سینڈوچ کا مزا

ہمارے زمانے کے خصوصاً ٹاٹ کے سکولوں میں پڑھائی اور اس کے جانچنے کا ایک ہی نظام تھا جسے عرف عام میں مولا بخش کہا جاتا تھا۔ سوال کا جواب ٹھیک ہوتا تو ”بیٹھو“ کی کرخت آواز سے پتہ چلتا ورنہ مولا بخش جسم کے کسی بھی حصے پر برسنا شروع ہوجاتا۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا کہ جواب غلط تھا۔ یہی صورت حال کم و بیش دیہاتی سکولوں اور شہر کے مدارس میں اب بھی عام ہے۔ ہماری عمر کے یار دوستوں نے وہی وتیرہ مولا بخش کے بغیر بھی بفضل خدا جاری رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں کسی بھی مسئلے پر اختلاف اسی مسئلے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ نسلوں کی دشمنی تک پہنچ جاتا ہے۔

میرے ایک دوست ہیں۔ برطانیہ میں رہتے ہیں۔ ایک دن ان کی بیگم نے اپنے چھوٹے بیٹے کی موجودگی میں کسی شخص کے بارے میں بہت افسوس سے کہا کہ کتنی غلط ذہنیت ہے اسکی۔ بیٹے سے رہا نہیں گیا۔ بولا ”ماما، ریلیکس پلیز۔ اس دنیا میں ساڑھے سات ارب لوگ ہیں۔ اتنے ہی دماغ ہیں اور اتنی ہی سوچیں ہو سکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ اس شخص کے حالات اور خیالات آپ ہی جیسے ہوں۔ اس کا خیال بھی ٹھیک ہو سکتا ہے“

چونکہ نہ تو ہمیں سکول یا مدرسے میں تحمل سے دوسرے کی بات سننے کی تربیت دی گئی ہے اور اور نہ گھر میں کسی چھوٹے کو بولنے کا حق دیا جاتا ہے۔ تھپڑ، گالی اور جھڑکنا کسی بھی گھر کے فرد کے سوال کا جواب ہوتا ہے۔ اسی لئے آج اچھے خاصے بالغ، عاقل اور پڑھے لکھے لوگ نہ شستہ بحث کا طریقہ سمجھتے ہیں اور نہ کسی سے شائستگی سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ اونچی آواز میں چلانا، برے القابات سے نوازنا، جوتم بیزاری تو بداخلاقی سمجھی ہی نہیں جاتی۔ اب گھر سے لے کر سکول کالج تک اور بازار، نجی محفلوں، ٹی وی چینلوں سے لے کر پارلیمان تک ہر جگہ مچھلی بازار بنا ہوا ہے۔ زیر بحث موضوع بیچ میں رہ جاتا ہے اور ماں بہن تک پہلے پہنچ جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا بنیادی طور پر ہم خیال دوستوں کو آپس میں ملانے کا ایک ذریعہ تھا۔ اب ہمارے ہاں علمی مباحث کے میڈیا سیل بھی دشنام طرازی کے پلیٹ فارم بن گئے ہیں۔ نہ جدید سائنسی پیجز اس قباحت سے مبرا ہیں اور نہ مذہبی۔

میں بھی انہی ٹاٹ کے سکولوں سے پڑھا ہوں اور اسی معاشرے کا فرد ہوں۔ خوش قسمتی سے مجھے ایک تو چند مہذب ممالک میں تربیت حاصل کرنے اور کام کرنے کا موقع ملا اور دوسرے ایک نظام کے تحت ہمیں اپنے ماتحتوں کی غلطیوں کی نشاندہی کا مہذب طریقہ ورک شاپس کے ذریعے سے سمجھایا گیا۔ اسے کہتے ہیں فیڈ بیک۔ اور مہذب طریقے سے تنقید کے انداز کو سینڈوچ ٹیکنیک کا نام دیا گیا۔

جب آپ کسی ماتحت کی غلطی کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں تو سب سے اہم امر یہ ہے کہ وہ دوسروں کے سامنے نہ ہو۔ ہر انسان کی عزت نفس ہوتی ہے خواہ وہ دو سال کا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔ سینڈوچ کی پہلی تہہ اس ماتحت کی خوبیوں، محنت کوشی اور ڈیوٹی کے بارے ہوتی ہے۔ اس تعریف سے ماتحت میں اعتماد پیدا ہوجاتا ہے۔ پھر نہایت آرام سے اور آواز اونچی کیے بغیر اس کی کسی کوتاہی، دانستہ یا غیر دانستہ غلطی یا کسی اور کمی کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔

ایک دفعہ ماتحت اپنی غلطی سمجھ جائے تو اس کے بعد اسے سینڈوچ کی تیسری تہہ اپنی طرف سے ہر قسم کی تعاون کی یقین دہانی پر مشتمل ہوتی ہے۔ تاکہ وہ ماتحت اپنے آپ کو لاچار یا بے بس نہ سمجھے۔ اس دوران اس کی غلطی کا پس منظر بھی معلوم ہوجاتا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ کسی بیماری، گھریلو مسائل یا کسی ایمرجنسی کی وجہ سے بھول چوک ہو گئی ہو۔

اس قسم کی بحث اگر دیکھنی اور سننی ہو تو برطانوی پارلیمنٹ کی ریکارڈنگ دیکھی جا سکتی ہیں۔ بلکہ میرے ناقص خیال میں تو تمام پارلیمنٹیرینز کو زبردستی دکھانا چاہیے۔ وہاں سخت سے سخت ترین مخالف کو بھی یوں مخاطب کیا جاتا ہے ”میرے معزز اپوزیشن ممبر نے جو خطاب فرمایا وہ زیادہ تر درست ہے لیکن اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے ان نکات پر اختلاف کا اظہار کرتا ہوں۔ امید ہے وہ اس پر برا نہیں منائیں گے“ پھر جواب بھی اسی طرح مہذب ہوتا ہے کہ ”معزز رکن پارلیمان سے مجھے اتفاق ہے کہ وہ میرے خیالات سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں اور میں اس پر مزید شائستہ گفتگو کرنے کو تیار ہوں“ ۔

میں نے کئی ٹی وی چینلوں سے رابطہ کر کے ایسے ہی ایک ڈیبیٹنگ پروگرام کا آئیڈیا پیش کیا جس میں کسی موضوع کے حق میں اور خلاف دو مقرروں کو حاضرین ہر ممکنہ طور پر غصہ دلانے کی کوشش کریں۔ سکور حاصل کرنے کے لئے ضروری ہو کہ مقرر نہایت تحمل سے اعتراض سنے اور نرمی سے معقول جواب دے۔ جوابی طور پر غصے سے کوئی بات کرنا منفی سکور پر منتج ہو۔ تاہم لگتا ہے کہ ان ٹی وی چینلوں کو یہی بیہودگی راست آتی ہے اور ریٹنگ بھی اسی سے بڑھتی ہے۔ میرے بس میں نہیں ورنہ سکول اور کالج میں ڈیبیٹنگ سوسائٹیاں یہ تربیت فراہم کر سکتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر آپ سے درخواست ہے کہ بحث برائے بحث یا چیخم دھاڑ سے گریز کریں اور کسی نکتے کی نشان دہی کر کے اپنے اختلاف میں شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words