایک سوچ یہ بھی ہے۔ جس طرح جلدی میں امریکا اور نیٹو فورسز اور بھارت یہاں سے بوریا بستر سمیٹ کر بھاگ نکلے ہیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ بھی ان کی مستقبل کی حکمت عملی کا حصہ ہو کیونکہ اس خطے میں چین سی پیک کے ذریعے بہت بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اور اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے۔ یہ بات یقیناً امریکہ اور بھارت کو پسند نہیں۔ کیونکہ یہ دونوں ممالک اب نیو اسٹریٹجک پارٹنر ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اس اس خطے کو عدم استحکام دینے کے لئے بھارت اور چین کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی نیا گیم پلان بنایا ہو لیکن جس طرح چند ہفتے قبل طالبان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد بیجنگ کا دورہ کیا ہے اور وہاں کی حکومت نے جس طرح ان کو پذیرائی کی ہے، ایسا لگتا ہے طالبان کی حکومت کو چین بخوشی تسلیم کرے گا۔ اور یقیناً چین کو بھی بخوبی اندازہ ہے۔ اگر خطے میں مضبوط قدم جمانے ہیں تو پھر طالبان کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ ایسے محسوس ہوتا ہے۔ امریکہ اور بھارت کا یہ منصوبہ بھی ناکام ہو جائے گا۔

آنے والے چند دن اس خطے کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہوں گے ۔ لمحہ فکریہ ہے جس تیزی سے افغان طالبان نے پورے افغانستان پر قبضہ کیا ہے۔ یہ اپنی مثال آپ ہے۔ یعنی اس سے یہ اندازہ ہوا گزشتہ بیس سال کے دوران امریکہ نیٹو فورسز اور بھارت نے مصنوعی طریقے سے افغانستان پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ مصنوعی قبضے برقرار نہیں رہتے۔ اس سے پاکستان کے فیصلہ سازوں کو بھی سبق سیکھنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words