ہم ایک دوسرے کو بوسہ کیوں دیتے ہیں؟

بوسہ
BBC
یونیورسٹی آف نواڈا کے پروفیسر ولیئم جونکویاک کی 168 ثقافتوں کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ تقریباً نصف سے کم ثقافتوں میں بوسہ دینے کے لیے ہونٹوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ 46 فیصد ثقافتوں میں ہونٹوں پر بوسے کو رومانی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

انسانوں کو بوسے دینے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے اس حوالے سے دو خیالات پائے جاتے ہیں۔ ان دونوں کی بنیاد یہ ہے کہ بطور ایک نومولود بچے ہمیں ہونٹوں کو چھونے کی عادت ہوتی ہے۔ پہلے خیال میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ہونٹوں کو چھونے کو ماں کے دودھ پلانے سے منسلک کیا جاتا ہے اور یہ ریفلیکس ہر کسی میں ہوتا ہے۔ یہ بھی خیال ماں اور بچے کا ہونٹوں پر بوسہ دینے سے تعلق گہرا ہوتا ہے جس کی وجہ ‘پریمیسٹیکیشن فوڈ ٹرانسفر‘ ہے۔ ہمارے آبا و اجداد میں مائیں بچوں کو خود چبا کر کھانا کھلاتی ہوں۔ یہ چیز ہمارے علاوہ چیمپینزیز میں بھی دیکھی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیئرا نائٹلی کی بیٹی ڈزنی فلمز نہیں دیکھ سکتی

کیتھی ہوکل: نیویارک کی پہلی خاتون گورنر کون ہیں؟

کووڈ 19 ضوابط کی خلاف ورزی، برطانوی وزیرِ صحت نے استعفیٰ دے دیا

ولیئم جونکویاک کا کہنا ہے کہ ‘میرے خیال میں انسانوں میں بوسے کی اہمیت، اس کے عالمی ہونے یا عالمی طور پر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انسانی سینشوئیلٹی بوسے کے علاوہ بھی طریقوں سے پوری ہو سکتی ہے۔

مصنف شریل کرشنبام کہتی ہیں کہ „جن کلچرز میں ہونٹوں پر بوسہ نہیں دیا جاتا وہ قربت کے لیے دیگر طریقے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جسے ڈارون نے مالے کِس کہا تھا جس میں دونوں ایک دوسرے کی خوشبو سونگھتے ہیں۔‘

پاپا نیو گنی میں ٹروبیانڈ جزائر میں عاشق ایک دوسرے کو بوسہ کچھ اس طرح دیتے ہیں کہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کی پلکھوں کو ہلکہ ہلکہ چومتے ہیں، ‘جو شاید ہمارے لیے رومانس کا عروج نہ ہو مگر ان کے لیے یہ کافی ہے۔‘ ہونٹوں پر بوسے اور دیگر قسم کے بوسوں میں اہم یہ ہے کہ یہ وہ لمحہ ہے جب آپ ایک دوسرے کے بارے میں ذاتی معلومات کے تبادلے کو شروع کرتے ہیں۔

اپنے ہونٹ ایک دوسرے سے لگا کر بوسہ کرنا بھی انسانوں میں ہی پایا جانے والا رویہ ہے۔ اگر اس کا تعلق ارتقائی عمل سے ہو تو ہمیں دیگر جانوروں میں یہ کیوں نظر نہیں آتا؟

2015 میں ملیسا ہوگنبوم نے اس سوال کا جواب بی بی سی ارتھ کے لیے دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سونگھنا چاہتے ہیں۔ کسی کی خوشبو ان کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتی ہے، کھانا پینا، مزاج، بیماری وغیرہ وغیرہ۔ بہت سے جانوروں کی سونگھنے کی حس کی ہم سے کہیں زیادہ زبردست ہوتی ہے اس لیے انھیں شاید اتنا قریب نہیں جانا پڑتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words