منٹو کا فحش افسانہ؟ بُو


ایسی تسکین جو لمحاتی ہونے پر بھی جاوداں تھی۔ مسلسل تغیر پذیر ہونے پر بھی مضبوط اور مستحکم تھی۔ دونوں ایک ایسا جواب بن گئے تھے جو آسمان کے نیلے خلا میں مائل پرواز رہنے پر بھی دکھائی دیتا رہے۔ اس بُو کو جو اس گھاٹن لڑکی کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی رندھیر بخوبی سمجھتا تھا لیکن سمجھتے ہُوئے بھی وہ اس کا تجزیہ نہیں کرسکتا تھا۔ جس طرح کبھی مٹی پر پانی چھڑکنے سے سوندھی سوندھی بُو نکلتی ہے۔ لیکن نہیں، وہ بُو کچھ اور طرح کی تھی۔

اس میں لونڈر اور عطر کی آمیزش نہیں تھی، وہ بالکل اصلی تھی۔ عورت اور مرد کے جسمانی تعلقات کی طرح اصلی اور مقدس۔ رندھیر کو پسینے کی بُو سے سخت نفرت تھی۔ نہانے کے بعد وہ ہمیشہ بغلوں وغیرہ میں پاؤڈر چھڑکتا تھا یا کوئی ایسی دوا استعمال کرتا تھا جس سے وہ بدبو جاتی رہے لیکن تعجب ہے کہ اس نے کئی بار۔ ہاں کئی بار اس گھاٹن لڑکی کی بالوں بھری بغلوں کو چوما اور اسے بالکل گھن نہیں آئی بلکہ عجیب قسم کی تسکین کا احساس ہوا۔ رندھیر کو ایسا لگتا تھاکہ وہ اسے پہچانتا ہے۔ اس کے معنی بھی سمجھتا ہے لیکن کسی اور کو نہیں سمجھا سکتا۔

برسات کے یہی دن تھے۔ یوں ہی کھڑکی کے باہر جب اس نے دیکھا تو پیپل اسی طرح نہا رہے تھے۔ ہوا میں سرسراہٹیں اور پھڑپھڑاہٹیں گھلی ہُوئی تھیں۔ اس میں دبی دبی دُھندلی سی روشنی سمائی ہُوئی تھی۔ جیسے بارش کی بوندوں کا ہلکا پھلکا غبار نیچے اُتر آیا ہو۔ برسات کے یہی دن تھے جب میرے کمرے میں ساگوان کا صرف ایک ہی پلنگ تھا۔ لیکن اب اس کے ساتھ ایک اور پلنگ بھی تھا اور کونے میں ایک نئی ڈریسنگ ٹیبل بھی موجود تھی۔

دن لمبے تھے۔ موسم بھی بالکل ویسا ہی تھا۔ بارش کی بوندوں کے ہمراہ ستاروں کی طرح اس کا غبار سا اسی طرح اتر رہا تھا لیکن فضا میں حنا کے عطر کی تیز خوشبو بسی ہوئی تھی۔ دوسرا پلنگ خالی تھا۔ اس پلنگ پر رندھیر اوندھے منہ لیٹا کھڑکی کے باہر پیپل کے پتوں پر بارش کی بوندوں کا رقص دیکھ رہا تھا۔ ایک گوری چٹی لڑکی جسم کو چادر میں چھپانے کی ناکام کوشش کرتے کرتے قریب قریب سو گئی۔ اس کی سرخ ریشمی شلوار دوسرے پلنگ پر پڑی تھی جس کے گہرے سرخ رنگ کا ایک پھندنا نیچے لٹک رہا تھا۔

پلنگ پر اس کے دوسرے اُتارے کپڑے بھی پڑے تھے۔ سنہری پھول دار جمپر، انگیا، جانگیا اور دوپٹہ۔ سرخ تھا۔ گہرا سرخ اور ان سب میں حنا کے عطر کی تیز خوشبو بسی ہُوئی تھی۔ لڑکی کے سیاہ بالوں میں مکیش کے ذرّے دُھول کے ذرّوں کی طرح جمے ہُوئے تھے۔ چہرے پر پاؤڈر، سرخی اور مکیش کے ان ذرّوں نے مل جل کر ایک عجیب رنگ بکھر دیا تھا۔ بے نام سا اُڑا اُڑا رنگ اور اس کے گورے سینے پر کچے رنگ کے جگہ جگہ سرخ دھبے بنا دیے تھے۔

چھاتیاں دودھ کی طرح سفید تھیں۔ ان میں ہلکا ہلکا نیلا پن بھی تھا۔ بغلوں کے بال منڈے ہُوئے تھے جس کی وجہ سے وہاں سرمئی غبار سا پیداہو گیا تھا۔ رندھیر اس لڑکی کی طرف دیکھ دیکھ کر کئی بار سوچ چکا تھا۔ کیا ایسا نہیں لگتا جیسے میں نے ابھی ابھی کیلیں اکھیڑ کر اس کو لکڑی کے بند بکس میں سے نکالا ہو۔ کتابوں اور چینی کے برتنوں پر ہلکی ہلکی خراشیں پڑ جاتی ہیں، ٹھیک اسی طرح اس لڑکی کے جسم پر بھی کئی نشان تھے۔

جب رندھیر نے اس کی تنگ اور چست انگیا کی ڈوریاں کھولی تھیں تو اس کی پیٹھ پر اور سامنے سنیے پر نرم نرم گوشت پر جھریاں سی بنی ہوئی تھیں اور کمر کے چاروں طرف کس کر باندھے ہوئے ازار بند کا نشان۔ وزنی اور نکیلے جڑاؤ نیکلس سے اس کے سینے پر کئی جگہ خراشیں پڑ گئی تھیں۔ جیسے ناخنوں سے بڑے زور سے کھجایا گیا ہو۔ برسات کے وہی دن تھے۔ پیپل کے نرم نرم پتوں پر بارش کی بوندیں گرنے سے ویسی ہی آواز پیدا ہورہی تھی جیسی رندھیر اس دن ساری رات سنتا رہا تھا۔

موسم بے حد سہانا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی لیکن اس میں حنا کے عطر کی تیز خوشبو گھلی ہُوئی تھی۔ رندھیر کے ہاتھ بہت دیر تک اس گوری چٹی لڑکی کے کچے دودھ کی طرح سفید سینے پر ہُوا کے جھونکوں کی طرح پھرتے رہے تھے۔ اس کی انگلیوں نے اس گورے گورے بدن میں کئی چنگاریاں دوڑتی ہُوئی محسوس کی تھیں۔ اس نازک بدن میں کئی جگہوں پر سمٹی ہوئی کپکپاہٹوں کا بھی اسے پتہ چلا تھا جب اس نے اپنا سینہ اس کے سینے کے ساتھ ملایا تو رندھیر کے جسم کے ہررونگٹے نے اس لڑکی کے بدن کے چھڑے ہُوئے تاروں کی بھی آواز سُنی تھی۔

مگر وہ آواز کہاں تھی؟ وہ پکار جو اس نے گھاٹن لڑکی کے بدن میں دیکھی تھی۔ وہ پکار جو دودھ کے پیاسے بچے کے رونے سے زیادہ ہوتی ہے، وہ پکار جو حلقہ ءِ خواب سے نکل کر بے آواز ہو گئی تھی۔ رندھیر کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اس کے بالکل قریب ہی پیپل کے نہاتے ہُوئے پتے تھرتھرارہے تھے۔ وہ ان کی مستی بھر کپکپاہٹوں کے اس پار کہیں بہت دُور دیکھنے کی کوشش کررہا تھا جہاں مٹھیلے بادلوں میں عجیب و غریب قسم کی روشنی گھلی ہُوئی دکھائی دے رہی تھی۔

ٹھیک ویسے ہی جیسی اس گھاٹن لڑکی کے سینے میں اُسے نظر آتی تھی۔ ایسی پراسرار گفتگو کی طرح دبی لیکن واضح تھی۔ رندھیر کے پہلو میں ایک گوری چٹی لڑکی۔ جس کا جسم دودھ اور گھی میں گندھے میدے کی طرح ملائم تھا، لیٹی تھی۔ اس کے نیند سے ماتے بدن سے حنا کے عطر کی خوشبو آرہی تھی۔ جو اب تھکی تھکی سی معلوم ہوتی تھی۔ رندھیر کو یہ دم توڑتی اور جنوں کی ہوئی خوشبو بہت بُری معلوم ہوئی۔ اس میں کچھ کھٹاس تھی۔ ایک عجیب قسم کی جیسی بدہضمی کے ڈکاروں میں ہوتی ہے۔

اداس۔ بے رنگ۔ بے چین۔ رندھیر نے اپنے پہلو میں لیٹی ہُوئی لڑکی کی طرف دیکھا۔ جس طرح پھوٹے ہُوئے دودہ کے بے رنگ پانی میں سفید مردہ پھٹکیاں تیرنے لگتی ہیں اسی طرح اس لڑکی کے جسم پر خراشیں اور دھبے تیر رہے تھے اور وہ حنا کے عطر کی اوٹ پٹانگ خوشبو۔ رندھیر کے دل و دماغ میں وہ بُو بسی ہُوئی تھی جو اس گھاٹن لڑکی کے جسم سے بنا کسی کوشش کے از خود نکل رہی تھی۔ وہ بو جو حنا کے عطر سے کہیں زیادہ ہلکی پھلکی اور دبی ہوئی تھی۔

جس میں سونگھے جانے کی کوشش شامل نہیں تھی۔ وہ خود بخود ناک کے اندر گھس کر اپنی صحیح منزل پر پہنچ جاتی تھی۔ رندھیر نے آخری کوشش کے طور پر اس لڑکی کے دودھیا جسم پر ہاتھ پھیرا لیکن کپکپی محسوس نہ ہُوئی۔ اس کی نئی نویلی بیوی جو ایک فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی بیٹی تھی، جس نے بی۔ اے تک تعلیم حاصل کی تھی اور جو اپنے کالج کے سینکڑوں لڑکوں کے دلوں کی دھڑکن تھی۔ رندھیر کی کسی بھی حسّ کو نہ چھو سکی۔ وہ حنا کی خوشبو میں اُس بُو کو تلاش کررہا تھا جو انھیں دنوں میں جب کہ کھڑکی کے باہر پیپل کے پتے بارش میں نہا رہے تھے۔ اس گھاٹن لڑکی کے میلے بدن سے آئی تھی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2