افغانستان میں تبدیلیٍ اقتدار

تخمینوں، اندازوں اور خدشات کے مجتمع شدہ گوشوارے کے قطعی برعکس افغان طالبان انتہائی برق رفتاری سے کابل کے اقتدار کی جانب بڑھ رہے ہیں ممکن ہے ان سطور کی اشاعت تک وہ کابل شہر میں داخل ہونے جا رہے ہوں، جبکہ صورتحال ڈرامائی طور پر بدل جائے اور کابل حکومت پکے ہوئے پھل کی ماند طالبان کی گود میں آن گرے۔ اس کا دار و مدار امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحا میں قائم ہونے تعلقات کی نوعیت پر ہوگا۔ تاہم سوال ان کی جانب سے کابل کو حصار میں لینے کی حکمت عملی کا نہیں بلکہ جلد از جلد اقتدار میں سرایت کرنے کا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد، چین میں ماؤ کا لانگ مارچ، عسکری ذرائع سے برسر اقتدار آنے کی عمدہ مثال تھی اگر طالبان بزور طاقت کابل پر تسلط قائم کرتے ہیں تو اس عمل کو لیکن بہت مختلف معنوں میں اس با انداز دیگر رونمائی کہا جائے گا،

دوسری عالمی جنگ کے بعد نو آبادیاتی شکنجہ کمزور ہوا۔ تو ایشیا و افریقہ میں قومی آزادی کی مسلح تحریکوں کے ایک سلسلہ عمل سے مفتوحہ ممالک میں اقتدار کی منتقلی ممکن ہوئی تھی، سامراج سے لڑ کر آزادی و اختیار حاصل کیا گیا تھا، جن ممالک میں نو آبادیاتی تسلط سے گلوخلاصی بذریعہ بندوق ممکن ہوئی وہاں بعد از آزادی، انہی مسلح گروہوں کے درمیان لڑائیاں شروع ہوئیں جنہوں نے آزادی کی جنگیں لڑیں تھیں افریقی ممالک میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں چونکہ استعمار سے آزادی کے لئے سرگرم عمل مختلف الخیال تنظیمیں مسلح جدوجہد کرتی تھیں جن میں بعد از آزادی مشترکہ حکمت عملی اور مقاصد یا اہداف کا فرق ہوتا تھا لہذا مذکورہ افریقی ممالک میں آزادی کے بعد باہمی لڑائیاں خانہ جنگی میں بدلتی رہیں، حوالے درج کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ یہ واقعات تو ہمارے مشاہدے اور یادداشت کا حصہ ہیں، کابل پر قبضے کے بعد افغان طالبان کے مختلف دھڑے ایک بار پھر باہم الجھ سکتے ہیں۔ جیسا کہ رد انقلاب مسلح جدوجہد میں مصروف تنظیموں کے مابین سویت افواج کے انخلا کے بعد، افغانستان میں اقتدار کے لئے باہمی مسلح تصادم ہوئے تو افغانستان اور کابل کو کھنڈرات بنا دیا ملک کی تباہی اور برادر کشی میں کسی بھی دوسرے کے مقابلے میں زیادہ کردار ادا کیا تھا، چنانچہ نام نہاد جہادی جتھوں نے افغانستان میں مرکزی اقتدار منتشر کر کے اپنے اپنے علاقوں میں، گروہی، قبائلی یا مسلح جتھوں کی حاکمیت قائم کی تھی جس کے رد عمل میں قندھار سے 1996 میں افغان طالبان کی تحریک ابھری تھی جس نے افغان عوام کے لئے داخلی امن و سلامتی کے نام پر عوام کی حمایت حاصل کی طالبان نے تمام جتھوں کو غیر مسلح کیا اور خود کابل کے اقتدار کے مالک بن گئے، حکمران طالبان نے جس طرز سے افغان عوام پر اپنی گرفت و حاکمیت قائم کی اس نے افغانستان کو تاریخ کا ایسا تاریک جزیرہ بنا دیا تھا جو اپنے عہد سے کٹا ہوا تھا، دنیا بھر میں طالبان کی حکومت کو صرف تین ممالک نے تسلیم کیا تھا، یہ بات آنے والے دنوں میں افغان عوام افغان طالبان اور پاکستان کی مقتدر قوتوں کے لئے فیصلے کرتے ہوئے ملحوظ رکھنے والا حوالہ ہے، کیونکہ ایک بار پھر افغانستان پر ایک مسلح گروہ حکمرانی کرنے کے لئے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ماؤ کے لانگ مارچ نے تو چین میں انقلاب برپا کیا تھا۔ کیا 2021 میں افغان طالبان افغانستان میں انقلاب لانے جا رہے ہیں؟ یا پھر اسے قرون وسطی کی سلطنت میں بدلیں گے؟

سرد جنگ کے پہلے یا سابقہ دور میں مسلح گروہوں یا افواج کے ذریعے افریقہ ایشیا اور لاطینی امریکہ میں انقلاب و اقتدار جائے جیسی تبدیلیاں آتی رہی ہیں، سرد جنگ کے دوسرے یعنی حالیہ دور میں اگر افغانستان، مسلح جتھوں کے ذریعے حکمران بننے کی نئی مثال قائم کرنے جا رہا ہے تو بہت بھیانک ہوگا کیا دنیا اور بالخصوص خطے کے ممالک اس عمل کے نتیجے میں افغان طالبان کی قائم ہونے والی حکومت کو تسلیم کر کے اسے قانونی جواز مہیا کریں گے؟ یہ اہم بحرانی پہلو ہے، دنیا کا رد عمل کیا ہوگا؟ اس سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ خود پاکستان کی جانب سے کیا رد عمل سامنے آئے گا اور جو فیصلہ ہوگا اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ ؟ تاہم اگر تازہ ترین اطلاعات ملحوظ رکھیں تو لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ پرامن طور پر کابل حکومت کا خاتمہ یا اس میں طالبان کی موثر شمولیت ثابت کرتی ہے کہ سارے معاملات دوحا میں طے پا چکے تھے جن پر عملداری کے لیے امریکہ نے اپنی افواج کا عجلت سے انخلاء کیا اور افغانستان میں طاقت کا توازن طالبان کے پلڑے میں لڑھکا دیا اور انہوں نے کابل کو محصور کر کے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اس نتیجہ کا ذیلی پہلو طالبان اور امریکہ کو افغانستان میں اتحادی بناتا ہے گویا اب بہت معاملات جو امریکی مفادات کے تحفظ کی ضرورت ہوں گے طالبان انہیں محفوظ بنانے کے پابند ہوں گے۔ اس کے بدلے انہیں مالی معاونت اور سفارتی مدد مہیا کی جائے گی۔ خطے سے وابستہ امریکی مفادات میں اولین ترجیح چین کے بڑھتے معاشی سیاسی سفارتی اثرو رسوخ کو روکنا ہے اس مقصد کے لیے اوبور کے ذیلی منصوبے۔ سی پیک کو ناکام یا سست روی کا شکار کرنا اہم ہوگا۔ طالبان یہ فریضہ کس طرح انجام دیں گے؟ اس کے دو امکان ہیں۔ طالبان شمالی اتحاد یا موجودہ کابل حکومت کے ساتھ معاہدے کے ذریعے اقتدار حاصل کریں اور بعد ازاں شمالی اتحاد کو کابل کی فیصلہ سازی سے خارج کردیں جس سے کشیدگی جنم لے جو پورے خطے کو غیر مستحکم کرے یوں سی پیک اور بالخصوص گوادر وسطی ایشیائی ممالک کے لیے تجارتی گیٹ وے نہ بن پائے۔

اگر طالبان امریکی آشیرباد سے کابل کے حکمران بنتے ہیں تو پھر جنوبی ایشیا میں امریکی اہم اتحادی بھارت کا اثر و رسوخ برقرار رہے گا۔ ممکن ہے یہی نکتہ طالبان کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات میں رخنہ بنے!

کیا طالبان کابل کو بہ آسانی فتح کر سکتے ہیں؟ افغان صدر جناب اشرف غنی کے استعفیٰ کی تجویز، مطالبے دباؤ اور افغان فوج کے بکھراؤ کے باوجود طالبان کو کابل میں داخل ہونے اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے پر سخت مزاحمت ہو سکتی ہے؟ جناب اشرف غنی افغان صدر ہیں لیکن سماجی سیاسی عوامی اور قبائلی قوت سے محروم ہیں جبکہ ان کے دیگر اتحادی جنہیں شمالی اتحاد کے نام سے شناخت کیا جاتا ہے۔ جناب اشرف غنی کے بر عکس قبائلی سماجی سیاسی اور قومی بنیاد رکھتے ہیں نیز طالبان کے متعلق ان کے تحفظات اور ترجیحات بہت مختلف ہیں اس لئے ان کی جانب سے مزاحمت بعید از قیاس نہیں، اسی لیے وزیراعظم پاکستان نے ان سے مستعفی ہو جانے کی تجویز دی جسے دوحا میں جاری معاملہ بندی میں مصروف طالبان نے مطالبے میں بدلا جبکہ واشنگٹن نے سفارتی ذرائع سے یہی بات اشرف غنی کو پہنچائی۔ محسوس ہوتا ہے کہ افغانستان میں جاری گیم کے فریقین کی تکون اسلام آباد۔ طالبان اور واشنگٹن پر مشتمل ہے۔ یاد رہے عمران خان کی حکومت سی پیک کو سست روی میں مبتلا کر چکے ہیں۔ شاید کشمیر کے سوال پر امریکی خوشنودی کے لیے یا پھر۔ چین سے ذرا فاصلہ بڑھا امریکہ و مغرب کے ساتھ تعلقات میں توازن اور معاشی تعاون کی خاطر۔ مگر۔ اب تو صف بندی واضح ہو چکی۔ داسو ڈیم پر دہشتگردی کے خلاف چین کا سخت ردعمل۔ موجودہ دور کی پالیسیوں پر ناراضی کے اظہار کی وضاحت کرتا ہے چینی صدر کے دورہ پاکستان میں مسلسل تاخیر بھی بلاسبب تو نہیں۔ افغانستان آنے والے دنوں میں اپنی حالیہ مہم جوئی کے نتیجے میں جو عسکری انداز کی ہو یا معاہدہ جاتی۔ خطے کے لئے، جہاں تعاون باہمی اور استحکام، قابل اطمینان سطح سے نیچے ہے، عدم استحکام میں مزید گہرائی اور تناؤ کا فعال عنصر بن جائے۔

امریکی فوجی انخلا کے انداز اور طالبان کے ساتھ معاہدے کی طرز کو عجلت آمیزی کہنا درست نہیں، میری رائے میں سب کچھ امریکی مفادات کے تانے بانے کے ساتھ مکمل منصوبہ بندی سے ہو رہا ہے جب کوئی مبصر ان اعمال و واقعات کا تجزیہ کرتے ہوئے امریکہ پر عجلت کی پھبتی کستا ہے تو در اصل وہ امریکہ کو دنیا میں امن و سلامتی کا محافظ تسلیم کرنے کی فاش غلطی کرتا ہے۔ کیا امریکی حکومت دنیا میں امن کی حامی رہی ہے؟ جواب منفی ہے تو عجلت کا الزام چہ معنی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words