افغانستان پر طالبان کا قبضہ: پاکستان کے آپشنز کیا ہیں؟

قومی سلامتی کمیٹی نے کابل پر طالبان کے قبضہ کے بعد ایک ہنگامی اجلاس میں نئی صورت حال پر غور کیا ۔ کمیٹی نے افغانستان کے تمام گروہوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ اس دوران طالبان نے دارالحکومت پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے اور تقریباً تمام سرکاری عمارات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

طالبان نے بظاہر معتدل مزاجی کا مظاہرہ کرنے اور ملک میں افہام و تفہیم کی سیاسی فضا پیدا کرنے کا عہد کیا ہے۔ کل کابل پر قبضہ کے بعد یہ اعلان بھی کیا جارہا تھا کہ جلد ہی ملک کے حکومتی ڈھانچہ کے بارے میں معاہدہ کیا جائے گا تاہم اب یہ اشارے دیے جارہے ہیں کہ سفارتی عملے اور دیگر لوگوں کو ملک سے نکالنے کے نام پر کابل ائیرپورٹ پر موجود امریکی و دیگر ملکوں کی فوج کے ملک چھوڑنے تک کوئی سیاسی اقدام نہیں ہو گا۔ طالبان نے جنگ کے خاتمہ کا اعلان کرتے ہوئے تمام شہریوں کی حفاظت کا عزم ضرور ظاہر کیا ہے لیکن کابل کی حد تک دیکھا جاسکتا ہے کہ شہریوں میں خوف و ہراس کا سماں ہے۔ امریکہ و حلیف ملکوں کے زیر سایہ پروان چڑھنے والے نظام میں خواتین اور دیگر سماجی گروہوں کو ملنے والی آزادی کے بارے شدید خدشات موجود ہیں۔ خواتین اور ایسے تمام عناصر جنہیں طالبان کی طرف سے انتقامی کارروائی کا اندیشہ ہے، وہ منظر سے غائب ہیں اور مستقبل میں ہونے والے فیصلوں کا انتظار کررہے ہیں۔

کابل ائیرپورٹ کے سول حصے میں ہزاروں افغان شہری اپنے اہل خاندان کے ساتھ ملک سے باہر جانے کی خواہش و کوشش میں جمع ہیں۔ ٹیلی ویژن اسکرینوں پر ایسے مناظر دکھائے گئے ہیں جن میں سینکڑوں لوگ رن وے پر پرواز کے لئے ٹیکسی کرنے والے طیارے کے ساتھ اور پیچھے بھاگ رہے ہیں یا کھڑے ہوئے طیاروں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس سے شہریوں کے ایک خاص طبقہ میں پائے جانے والے خوف کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ طیاروں پر سوار ہونے کی کوشش میں پیدا ہونے والی بھگدڑ میں اب تک 7 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس دوران امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے اپنے سفارتی عملہ کو ائیر پورٹ کے ملٹری حصہ میں اپنی حفاظت میں لیا ہے اور انہیں جلد از جلد ملک سے باہر روانہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کابل ائیرپورٹ سے کمرشل پروازیں معطل ہیں جس کی وجہ سے صرف وہی لوگ اس وقت افغانستان سے بیرون ملک روانہ ہو سکتے ہیں جنہیں امریکہ یا کوئی دوسرا مغربی ملک اپنے فوجی طیاروں میں لے جانے پر راضی ہو۔ ایسے ہزاروں لوگ جو امریکی افواج کے لئے کام کرتے رہے ہیں، انہیں اس وقت شدید مایوس کن اور خطرناک صورت حال کا سامنا ہے۔ امریکی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ایسے تمام افغان باشندوں کو ملک سے نکالنا آسان کام نہیں ہوگا۔

طالبان نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ جو لوگ بھی محفوظ مقامات کی طرف جانا چاہتے ہیں ان کو نہ روکا جائے اور طالبان جنگجو کسی شہری کو گزند نہ پہنچائیں لیکن آج کابل ائیرپورٹ جانے والے تمام راستوں کا کنٹرول سنبھال کر ائیرپورٹ کی طرف آمد و رفت کو بند کردیا گیا ہے۔ عملی طور پر اس اقدام کا یہی مقصد ہے کہ افغانستان سے جانے کے خواہشمند افغان شہریوں کو ملک سے روانہ ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔ کابل ائیرپورٹ پر موجود نارویجئن براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے رپورٹر یاما وولسمل نے رپورٹ دی ہے کہ وہ ائیرپورٹ کے سول حصے میں لوگوں کے تاثرات جاننے کے لئے گئے تھے لیکن وہ وہاں محصور ہوکر رہ گئے۔ بالآخر نارویجئن فوجی ذرائع کی مدد سے کئی گھنٹے بعد وہ ائیرپورٹ کے ملٹری حصے میں پہنچ سکے جسے محفوظ کہا جارہا ہے۔ وولسمل کا کہنا ہے کہ وہ ناویجئن شہری ہونے کی وجہ سے حفاظتی زون میں ضرور آگئے ہیں لیکن ان ہزاروں افغان باشندوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے جو بے یار و مددگار ہیں اور کوئی بھی پرواز لے کر ملک سے باہر جانے کے لئے بے قرار ہیں۔

کابل سے رپورٹنگ کرنے والی سی این این کی نمائیندہ کلاریسا وارڈ نے آج دن بھر عبایہ اور حجاب پہن کر شہر کے حالات اور طالبان کی نگرانی کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے شہریوں سے مختلف چیک پوسٹس پر جمع ہوجانے والے شہریوں سے بھی تاثرات لینے کی کوشش کی اور ان کی بے یقینی کے بارے میں بتایا۔ کلاریسا وارڈ کا کہنا تھا کہ کئی چیک پوسٹس پر طالبان نے انہیں خاتون ہونے کی وجہ ایک طرف ہو کر کھڑا رہنے کا حکم دیا۔ بصورت دیگر رپورٹنگ کے لئے طالبان کی اجازت سے ہی شہر میں گھوما جا سکتا ہے۔ یہ اطلاعات مسلسل کابل کے شہریوں ، افغان باشندوں اور اقوام عالم کی پریشانی اور بے یقینی میں اضافہ کر رہی ہیں۔ تاہم طالبان کی طرف سے ان ابتدائی اعلانات کے بعد کہ شہری خود کو محفوظ سمجھیں اور ان کی زندگی پہلے سے بہتر ہوجائے گی، کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا ۔ نہ ہی ابھی تک سیاسی و حکومتی انتظام کے بارے میں کوئی خبر سامنے آئی ہے۔ دوحہ کے علاوہ کابل میں بھی افغان زعما موجود ہیں جو ایک دوسرے سے رابطے کر رہے ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ طالبان اقتدار میں حصہ داری پر راضی ہوں گے یا اس بات پر اصرار کریں گے کہ باقی افغان گروہ ان کی بالادستی اور اقتدار کو قبول کرلیں۔

شہریوں کی حفاظت اور طالبان مخالف فورسز کا ساتھ دینے والے عناصر کو عام معافی کے اعلان کے باوجود اس بات کا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آسکا کہ ان میڈیا بیانات پر عمل بھی کیا جائے گا۔ یوں تو طالبان کے ترجمان کا دعویٰ رہا ہے کہ ملک میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے کی اجازت ہوگی لیکن کابل کی سڑکوں و گلیوں سے اچانک خواتین غائب ہوچکی ہیں اور امریکی خاتون رپورٹر کو اسلامی عبایہ پہننے کا پابند کرنے کے علاوہ مردوں سے بات کرنے سے روکا گیا ہے۔ ہنگامی جنگی حالات کی وجہ سے یہ عبوری نوعیت کی صورت حال بھی ہوسکتی ہے اور جوں ہی طالبان کی سیاسی قیادت حکومتی انتظام کا باقاعدہ ڈھانچہ متعارف کروائے گی، ان حالات میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوں۔ یہی اس وقت افغان شہریوں اور دنیا بھر کی حکومتوں کی واحد امید ہے تاہم اس کا دار و مدار اب صرف طالبان کی قیادت اور مرضی و منشا پر ہے۔ اس وقت وہ کسی رکاوٹ کے بغیر افغانستان کے مالک و مختار ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اعلان کیا ہے کہ اگر طالبان انسانی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں اور افغان سرزمین دوسرے ملکوں کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتے تو امریکہ طالبان کو قبول کرلے گا بصورت دیگر انہیں سخت عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی قسم کا اعلان بیجنگ سے بھی وصول ہؤا ہے۔ دیگر مغربی ممالک کا بھی یہی مؤقف رہا ہے۔ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے افغانستان کی صورت حال پر غور کرتے ہوئے اسی امید کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک سرکاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ’ پاکستان تمام افغان گروہوں کی نمائندگی کے ساتھ ایک جامع سیاسی تصفیے کے لیے پرعزم ہے۔ افغانستان کے تمام فریق قانون کی حکمرانی کا احترام کریں، تمام پارٹیز افغانوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کریں‘۔

ان توقعات کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس وقت طالبان کے پاس عالمی طور سے خود کو تسلیم کروانے، افغانستان میں امن بحال کرنے اور دہائیوں سے جنگ کے ستائے ہوئے شہریوں کو امن کے ساتھ جینے کا موقع فراہم کرنے کا ایک نادر روزگار موقع ہے۔ 2001 میں امریکی حملے سے پہلے طالبان کی حکومت کو پاکستان کے علاوہ صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تسلیم کیا تھا۔ لیکن اب چین اور روس کے علاوہ امریکہ بھی طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر رہا ہے۔ لیکن جو گروہ ایک معاہدہ کے تحت امریکی افواج کے انخلا کے بعد پر امن طریقے سے انتقال اقتدار کے لئے مذاکرات پر راضی نہیں ہؤا تھا، اقتدار ملنے اور ملک پر قبضہ کے بعد وہ کس حد تک یہ احساس کر سکے گا کہ اب انہیں ماضی کی دشواریوں اور مشکلات ختم کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ لگتا ہے کہ طالبان قیادت کے لئے بھی یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ بیس برس کی جنگ کے دوران طالبان بالغ النظر ہوگئے ہیں لیکن اس کا عملی مظاہرہ ابھی تک دیکھنے میں نہیں آیا۔

پاکستان کی سلامتی کو افغان سرزمین سے براہ راست خطرہ رہا ہے۔ اتحادی افواج کی موجودگی میں اشرف غنی کی حکومت نے بھارت کو بھی افغانستان میں پاؤں جمانے اور پاکستان کے خلاف سرگرم گروہوں کی سرپرستی کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ طالبان کی حکومت میں شاید فوری طور سے بھارتی اثر و رسوخ ختم ہوجائے لیکن تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ طالبان کے مراسم کی روشنی میں پاکستان اس وقت تک سکھ کا سانس نہیں لے سکتا جب تک طالبان دو ٹوک انداز میں اس گروہ کو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا واضح پیغام نہیں دیتے۔ فی الوقت ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔ کابل پر قبضہ کے بعد جن قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے ان میں تحریک طالبان پاکستان کے متعدد لوگ بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل ٹی ٹی پی کے لیڈر یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ وہ افغانستان کی اسلامی امارات کی طرز پر پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنے کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ یہ گروہ اگر اس عزم کا اعادہ کرتا ہے تو بظاہر افغان طالبان کے پاس انہیں روکنے کا کوئی ’جواز‘ نہیں ہو گا۔

پاکستان کو موجودہ صورت حال میں بہت چوکنا رہنے اور صورت حال کا احتیاط سے جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی۔ عالمی رائے کے برعکس طالبان سے ربط و تعلق کا کوئی بھی فیصلہ یا اقدام پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ پاکستانی حکومت کہتی رہی ہے کہ طالبان اب ہماری بات نہیں مانتے۔ اب یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرتے ہیں یا 2001 میں طالبان حکومت کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستانی کردار کی وجہ سے اس کے خلاف انتقامی جذبات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے پاس افغانستان کی تبدیل شدہ صورت حال میں بہت زیادہ آپشنز نہیں ہیں۔ اس حالات میں سب سے بہتر حکمت عملی یہی ہوگی کہ جس حد تک ممکن ہو افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words