قلم کار۔ افسانچہ


”میں ایک ایسے قلم کار کو جانتی ہوں، جس کے لکھے پر لوگ لکھتے ہیں۔ سب لکھنے والے اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ بنا جھول، بنا طوالت، بنا بے کیفی کے ایک کہانی کو کیسے لے کر چلنا ہے یہ اس سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ دنیا میں جنم لینے والی کوئی ایسی کہانی نہیں جو اس کے قلم سے نہ گزری ہو۔“ کینٹین پہ کھڑی ایک بلوچ لڑکی نے انکشاف کیا۔

میں واقعی اس قلم کار کو نہیں جانتی تھی۔

”اس کی لکھت کہاں ملے گی؟ میرا مطلب ہے کس لائبریری، بک شاپ یا کس کی سٹڈی میں؟ میں اگر خرید نہ پائی تو چرا تو لوں گی۔ خیر سے اس معاملے میں بچپن سے خود کفیل ہوں۔“ میں نے پلٹ کر پوچھا۔

”اس کی لکھت لائبریریوں میں کم ملتی ہے، وہ اتنہائی قابل رسائی قلم کار ہے۔ اس کی لکھت کو کھو جا تو جاسکتا ہے چرایا نہیں جاسکتا۔ وہ مل جاتا ہے لیکن اس تک پہنچنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس کی لکھت بہت ہی غیر مرئی لیکن کہانی انتہائی واضح ہوتی ہے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے، پڑھ نہیں پاتا“ خاصی حیران کن معلومات تھی۔ میں نے یک ٹک اسے دیکھا۔

”اوہ پلیز! اتنا گاڑھا فلسفہ پلاو گی تو مجھے بھوک لگنے لگے گی۔ تم جانتی ہو کتنا ایگزاسٹو کام ہے ایسی چیزوں کے بارے میں سوچنا۔ مجھے سیدھے لفظوں میں بتاو۔ صاف صاف!“ میں نے دو ٹوک کہا

”یہ بھوک کی تشہیر کرنا کوئی اچھی بات نہیں“ اس کے ساتھ والی لڑکی نے ٹوکا۔

”پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی تشہیر نہیں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس میں قباحت ہی کیا ہے اگر کوئی کہتا ہے کہ اسے بھوک لگی ہے؟ ہر زندہ جاندار کو بھوک لگتی ہے“ میں نے پوچھا۔

”بانو قدسیہ کو پڑھا ہے؟ وہ کہتی ہیں کہ جب عورت بھوک کی تشہیر کرتی ہے۔ ۔ ۔ اس کا مطلب ۔ ۔ ۔“ بات قلم کار سے چلی تھی۔ بھوک بیچ میں پتہ نہیں کہاں سے آ گئی تھی۔

”اوہ پلیز! فار گاڈ سیک۔“ میں نے بات کاٹی۔ ”بانو قدسیہ نے جو بھی اس کے متعلق لکھا وہ یقیناً ان کے حساب سے ٹھیک ہوگا۔ مجھے ان کی تحقیق سے کوئی اختلاف نہیں۔ مجھے اس سوچ سے اختلاف ہے۔ کہ ایک عورت یوں کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے۔ ایک مرد یوں کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ۔ ۔ ۔

ہم لوگ کتنے عجیب ہیں۔ انسانوں کے رویوں کو جنس، قوم، مذہب اور پھر معاشی تقسیم میں بانٹتے ہیں۔ اس چھوٹے سے سیارے زمین میں تیس فی صد سے بھی کم حصہ پر رہنے والے ہم انسان کتنے اکیلے پڑ گئے ہیں؟ تم نے کبھی سوچا ہے کتنی یکجائی ہے لفظ انسان میں؟ اور کتنا انتشار ہے اس لفظ مرد و عورت و قوم و مذہب و ذات پات میں۔ ہم لوگوں کو بانٹتے بانٹتے، خود اتنے تنہا رہ گئے ہیں کہ جب ہم خود کسی سے بات کرتے ہیں تو سامنے والا پہلے سوچتا ہے کہ بات کرنے والا مرد ہے یا عورت؟ کس مذہب سے؟ کس قوم سے؟ کس سٹیٹس سے پھر کس ذات سے اس کا تعلق ہے۔ پھر اسی بناء پر پرکھ کر وہ ہمیں غلط ثابت کر دیتا ہے۔

لوگوں کے رویوں میں حشرات الارض کے جیسا تنوع، اور موسموں کے جیسا تغیر پایا جاتا ہے۔ کسی کے متعلق بھی خاص صورتحال کو لے کر سو فیصد یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا ردعمل ایسا یا ویسا ہوگا۔

میں، ہم یا کوئی بھی، جن کا شمار انسانوں میں ہوتا ہے۔ وہ مختلف صورتحال میں مختلف کیفیات کا شکار ہو سکتا ہے۔ ”وہ خفگی سے مڑی اور اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف چل دی۔

ہم جذباتی مریض قوم ہیں، ہماری عقیدتوں کو جب ٹھیس پہنچتی ہے تو ہم پاگل ہونے لگتے ہیں۔

یقیناً بانو قدسیہ جیسی بزرگ لکھاری سے اس کی کوئی نہ کوئی عقیدت جڑی ہوگی۔ کاش میں نے اس سے بحث نہ کی ہوتی اور وہ مجھے اس کتاب کا نام بتا دیتی۔

”البتہ جس کتاب کا تم نے مجھے بتایا ہے ناں۔ وہ میں ڈھونڈ لوں گی“ میں نے ہاتھ اٹھا عزم سے کہا۔ اس نے مجھے پلٹ کر دیکھا۔ اس کے انداز میں چیلنج تھا۔

حد سے زیادہ خوداعتمادی بعض اوقات منہ کے بل گراتی ہے۔ مجھے یقین تھا کہ وہ کتاب کسی نہ کسی بک شاپ لائبریری، کسی انٹرنیٹ سائیٹ وگرنہ سینٹرل لائبریری میں تو ضرور مل جائے گی۔ کسی ایسی کتاب کو ڈھونڈنا جس کے نہ تو رائٹر کا نام معلوم ہو اور نہ ہی اس کتاب کا عنوان پتہ ہو۔ دشوار ہی نہیں قریب بہ ناممکن ہے۔

مجھے بڑی مایوسی ہوئی جب وہ کتاب مجھے کہیں نہ ملی۔

یہ عام رویہ ہے کہ کسی ذہنی دباو، پریشانی یا گھبراہٹ میں لوگوں کی بھوک اور نیند اڑ جاتی ہے۔ دماغ پہلے کی نسبت تیزی سے کام کرنے لگتا ہے وغیرہ۔

لیکن میرے ساتھ ایسا نہیں تھا، مجھے ہمیشہ سے جب بھی کبھی کوئی پریشانی یا گھبراہٹ ہوتی تو شدید بھوک لگتی، کھانے کو کچھ مل جاتا تو نیند آنے لگتی۔ اور سو کر جب اٹھتی تو یاد ہی نہ رہتا کہ کس بات کو لے کر پریشان تھی۔ یا پریشان بھی تھی یا نہیں؟ ٹینشن یا ڈپریشن یا سٹریس لے کر مجھ سے کوئی کام نہیں ہوتا، اگر کر بھی لیتی تو سب الٹ پلٹ ہوجاتا تھا

نیند کا مطلب جانتے ہیں؟ سکون، آرام، راحت۔ تشفی۔ خوف سے چھٹکارا وغیرہ
ایک اعتبار سے یہ نعمت تھی، لیکن یہی نعمت کتنی اذیت ناک ہو سکتی تھی، اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔

میری آنکھ کھلی تو میں نے خود کو ایک اندھیر کمرے میں پایا۔ میں ایک کرسی پر بیٹھے بیٹھے سو رہی تھی۔ آنکھیں کھول کر میں نے اردگرد دیکھنا چاہا۔ لیکن بے سود۔ وہاں گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا۔

ایسا کیسے ہو سکتا تھا؟ سونے سے پہلے میں کہاں تھی؟ کہاں سو رہی تھی؟ مجھے کچھ یاد نہیں آیا۔ آہستہ آہستہ آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہونے لگیں۔ میں نے کرسی سے اٹھ کر قدم آگے کی طرف بڑھائے۔ میرا گھٹنا ٹیبل کے کارنر سے ٹکرایا۔ تو یہاں کوئی ٹیبل رکھی تھی۔ میں نے ہاتھ ہلا کر میز کے شیشے کی ٹھنڈک کو محسوس کیا۔

یہ کوئی آفس تھا۔
پھر اچانک سے سب کچھ یاد آنے لگا۔

وہ جمعہ کی سہ پہر تھی۔ میں اپنا سامان پیک کر کے ہاسٹل سے گھر کے لئے نکل رہی تھی۔ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کی ایک میڈم سے ایک ڈاکومنٹ پر سائن چاہیے تھے۔ اس کے لئے میں ان کے آفس آئی۔ کہ جب ہی ان سے ملنے کوئی خاتون آ گئیں۔ انہوں مجھے آفس کے ساتھ والے روم میں انتظار کرنے کا کہا تھا۔

کچھ دن بھر کی تھکاوٹ، پھر گرمی کے باعث چکراتا ہوا سر، کمرے کی خنکی نے دماغ کو ایسی آسودگی بخشی کہ مجھے پتہ ہی نہ چل سکا کہ میں کب سو گئی۔

لیکن وہ تو دیکھ سکتی تھیں کہ روم میں کوئی ہے؟ جب کہ انہوں نے ہی مجھے وہاں بیٹھنے کا کہا۔ وہ ایسے مجھے اندر بند کر کے کیسے جا سکتی تھیں؟

ممکن ہے ان کے ہوتے لائٹ چلی گئی ہو، اور وہ اس نیم تاریک کمرے میں مجھے دیکھ نہ پائی ہوں۔ لیکن میرا بیگ وہ تو ان کے آفس میں تھا۔

میں ادھر ادھر ہاتھ مارتے ہوئے دروازے تک پہنچی۔ یہ گلاس ڈور مقفل تھا۔

صورتحال کی سنگینی اب مجھ پر کھلی تھی۔ یک دم سے بھوک وارد ہوئی تھی۔ میں کالج کے سب سے دور افتادہ ڈیپارٹمنٹ کے سب سے اندرونی کمرے میں تھی۔ یہاں طالبات کا رش ذرا کم ہوتا تھا۔ اس وقت تو یوں بھی وہاں کوئی نہیں ہوتا تھا۔ اگلے دو دن چھٹی تھی۔ مطلب اگر معمول کے مطابق دروازہ کھلنا بھی تھا تو اڑھائی دن کے بعد ۔ تب تک میں چیخ چیخ کے مر چکی ہوں گی۔

”کوئی ہے؟“ میں زور سے چیخی۔ میری آواز کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر معدوم ہو گئی۔ میں پھر چلائی
”کوئی ہے؟ دروازہ کھولے مجھے نکالے یہاں سے“
جواب ندارد۔

میں نے دروازہ پیٹا۔ ہاتھوں سے مکوں سے۔ ٹھوکروں سے۔ زندہ رہنے کے لئے کوئی جتنی محنت کر سکتا تھا۔ میں نے کی۔

میں نے دیوار سے کان لگایا۔ باہر سے کوئی آواز یہاں محسوس نہ ہوتی تھی۔ اب نہ تو دکھائی پڑتا تھا نہ ہی کچھ سنائی۔ ایک گھنٹہ کی بے سود کوشش کے بعد میں دروازے سے ٹیک لگا کر دو زانوں بیٹھ گئی۔ کوئی تدبیر کارگر نہیں تھی۔

ہم ہارتے جب ہیں جب ہم اپنی ہار قبول کرلیتے ہیں۔

مستقبل تو صرف سوچ کا نام ہے تخیل کا۔ آج سوچ لیں کہ کل کچھ نہیں ہے تو میرا یقین کریں آپ کے مستقبل میں آپ کے لئے واقعی کچھ نہیں۔ اور میں تسلیم کرچکی تھی۔ کہ کل کچھ نہیں ہوگا۔

ٹک ٹک ٹک۔ چلتی گھڑی کی آواز میری سماعتوں پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی۔ زندگی کے بیتے جانے کا الارم۔ گزرتے لمحے کی بے مقصدیت کا ماتم۔

اک رائیگانی کا احساس۔

میری ایک گھنٹہ بعد کی ٹکٹس تھیں۔ کوئی گھنٹہ پہلے میں بہت جلدی میں تھی۔ کہیں گاڑی نہ چھوٹ جائے؟ کہیں میں پیچھے نہ رہ جاؤں؟ طرح طرح کے وسوسے تھے۔

لیکن اب مجھے کوئی جلدی نہیں تھی۔ اب مجھے کہیں نہیں جانا تھا۔
جیسے زمان و مکاں کے مالک نے وقت کو روک دیا تھا۔

گاڑی روانہ ہو رہی ہوگی۔ بس اسٹیشن پر اناونسمنٹ ہو رہی ہوگی۔ ”بہاولپور سے ملتان جانے والے مسافر، ٹریک نمبر دس پر اپنے سامان کے ساتھ پہنچ جائیں۔ گاڑی روانگی کے لے تیار ہے“ آج بس ایک مسافر کو لئے بناء چلی جائے گی۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ روزانہ کئی سیٹیں خالی ہوتی ہیں۔ کبھی سوچا ہی نہیں کوئی کیوں رہ گیا۔ کوئی کیوں نہ پہنچ سکا۔ اتنا وقت کس کے پاس ہے؟

پیچھے رہ جانے والوں کے متعلق کوئی نہیں سوچتا۔

نیم ویران بس اسٹیشن پر رات کے دوسرے پہر جب گاڑی آ کر رکے گی تو سب اتریں گے۔ سوائے میرے۔ کیسی ویرانیاں اتریں گی میری ماں کی آنکھوں میں؟ سب آ گئے پر ان کی بیٹی نہیں آ سکی۔ کیوں؟ کوئی بتانے والا نہیں ہوگا۔ ہاسٹل والوں کو لگے گا میں گھر پہنچ گئی ہوں گی۔

گھٹنے پر سر رکھ کر میں نے اپنی بے بسی کو تسلیم کیا۔
میری زندگی کی کتاب میرے سامنے کھلی پڑی تھی۔

”انیس سال چار ماہ دس دن“ میں نے انگلیوں کے پوروں پر گنا۔ یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اتنی جلدی مر جاؤں گی۔ وہ بھی اس طرح؟

فرش پر بیٹھ کر اندھیرے میں گھورتے ہوئے دور کہیں جلتی بجھتی سی روشنی ہوئی۔

ان سب لوگوں کے چہرے جن کی کتابیں میں نے چرائیں تھیں۔ وہ سب جھوٹ جو میں اپنی ماں سے بولتی آئی تھی۔ وہ میتھس کے نمبروں میں مبالغہ آرائی، وہ گلی میں کھیلتے بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لئے کیے گئے بہانے سب اسکرین پر رونما ہونے لگے۔ سب سے بھدا وہ منظر تھا جس میں ایک لمبے تڑنگے لڑکے کو غلیل سے پتھر کھینچ کے مارا تھا۔ وہ اپنے سر کا گومڑ لئے کئی دن تک مارنے والے کو ڈھونڈتا رہا۔ اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ وہ منظر تھا۔ جب ایک ہاسٹل کی لڑکی سے مینٹل ٹارچر کا بدلہ لینے کے لئے اس کے بیگ میں چھپکلی رکھ دی تھی۔ اور وہ اسے دیکھ کر پانچویں سیڑھی سے گری اور اپنا ٹخنہ تڑوا بیٹھی۔

اندھیرا اور گھٹن اور بڑھے تھے۔ نا امیدی سے سانس بند ہونے لگی تھی۔ یہ بات میں جانتی تھی کہ کوئی بھی شخص بھوک پیاس سے اتنی جلدی نہیں مرتا۔ میں نا امیدی سے مروں گی۔

کسی نے بتایا تھا کہ جہنم میں سب سے بڑا عذاب شاید نا امیدی ہی ہوگا۔ جب کہا جائے گا۔
”اے اہل جہنم ہمیشگی ہے“ یہاں آس ٹوٹ جائے گی۔
آس ہی تو زندگی کی ضمانت ہے۔ اچھے کل کی نشانی۔ آس ہے تو سب کچھ ہے
لیکن زندہ رہنے کے لئے دوسروں کے لئے جینا پڑتا ہے۔ میں تو الٹا باعث آزار تھی۔ نا امیدی بڑھ گئی تھی۔

تب ہی شاید روہی میں طوفان اٹھا تھا۔ یہ ریت بھری ہوائیں جب شہر کا رخ کرتی ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی شرارتی بچے نے مٹھی بھر کے کسی صاف ستھرے بچے پر ڈال دی ہو۔ کسی درز سے گھس کر ٹھنڈی ہوا میرے نتھنوں تک پہنچی تھی۔

زندگی کا احساس جاگا تھا۔ ٹھنڈی ہوا، تازگی اور راحت لائی تھی۔ ہاں۔ وہی ریت سے بھری ہوا! وہی ہوا زندگی کی نوید لائی تھی۔

آس کا دیا ٹمٹمانے لگا۔ پھر سے روشن ہونے کے لئے۔

”اس بچے نے ایک پاگل عورت کو پتھر مارا تھا۔ میں نے اس لئے مارا تھا کہ اپنی تکلیف میں لگ کر وہ اسے جانے دے گا۔ جس جس کی کتابیں چرائی تھیں۔ اس اس کو پڑھ واپس کی تھیں۔ جو کتاب میں خود خریدتی تھی وہ پڑھ نہیں پاتی تھی۔ جلدی لوٹانے کا خوف وہ محرک تھا جس کے باعث کتاب پوری پڑھ لیتی تھی۔ بس اسی لئے۔“ یہ آواز کہیں قریب سے آئی تھی۔

شاید پہلو کا مکیں بولا تھا!

”جب ایک عیسائی لڑکی سارہ کرسمس ڈے پر بریانی اور کھیر لائی تھی۔ کسی نے ہاتھ نہیں لگایا۔ میں صرف اس کا دل رکھنے کو پلیٹ چٹ کر گئی تھی۔ اماں نے خوب لتاڑا تھا۔

”ندیدی کہیں کی۔ گھر میں جب کھیر بنتی ہے تو منہ تک نہیں لگاتی۔ عیسائیوں کے گھر کا کیسے کھا گئی۔ محلے میں کوئی بھی ان کے گھر کا نہیں کھاتا“

”محلے والے بس کرسمس کا نہیں کھاتے۔ لیکن جب سارہ کی ماما (ڈی۔ ای۔ او) سے کوئی کام پڑتا ہے تو ان کے جوتے تک چاٹ لیتے ہیں۔ کھانا حرام ہے، جوتے چاٹنا حلال!“

انسان کا پہلا مذہب روٹی اور پہلا احساس بھوک ہی تو ہے۔

سارہ کی مسکراہٹ نے اندھیرے میں ذرا سی روشنی کردی تھی۔ شاید یہ وہ واحد مسکراہٹ تھی۔ جو میری وجہ سے کسی کے چہرے پر آئی تھی۔

اسکول کے بچوں کو لائن میں کھڑا کر کے وہ بزرگ ٹیچر جب انگلش کا سبق کہلوا رہی تھی۔
”God is love
God is love ”

میری نظریں اس جملے سے چپک کر رہ گئیں۔ محبت کا پہلا سبق، ایک غیر زبان میں، ایک انگریز کے لکھے ہوئے جملے نے دیا تھا۔

یہ جملہ اتنے سالوں بعد مجھے کیوں یاد آیا تھا؟ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی لنک ہو جو لکھنے والے نے اختتام کے ساتھ جوڑنے کو رکھا ہو۔

لکھنے والا؟ قلم کار؟
تو یہ تھا وہ قلم کار۔ جس نے میری کہانی بہت پہلے لکھ رکھی تھی؟
God is love
یہ جملہ نہیں تھا، اثبات کے جہان کا نچوڑ تھا!

چاہو تو عمر بھر کی منفیت اس سے مٹا ڈالو۔ چاہو تو اسے بھلا کر زندگی سے سر پھوڑتے رہو۔ پڑھنے والی نے یہ کب سوچا تھا کہ اتنے سالوں بعد یہ ایک جملہ اندھیر کوٹھڑی میں اس کی مسکراہٹ کا باعث بنے گا۔ لکھنے والے نے یہ کب سوچا ہوگا کہ اس کا یہ جملہ ایک مرتے ہوئے کو زندگی کی آس دلائے گا۔

محبت کیا ہے؟ زندگی کی آس ہی تو ہے۔
تھکن اور پیاس نے مل کر نیند کو آواز دی تھی۔ میں کب سو گئی پتہ ہی نہیں چلا
آنکھ دروازے میں چابی گھومنے کی آواز سے کھلی تھی۔ دو نفوس ہڑبڑاہٹ میں اندر داخل ہوئے تھے۔

”کتنی بار میں نے تم سے کہا ہے کیز مجھے دے دیا کرو۔ تم رکھ کے بھول جاتی ہو“ میڈم اور ان کے شوہر اپنے گھر کی کھوئی چابی ڈھونڈنے ایک ساتھ داخل ہوئے۔

وہ چابی۔ جسے قلم کار نے بہت پہلے منظر سے کہیں اوجھل کر دیا تھا۔ کسی کو اندھیرے میں رکھ کر زندگی کی روشنی سے مانوس کروانے کے لئے۔ اور معینہ وقت پر دروازہ کھلوانے کے لئے۔

ان دونوں نے مجھے وہاں پاکر حیرت سے دیکھا۔ صورتحال سمجھ میں آنے پر وہ مجھ سے معذرت کر رہی تھیں۔
میں لپک کر باہر نکلی۔ کھلی ہوا میں سانس لیا۔ ابھی شام جوان تھی۔
مطلب ہمیشہ کی طرح، میری سوچ صورتحال سے زیادہ بری ثابت ہوئی تھی۔
میں نے بیگ اٹھایا اور بس اسٹینڈ کی طرف چل دی۔

وہ گاڑی جو کبھی دس منٹ بھی اوپر نیچے نہیں ہونے دیتی تھی۔ آج پورا گھنٹہ لیٹ ہو گئی تھی۔ کس کے لئے؟ کس کی وجہ سے؟

ہاں وہی قلم کار۔ اسی کی وجہ سے۔ جو جانتا ہے، کس کو کتنی تاخیر سے جانا ہے؟ کس کو کتنا جلدی؟ کس کو کیا بھلانا ہے؟ کس کو کیا یاد دلانا ہے؟ وہ جو بے جھول کہانیاں لکھتا ہے؟ جو بے کیف مناظر ترتیب دیتا ہے؟ جس کی کائنات سراپا حسن ہے۔ شفاف پانی جیسی۔ جس میں اگر کوئی گدلا پن ہے تو وہ ہماری سوچ کا ہے۔ اس کی کتاب کی ایک کہانی میں نے پڑھ لی تھی۔

کیا آپ نے کبھی پڑھی ہیں؟ اس قلم کار کی بظاہر غیر مرئی، لیکن انتہائی واضح چلتی پھرتی لکھت؟

Facebook Comments HS