آئیں دیکھیں بلوچستان (تیسری قسط)

بلوچستان قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔ خوب صورت مناظر، دلکش اور دل فریب سیاحتی مقامات کے ساتھ ساتھ ثقافتی ورثہ اور وائلڈ لائف کی موجودگی نے اس صوبہ کی جغرافیائی اہمیت میں بیش بہا اضافہ کر دیا ہے۔ خوب صورت پہاڑوں، گھنے جنگلات، پانی کے بہتے آبشار، سبزے اور چٹانوں سے مزین یہ سرزمین دیکھنے والی ہر آنکھ کو اپنا اسیر بنا لیتی ہے۔ جو بھی ایک بار اس سرزمین کو دیکھتا ہے، اسے واپس جانے کا من نہیں ہوتا۔ اس سرزمین پر کہیں مٹیالے، کہیں سرخی مائل تو کہیں سرسبز پہاڑ ہیں تو کہیں خوبصورت فطری مناظر کا حسن بکھیرتی وادیاں ہیں۔

ان وادیوں میں قدرتی درے، غار اور صاف پانی کے گنگناتے چشمے دیکھنے والوں کو دعوت نظارہ دیتے نظر آتے ہیں۔ ایسے سیاحتی مقامات صوبہ کے ہر علاقے میں موجود ہیں۔ ان قدرتی مقامات میں ہمیں صاف و شفاف پانی، پہاڑوں سے نکلتے ہوئے چشموں کے خوبصورت نظارے ملتے ہیں۔ بلوچستان اتنے دیدہ زیب سیاحتی مقامات سے مزین ہے کہ اگر کوئی ان کو دیکھنا چاہے تو وہ دیکھتے دیکھتے تھک جائے لیکن یہ مقامات ختم نہیں ہوں گے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ابھی تک بلوچستان کے بہت سارے مقامات سیاحوں نے دریافت نہیں کیے ہیں۔

آئیں بلوچستان کے مزید تفریح گاہوں کا احاطہ کرتے ہیں۔


ہزار گنجی نیشنل پارک، کوئٹہ

ہزار گنجی نیشنل پارک، کوئٹہ کے چلتن پہاڑی سلسلہ میں موجود ایک خوب صورت پارک ہے۔ اپنے آس پاس اونچے اور بھورے رنگ کے پہاڑوں میں واقع یہ ایریا کوئٹہ شہر سے قریب ہی ہے۔ یہ پارک نہ صرف سیاحت و تفریح کے لیے ایک موزوں جگہ ہے بلکہ مطالعہ اور ریسرچ کی غرض سے آنے والے حیاتیات کے محققین کی پسندیدہ جگہ ہے۔ اس پارک میں مختلف انواع کے نایاب جانور، پرندے اور مکوڑے موجود ہیں۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ یہ پارک جانوروں کی تحفظ کے لئے کام کرنے والی عالمی اور قومی سطح کی تنظیموں کے لیے بہترین چوائس ہے۔ یہ پارک بائیو ڈائیورسٹی کی حفاظت کے لیے انتہائی موزوں ہے۔

ہم سب کو معلوم ہے کہ پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے اور یہ پارک اس جانور کی نسل کے تحفظ کا ایک اہم بسیرا ہے۔ یہ پارک بنیادی طور پر نسل کی معدومی کے خطرے سے دوچار چلتن مارخور کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ جس کی تعداد 1950 میں 1200 جانور جبکہ نومبر 1970 کو یہ تعداد بہت کم ہو کر 200 ہو گئی تھی مگر اب یہ تعداد بڑھ کر واپس 800 تک ہو گئی ہے۔ یہی اس پارک کے قیام کا بنیادی مقصد ہے کہ اس جانور کی نسل کو بچانے کے لیے 1980 میں اس پارک کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اس پارک میں مارخور کی ایک اور قسم (سلیمان مارخور) بھی پائی جاتی ہے جس کی کثیر تعداد کوہ سلیمان رینج میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ پارک دوسرے اہم وائلڈ لائف ( جنگلی حیات ) کی موجودگی میں بھی اپنا نام رکھتا ہے۔

حال ہی میں باقاعدہ یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ انتہائی معدومی ( Critcially Endangered ) کے شکار تیندوے ( Persion Leopard) کا ایک جوڑا ہزار گنجی نیشنل پارک، چلتن میں موجود ہے مگر ابھی تک اس کی مزید تحقیق ہونی ہے کہ کیا یہ جوڑا مختلف جنس سے تعلق رکھتا ہے یا کہ ہم جنس ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تفصیل آنی باقی ہے کہ کیا تیندوے کی اس نسل کی مزید تعداد بھی اس ایریا میں موجود ہے کہ صرف یہ دو جانور ہی ہے۔

پرشئین لیپرڈ (Persion Leopard) دراصل Leopard ( تیندوے ) کی آٹھ (Sub Species) میں سے ایک قسم ہے۔ تیندوے کے جوڑے کو کوئٹہ کے جنوب مغربی پہاڑی کوہ چلتن کے دامن میں واقع 27 ہزار ایکڑ پر مشتمل

”ہزار گنجی نیشنل پارک“ میں پہلی مرتبہ آج سے غالباً کوئی سات سے آٹھ ماہ قبل دیکھا گیا تھا۔ تب سے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات، بلوچستان کا عملہ اس کی تلاش میں تھا۔

یاد رہے کہ عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت آئی یو سی این ( انٹرنیشل یونین فار کنزرویشن آف نیچر) نے سال 2016 میں معدومی کے خطرے سے دو چار جانوروں کی فہرست یعنی ریڈ لسٹ میں ”پرشئین لیپرڈ“ (تیندوے ) کو بھی شامل کر رکھا ہے۔

مارچ سے ستمبر تک اس پارک کو وزٹ کرنے کا وقت بہترین وقت ہے۔ ان تمام اعداد و شمار سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ پارک وائلڈ لائف اور لائیو اسٹاک کے شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے کتنی اہمیت کا حامل ہے۔

زنگی ناوڑ، نوشکی
نوشکی کا ریگستان بہت مشہور ہے۔

ہر طرف پھیلے ہوئے نخلستان اور ریت کے ٹیلے اس کو دوسروں سے ممتاز بنا دیتے ہیں۔ اسی ریگستان میں ایک خوب صورت جھیل موجود ہے جسے ”زنگی ناوڑ“ سے پہچانا جاتا ہے۔

دراصل ”ناوڑ“ بلوچی زبان میں ”جھیل“ کو کہتے ہیں اسی وجہ سے مقامی لوگ اسے ”زنگی ناوڑ“ جبکہ باہر کے لوگ ”زنگی جھیل“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

یہ قدرتی جھیل چاروں اطراف سے ریگستان میں گھرا تقریباً 1100 ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہے جبکہ 10 کلو میٹر طویل ہے۔ اگرچہ عام دنوں میں اس جھیل میں پانی کم ہوجاتا ہے مگر بارشیں ہونے کے بعد اس میں پھر سے پانی بھر آتا ہے اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے۔ یہ جھیل نہ طرف سیاحت کے لیے استعمال ہوتی ہے بلکہ آس پاس رہنے والے خانہ بدوشوں اور ان کی مویشیوں کے لیے پانی کا واحد ذریعہ بھی ہے۔ اس کے آس پاس موجود جھاڑیاں اور درخت جہاں اس کی خوب صورتی کو چار چاند لگا دیتی ہے وہیں یہ پرندوں کا مسکن بھی ہے۔

محل وقوع کے اعتبار سے یہ جھیل نوشکی شہر کے جنوب مغرب سے تقریباً 40 کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دوستوں کے ہمراہ اس جھیل کی سیر اور وہاں جا کر پکنک ایک بہترین انتخاب ہے۔ سورج کے غروب اور طلوع ہونے کے وقت کا منظر اتنا منفرد اور دل نشین ہوتا ہے کہ ان ریت کے ٹیلوں سے گزر کر آنکھوں سے پار ذہن پر ایک عجیب مسحور کن اثر چھوڑ جاتا ہے۔ ان ریت کے ٹیلوں پر بیٹھ کر ساتھیوں کے ساتھ قہقہوں بھری محفل کا مزہ شاید کہیں اور میسر نہ ہو کیونکہ آس پاس کے سنہرے رنگ کے یہ ٹیلے ایک انمول تفریح گاہ کا منظر پیش کرتے ہیں اور انسان کو ایک نئی دنیا سے روشناس کراتے ہیں۔ ہاتھ میں قہوہ چائے کا کپ، زنگی ناوڑ کی سیر اور پرسکون ماحول نوشکی کے علاوہ کہیں اور نہیں ملے گا۔

آماچ ڈیم، مستونگ

مستونگ شہر دارالحکومت کوئٹہ سے قریب پڑتا ہے۔ یہ شہر ”مستونگ کیک“ (جو کہ پورے ملک میں مشہور ہے ) کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کے انگور کی بدولت بہت معروف ہے۔ اس کے علاوہ مستونگ قدرتی مناظر کی بدولت بھی مقام رکھتا ہے۔ ویسے تو ڈیم اس لئے تعمیر کیے جاتے ہیں تاکہ پانی کو ایک خاص جگہ محفوظ بنایا جاسکے اور اس کی بدولت زیر زمین پانی کی سطح کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔

”آماچ ڈیم“ مستونگ شہر کے مشرق میں اور کوہ سلیمان رینج کے پہاڑی سلسلے ”کوہ آماچ“ کے دامن میں واقع ہے۔

چاروں اطراف خاکی رنگ کے خشک پہاڑیوں کے درمیان میں نیلے پانی پر مشتمل یہ ڈیم سیاحوں بالخصوص فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی سے شغف رکھنے والے افراد کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

کرخسہ تفریح گاہ، کوئٹہ

اگر آپ اپنے قریبی احباب کے ساتھ زندگی کی چند شامیں یادگار بنانے کے خواہش مند ہیں تو کرخسہ تفریح گاہ آپ کے لئے ہی ہے۔ یا پھر اگر آپ فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی کے شوقین ہیں اور خوب صورت لینڈ اسکیپ کی تلاش میں ہے تو بھی یہ پوائنٹ آپ کا بہترین چناو ثابت ہوگا۔

کوئٹہ شہر سے محض 20 منٹوں کی مسافت پر واقع یہ تفریحی مقام مغربی بائی پاس پر جبل نور کے بالکل پاس ہی ہے۔ یہاں جاگنگ اور سائیکلنگ ٹریک بھی بنائے گئے ہیں اور سب سے بڑھ کر گاڑی پارکنگ بھی موجود ہے، جو کہ اس جگہ کو اور محفوظ اور بے خطر بنا دیتا ہے۔

اگرچہ پہلے اس جگہ پر کام نہیں ہوا تھا مگر اب سرکار کی جانب سے اس جگہ کی تزین و آرائش اور مرمت بھی کی گئی ہے جس سے اس کا مزہ یقیناً دوبالا ہو گیا ہے۔ کام کے بوجھ اور بازاروں کے شور سے آرام کرنے والے افراد کے لیے کرخسہ پرسکون تفریح گاہ ہے۔

ولی تنگی ڈیم، کوئٹہ

وادیٔ اڑک میں ولی تنگی کے نام سے مشہور ایک چھوٹا سا مگر ایک معروف ڈیم بھی واقع ہے۔ یہ ڈیم ”کوہ زرغون“ سے برف کے پگھلنے سے آنے والا پانی محفوظ رکھتا ہے اور یہ پانی بعد میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ڈیم پہاڑوں سے چھوٹے چشموں اور لہروں کی وجہ سے ایک منفرد منظر پیش کرتا ہے۔ اس جگہ کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ یہاں کی ہوا میں خنکی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے، جو کہ سیاحوں کو راحت بخشتا ہے۔

حتی کہ گرمیوں کے موسم میں بھی ولی تنگی میں گرمی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ ڈیم نہ صرف دن کے وقت وزٹ کیا جاسکتا ہے بلکہ رات کو یہاں کیمپنگ بھی کی جا سکتی ہے اور باربی کیو کے مزے بھی اڑائے جا سکتے ہیں۔ ہائیکنگ کے شوقین افراد کے لیے بھی آس پاس کے پہاڑ مکمل سامان مہیا کرتے ہیں۔ اس ڈیم کے گرد کوہ زرغون پھیلا ہوا ہے جو کہ کوہ سلیمان رینج کے پہاڑی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کوہ زرغون سے ہی صنوبر کے جنگلات شروع ہوتے ہیں جو زیارت تک پھیلے ہوئے ہیں۔

یہ ڈیم کوئٹہ سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر مشرق میں سطح سمندر سے 8,350 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ ولی تنگی ڈیم 1960 ء میں پاک فوج نے کوئٹہ اور وادیٔ اڑک کو پانی کی ترسیل کے لیے تعمیر کیا تھا۔ یہاں روزانہ ہزاروں سیاح آتے ہیں اور اکثر مقامات پر مختلف کھانے تیار کرتے ہیں اور خوشی کے گیت گاتے، رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ولی تنگی ایک اچھا سیاحتی مقام ہے۔ جھرنوں کی صورت میں کم مگر مسلسل ٹھنڈے پانی کے بہاو کا خوبصورت نظارہ اس ڈیم کی منظر کشی کو مزید دیدہ زیب بنا دیتا ہے۔

لوس راسکوہ، خاران

اگر آپ کو گرمی کے موسم میں ٹھنڈی چھاوں کی تلاش ہے اور انگور کھانے کو جی چاہ رہا ہے تو لوس راسکوہ بہترین چوائس ہے۔ یہ مقام خاران شہر کے شمال میں تقریباً تین گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ پہلے کے دو گھنٹے کار میں بیٹھ کر سڑک کے ذریعے سفر کر کے جبکہ اس کے بعد گاڑی پارک کر کے ہائیکنگ کے ذریعے منزل مقصود تک پہنچا جاتا ہے۔ راستے میں گرک چشمہ کا چھم چھم کرتا پانی قدرت سے قربت کا احساس دلاتا ہے۔ انگور کے علاوہ کھجور کی درختیں بھی کثرت سے پائی جاتیں ہیں۔ راسکوہ کے بلند و بالا پہاڑ قدرت کی عظمت سے بہرہ مند کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ان پہاڑوں سے آنکھوں میں لگایا جانے والا سرمہ بھی اخذ کیا جاتا ہے۔ لوس راسکوہ اگرچہ ایک عمدہ تفریح گاہ ہے مگر اس سے اکثر لوگ واقفیت نہیں رکھتے۔

(جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words