اگر ٹی ٹی پی نے سانحہ اقبال پارک سے فائدہ اٹھانے پر کمر باندھ لی تو؟

14 اگست کی شب گریٹر اقبال پارک میں ایک معزز خاتون کے ساتھ جو کچھ بیتی ہے اسے دہرانے کا یارا نہیں۔ مجھے حیرت ہے یہ سب کچھ پاکستان کے ثقافتی اور علمی و ادبی اعتبار سے سب سے زیادہ روشن فکر۔ کشادہ دل اور زندہ دلان کے شہر میں رونما ہوا ہے اور یہ بھی کہ تاحال لاہور کے عوام کا وہ ردعمل نہیں آیا جس کی امید کی جا سکتی تھی۔ دو کروڑ انسانوں کی اس بستی میں ایسا بھیانک انسانیت سوز سلوک!

سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر افسوس۔ دکھ تشویش اور ندامت کی سسکیوں کی بیچوں بیچ کچھ سنگدل افراد اب بھی واقعہ کی ذمہ داری مظلوم بچی پر ڈال رہے ہیں کہ وہ وہاں کیوں گئی تھی؟

کیا یہ دلیل اپنے باطن میں اہل لاہور کے لئے گالی کا درجہ نہیں رکھتی؟ کہ بین السطور میں جو کچھ کہا جا رہا ہے اس کے صاف معنی یہ نکلیں گے کہ گریٹر پارک لاہور میں انسان نہیں۔ بھیڑیے جمع تھے اور چونکہ یہ بات ہمیں علم ہے (دلیل کے مطابق) اور خاتون کو بھی اس کا احساس ہونا چاہیے تھا لہذا وہ ایسی جگہ گئی ہی کیوں تھی جہاں وحشی درندے جمع تھے۔

کچھ افراد شدت ٍ دکھ سے اور عموماً ایسے واقعات پر پرجوش انداز میں ملزمان کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کرتے۔ یا پھر از خود مشتعل ہو کر منتقم مزاجی کا مظاہرہ کر دیتے ہیں جو دراصل جرم کے قانونی کارروائی کی امید نہ ہونے کی دلیل پر ذاتی انتقام لینے کی ترغیب ہی کی شکل ہے۔ چونکہ پولیس ابھی کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی حالانکہ ویڈیو میں بہت افراد کے چہرے نمایاں ہیں جنہیں شناخت کر کے ڈھونڈنا چنداں مشکل نہیں پولیس نظام ٍ عدل کی خامیوں میں اپنی روائتی نوآبادیاتی تربیتی سستی کاہلی کی بنیاد پر نیز غیر پیشہ ورانہ تفتیش کی وجہ سے ملزمان کے خلاف موثر مقدمہ بنانے اور چلانے میں ناکام ہوتی ہے تو عدلیہ سزا و تادیبی اقدام نہ کرنے کی ساری ذمہ داری بھی استغاثہ پر ڈال کر سرخرو ہوجاتی ہے۔ کیا نظام عدم موثر اور انصاف کی جلد فراہمی میں اپنی وجوہات پر بھی ناکام نہیں؟ عوامی سطح پر رائے نفی میں ہے۔

حالیہ اور اسی نوعیت کے دیگر سانحات پر فوری انصاف کی فراہمی عوامی مطالبے کی صورت سامنے آتا۔

اقبال پارک سانحہ پر سست روی سے پھیلتی مایوسی کے تناظر نیز افغانستان میں طالبانی ”عدل“ کے رسیا حلقے کیا ردعمل دیں گے اگر خدانخواستہ ٹی ٹی پی سانحہ لاہور کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کارروائی کرنے کا اعلان کردے! ۔

یقیناً ایسے کسی اعلان سے سارے سماج میں کھلبلی مچ جائے گی ریڑھ کی ہڈیوں میں خوف کی لہر دوڑ سکتی ہے۔ مجھے ایسے اعلان کی خواہش ہے نا اس کا طالب ہوں بس برسبیل تذکرہ یہ بات کہی ہے کہ ایسی صورتحال میں لازما ملوث افراد کی سانسیں گھر بیٹھے رک جائیں گی اللہ نہ کرے ٹی ٹی پی۔ جو افغان طالبان کی ذیلی تنظیم ہے وہ افغانستان میں اپنے امیر کا کامیاب پیشرفت کے بعد ہماری جانب رخ کرنے کا ارادہ رکھتی ہو تو حالیہ سانحہ پہل کاری دے سکتا ہے میں حکومت سے امید کرتا ہوں کہ وہ اس اندوہناک واقعہ پر برق رفتاری سے قانونی کارروائی کرے تاکہ ماورائے قانون کسی بھی مہم جوئی کو سر اٹھانے کا بہانہ نی ملے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words