افغانستان پر طالبان کا قبضہ: ’پاکستان کا ردِعمل دہشت گردی کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیوں کے ثمرات ضائع کرنے والی بات ہے‘

منزہ انوار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

کابل
Getty Images
افغان طالبان نے 21 جولائی سے 15 اگست کے درمیان جس برق رفتاری سے تقریباً پورے افغانستان پر قبضہ کیا ہے اس نے پوری دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ جہاں بیشتر ممالک کے لوگ افغانستان میں تبدیل ہوتی صورتحال کے تناظر میں وہاں کے شہریوں کی سلامتی اور حقوق کے لیے پریشان ہیں وہیں کئی اسلامی ممالک کے عوام بشمول پاکستانیوں کے لیے کابل پر طالبان کے قبضے نے فتحِ مکہ کی یادیں تازہ کر دی ہیں اور وہ افغانستان میں اسلامی حکومت کے خواب دیکھنے لگے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کابل پر طالبان کے قبضے پر اپنا پہلا ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’افغانستان میں انھوں نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔‘

پیر کو اسلام آباد میں یکساں نصابِ تعلیم کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’اصلی غلامی سے زیادہ بری ذہنی غلامی ہے اور اس کی زنجیریں توڑنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’افغانستان میں (لوگوں) نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں’ اور زور دیا کہ ‘غلام ذہن کبھی بھی بڑے کام نہیں کر سکتا۔‘

سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو پاکستان کے بیشتر حلقوں میں کابل پر طالبان کے قبضے پر جشن کا سماں ہے جس میں کئی حکومتی عہدیداروں سے لے کر مذہبی شخصیات اور دفاعی تجزیہ کار پیش پیش ہیں اور کئی افراد تو اشرف غنی حکومت کے خاتمے کو انڈیا کی شکست سے بھی تعبیر کر رہے ہیں۔

پاکستان کی بڑی مذہبی شخصیات، مولانا تقی عثمانی سے لے کر سراج الحق تک تقریباً سبھی کی جانب سے طالبان کو ’سپرپاور کے خلاف تاریخی فتح‘ پر مبارکبادوں کا سلسلہ کل سے جاری ہے۔

جمعیت علمائے کے صدر مولانا فضل الرحمن نے طالبان کو تہنیتی پیغام بھیجا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’جمعیت نے روز اول سے امریکہ اور نیٹو افواج کے افغانستان پر حملے کو جارحیت اور تجاوز قرار دیا تھا اور طالبان کی طرف سے مزاحمت کو جائز دفاع قرار دیا تھا۔ الحمد للہ بیش بہا مخلصانہ قربانیوں کے بعداللہ تعالی کی مدد اور تائید سے طالبان مجاہدین نے اپنے وطن افغانستان کو عالمی قوتوں اور ان کے گماشتوں سے آزاد کر دیا ہے۔‘

امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق نے بھی طالبان کو سپرپاور کے خلاف تاریخی فتح پر 22 کروڑ پاکستانیوں کی طرف سے مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ’افغانستان میں ایک مثالی اسلامی حکومت قائم ہو گئی تو اس کے اثرات، خوشبو اور کرنیں ہر طرف پھیل جائیں گی۔‘

دوسری جانب پاکستان کے کئی حکومتی عہدیدار، صحافی اور دفاعی تجزیہ کار کابل پر قبضے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے انڈیا کی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر ماحولیات اور پاکستان تحریکِ انصاف سے منسلک زرتاج گل وزیر نے ٹویٹ کیا کہ انڈیا کو ان کے یومِ آزادی پر صحیح تحفہ مل گیا۔۔۔ آج انڈیا کی دہشت گردی کی حمایتی حکومت کو آنسو بہاتے اور دکھ سے دن منانا چاہیے کیونکہ جس کابل حکومت کو استعمال کرتے ہوئے وہ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرتا تھا، آج اس کا خاتمہ ہو گیا۔

بعد میں سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کے بعد انھیں یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی۔

صحافی کامران خان نے لکھا ’عالمی تاریخ کا ناقابل فراموش باب 20 سال پہلے امریکی و نیٹو افواج نے طالبان سے افغانستان چھینا تھا آج وہی مغربی فوجیں انھی طالبان کو افغانستان لوٹا رہی ہیں اربوں ڈالر سے تعمیر انفراسٹحکچر، اربوں ڈالر کا امریکی اسلحہ گولہ بارود بھی طالبان کے ہاتھ آیا، انڈیا بھی اربوں ڈالر ڈوبا بیٹھا۔‘

دوسری جانب کئی افراد کابل پر طالبان کے قبضے پر خوشیاں منانے والوں کو طالبان کا ماضی یاد کراتے یہ کہتے نظر آئے کہ اس کے نتائج سب سے پہلے پاکستان کو بھگتنا پڑیں گے۔

زارا رشید نے تبصرہ کیا کہ ’پاکستان ان کی فتح کا جشن منا رہا ہے۔ ایک بار جب طالبان پاکستان پر قبضہ کرنے لگیں گے تو پاکستان کو اپنے جشن کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی (بنیاد پرست اسلامائزیشن کی کوئی انتہا نہیں ہے، وہ اسے دوسرے علاقوں میں بھی پھیلانا چاہتے ہیں اور پاکستان ان کا پہلا اور قریب ترین ہدف ہے)۔

’پاکستان کا ردِعمل دہشت گردی کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیوں کے ثمرات ضائع کرنے والی بات ہے‘

افغاسنتان

Getty Images

پاکستان میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سامنے آنے والے ردِعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر اور انسداد دہشت گردی کے امور کے ماہر محمد عامر رانا نے بی بی سی نے بات کرتے ہوئے اسے ایسا ردِعمل قرار دیا جو بالکل بھی ’نپا تلا‘ نہیں ہے اور اس کے بڑے نتائج سامنے آئیں گے۔

عامر رانا کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کیں ہیں، یہ ردِعمل اس کے ثمرات کو ضائع کرنے والی بات ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی جنگ ہی ایک خاص سخت گیر مذہبی نقطہ نظر کے خلاف تھی اور اگر آپ اسی طرح کے خیالات، نظریات کو دوبارہ سے ہوا دیں گے، اور افغانستان میں جو المیہ رونما ہو رہا ہے اس پر مبارکباد دیں دیں گے تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستانی معاشرے پر نظر آئیں گے بلکہ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کا موقف یہی رہا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان پوری دنیا کے ساتھ مل کر اپنی پوزیشن لے گا۔ لیکن جو ردِعمل سامنے آ رہا ہے، اس طرح کے تاثرات پاکستان کا منفی تاثر بناتے ہیں اور پاکستان کا آگے ہی دنیا میں جو منفی تاثر موجود ہے، اسے مزید مضبوط کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

طالبان قیادت کے اہم رہنما کون ہیں؟

افغان طالبان کے عروج، زوال اور اب دوبارہ عروج کی کہانی

کیا طالبان افغانستان کو واپس تاریک ماضی میں دھکیل دیں گے؟

عامر رانا کہتے ہیں کہ اس ساری صورتحال میں ’طالبان کے افغانستان پر قبضے کے اثرات، افغانستان میں رونما ہونے والے المیے اور وہاں پر کس قسم کا معاشرہ تشکیل پائے گا‘ اس پر بات نہیں کی جا رہی۔

’جب تک ہم پاکستانیوں کو جنگ زدہ ملک اور طالبان کی نئی قائم کردہ حکومت کے اندر پیش آنے والی تکالیف کا احساس نہ ہو، ریڈیکل آئیڈیلزم کے اندر جو بحث ہو رہی ہے اسے ’درست ثابت نہیں کیا جا سکتا‘۔

’افغانستان کی جیلوں سے پاکستانی طالبان اور القاعدہ کے اراکین کی رہائی پاکستان کی سکیورٹی صورتحال کو پیچیدہ کر دے گی‘

طالبان نے افغانستان کے شہروں پر قبضے کے بعد وہاں کی جیلوں میں قید تمام افراد کو رہا کر دیا ہے جن میں پاکستانی تحریکِ طالبان کے بے شمار افراد بھی شامل ہیں۔ عامر رانا کہتے ہیں کہ طالبان نے نہ صرف پاکستانی طالبان بلکہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والوں کو بھی بگرام سمیت ہر جیل سے رہا کر دیا ہے اور ’یہ صورتحال پاکستان کی سکیورٹی کے لیے بہت پیچیدہ ہو جائے گی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ امریکہ اور طالبان کے معاہدے کے مطابق طالبان نے کہا تھا کہ وہ القاعدہ کو وہاں سے آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، لیکن اب آگے آنے والے دنوں میں یہ طالبان کا بھی امتحان ہو گا کہ وہ القاعدہ کے حوالے سے کیے گئے وعدے کی پاسداری کیسے کریں گے، مگر تحریکِ طالبان پاکستان کے لیے تو ان کا ہمیشہ سے ہی نرم گوشہ رہا ہے اور دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

’ظاہر ہے کہ جب اس طرح کے لوگ رہا ہو کر آئیں گے اور تحریکِ طالبان پاکستان کے لوگ جو پہلے ہی پاکستان میں مداخلت کر رہے ہیں انھیں مزید تقویت ملے گی۔‘

تو کیا پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی نئی لہر آنے کا خدشہ ہے؟ اس کے جواب میں عامر رانا کہتے ہیں کہ ’اتنی جلدی تو ایسا ممکن نہیں ہے لیکن تحریکِ طالبان پاکستان کے حامی حلقے اور ان کے اپنے دہشت گردوں کے حوصلے ضرور بلند ہوں گے۔‘

’طالبان کے آنے کی خوشی نہیں بلکہ دشمنوں کے کم ہونے اور دوست بن جانے کا ریلیف ہے‘

طالب

Getty Images

پشاور سے افغان امور پر نظر رکھنے والے صحافی محمود جان بابر کے خیال میں ’یہ کابل پر طالبان کے قبضے کی خوشی نہیں بلکہ گذشتہ 20 سالوں میں افغانستان میں جو غیر یقینی صورتحال بن رہی تھی اور پاکستان بار بار کہہ رہا تھا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اس حوالے سے لوگوں کے کچھ خدشات تھے کہ اگر افغانستان میں اینٹی پاکستان حکومت آتی ہے، جو پاکستان کی دوست حکومت نہ ہو (جیسا کہ اب تک ہم دیکھتے آئے ہیں) تو کیا ہو گا۔۔۔ لیکن اب جو ہوا ہے، اس پر پہلے تو لوگوں کو یقین نہیں آ رہا تھا لیکن جب بغیر گولی چلائے طالبان کابل میں داخل ہو گئے، اس سے پاکستان کے لوگوں کو اطمینان ہوا ہے اور ان کے دلوں میں جو خدشات تھے وہ دم توڑ گئے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے سرحد پر باڑ تو لگائی تھی لیکن اس کے باوجود ڈر تھا کہ افغانستان میں بدامنی، پاکستان میں بھی بدامنی کا باعث بنے گی۔ ’اب وہ ڈر ختم ہو گیا ہے اور اشرف غنی حکومت کے جو لوگ پاکستان سے خوش نہیں تھے وہ بھی اب پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں ’میرا خیال ہے یہ طالبان کے آنے کی خوشی نہیں بلکہ دشمنوں کے کم ہونے اور دوست بن جانے کا ریلیف ہے۔‘

محمود جان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ’یہ طالبانآئزیشن کی خوشی نہیں ہے کیونکہ جو لوگ طالبان کو پسند بھی کرتے ہیں وہ بھی ان کا نظام نہیں چاہتے۔‘

’تحریکِ طالبان پاکستان کے اراکین، افغان طالبان کو اپنا بڑا سمجھتے اور ان کی بات مانتے ہیں‘

ملا

Getty Images

افغانستان کی جیلوں سے پاکستانی طالبان کی رہائی اور پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کے خدشے کے متعلق محمود جان بابر کہتے ہیں کہ پاکستانی طالبان کے حوالے سے افغان طالبان کی یقین دہانی موجود ہے ’انھوں نے امریکہ سمیت تمام ہمسائیوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ میرے خیال میں افغان طالبان بھی یہ چاہیں گے کہ وہ اس معاملے کو کنٹرول رکھیں۔‘

’پاکستان میں تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) پاکستان کی کارروائیاں تو چل رہی ہیں اور ان کی وہ ذمہ داریاں بھی لے رہے ہیں، لیکن پاکستان نے باڑ لگائی ہے، فوج بھی موجود ہے اور میرا نہیں خیال کہ معاملہ پاکستان کے لیے خراب ہو سکتا ہے اور ٹی ٹی پی افعانستان میں رہ کر پاکستان کے لیے مسئلہ بنانے کی کوشش نہیں کرے گی۔‘

محمود جان بابر کا خیال ہے کہ افغان طالبان، اپنے اہم ترین ہمسائے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواں ہوں گے اور نہیں چاہیں گے کہ ٹی ٹی پی پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تحریکِ طالبان پاکستان کے اراکین افغان طالبان کو اپنا بڑا سمجھتے ہیں اور ان کی بات مانتے ہیں‘ اور وہ نہیں سمجھتے کہ فوری طور پر پاکستان کے لیے کوئی مسائل بنیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words