عائشہ کو ہراساں کرنے والے کون تھے؟
مینار پاکستان پر جشن آزادی منانے والے اوباش نوجوانوں نے پاکستانی یوٹیوبر اور ٹک ٹاکر عائشہ بیگ کو کئی گھنٹوں تک جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ سیاسی، سماجی شخصیات اور سول سوسائٹی کی طرف سے عائشہ بیگ کی ہراسانی کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے اور ساتھ ساتھ تجزیہ کار، دانشور اور لکھاری معاشرے میں عورت کو کمزور جاننے اور بیٹی کا ہونا ایک جرم سمجھنے والوں پر لعن طعن کرتے نظر آرہے ہیں۔ عائشہ بیگ سے بھی کچھ میڈیا چینل کے اعلیٰ رپورٹرز یہ سوال کرتے نظر آ رہے ہیں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا اور آپ کیا محسوس کرتی رہیں؟ ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر شیئر کر ان کو کچھ ہی پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عوام کے ذہنوں میں بے شمار سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آخر عائشہ بیگ کو اتنے رش میں ہزاروں مردوں کے درمیان جانے کی کیا ضرورت محسوس ہوئی؟ اب ان سینکڑوں ہراسانی کرنے والوں کو ڈھونڈا جا رہا ہے اور وزیر اعظم عمران خان کے نوٹس کے باوجود بھی کسی کو یہ اعتبار نہیں ہو رہا کہ وہ مجرمان پولیس کے شکنجے میں آ سکیں گے یا نہیں اور کیا ان کو سخت سزائیں مل پائیں گیں۔ عائشہ بیگ کے مطابق وہ 15 پولیس کی مدد کے لیے فون کالز کرتی رہی مگر شاید ہماری پولیس ون ویلنگ کرنے والوں کو ڈھونڈنے میں مصروف عمل تھی۔ جب ملک کے اعلیٰ عہدوں پر فائز وزیر اعظم، وزراء اور دیگر اہم شخصیات مغربی اور کم لباس کو، مردوں کا جنسی طور پر عورتوں کی طرف راغب ہونے کا سبب سمجھیں وہاں ایک عام شخص کی ذہنی سوچ کا کیا معیار ہو سکتا ہے اس کا اندازہ بخوبی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اکثریت کے مطابق قصور وار عائشہ بیگ ہی ہیں جو اس بھیڑ میں گئیں اور ان اوباش لوگوں کو چھیڑنے کی دعوت دی۔ ہراسانی کرنے والے کو سخت سزائیں دینے کے حوالے سے بیانات دینے والے بھی دل میں یہ بات ضرور رکھتے ہوں گے کہ عائشہ آخر وہاں گئی کیوں؟ کیونکہ اس واقعہ سے پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے اور حکومت اور معاشرے پر الزامات لگ رہے ہیں۔
جنسی ہراسانی کے واقعات ترقی یافتہ مہذب معاشروں سے لے کر ترقی پذیر ممالک میں نظر آتے ہیں مگر ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی بالا دستی اور اداروں کی مضبوطی کی وجہ سے اکثر و بیشتر مجرم اپنے کیفر کردار تک پہنچ جاتے ہیں مگر ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں وہاں جنسی ہراسانی ایک عام بات ہے آئے روز اس طرح کے واقعات منظر عام پر آتے رہتے ہیں اور ہمیشہ قصور وار عورت کو ہی سمجھا جاتا ہے کیوں کہ وہ ہراسانی کا سامان ساتھ لے کر چلتی ہے اور مرد تو بس شغل میلے میں بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھو لیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بد قسمتی سے جس طرح گھروں میں مرد ذات کی تربیت کی جاتی ہے اس سے وہ اپنے آپ کو ہر جائز و نا جائز کا حق دار سمجھتا ہے اور یہی چیز اسے اتنا نڈر بنا دیتی ہے کہ کچھ بھی غلط کرنے میں اسے ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ ہاں پابندیاں صرف گھر میں موجود خواتین کے لیے ہیں۔ معاشرے میں کوئی سزا جزا کا تصور نہیں ہراسانی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں مگر ان مردوں کو اندازہ ہے کہ عورت کے ساتھ جو مرضی کر لیں ان کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا اور یہی سوچ معاشرے کے بگاڑ کا سبب بنتی جا رہی ہے۔
ہمارے معاشرے اور مذہب میں عورت کمزور نہیں بلکہ کمزور تو ہماری دقیانوسی سوچ ہے جس کی بنا پر اسے کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اخلاقیات کی کمی ہے اسلامی اقدار سے دوری ہے کہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مملکت کہ جس کی تعلیمات کے مطابق عورت کو نظر اٹھا کر دیکھنا جائز نہیں وہاں آئے روز خواتین کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو نہایت قابل افسوس بات ہے۔ اگر دیکھا جائے تو مینار پاکستان میں عائشہ بیگ کو ہراسانی کا شکار کرنے والوں کو بڑی ہی آسانی سے پکڑا جا سکتا تھا اور ان کو سخت سزائیں بھی دی جا سکتی تھیں مگر افسوس کہ قوم کے محافظ ہی قوم کے لٹیرے بن جاتے ہیں ہمارے ملک میں خواتین کے جنسی ہراسانی کے کیسوں سے متعلق انصاف کی کوئی ایس مثال ہی موجود نہیں جس میں کسی ایک بھی مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہو اور قاضی صاحب نے ایسا تاریخی فیصلہ دیا ہو جو دوسروں کے لیے باعث عبرت بنا ہو۔ ہماری ہاں جو انصاف مہیا کرنے والے اداروں اور امن و امان کی خستہ صورتحال ہے اس میں ہراسانی کرنے والے ان افراد کو صرف پکڑ کر اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ ہمیں اپنے گھروں میں ان کو ڈھونڈ کر ان کی تصحیح اور تربیت کر کے عورتوں کے لیے ان کی سوچ میں تبدیلی لانا ہو گی۔ معاشرے کے ہر طبقے کا فرد باہر کی خواتین کو اپنے گھروں میں موجود خواتین جیسا سمجھے وہی عزت و مرتبہ دے اور اس کے لیے پہلا قدم ہمیں اپنے گھروں سے ہی اٹھانا ہو گا تاکہ اس طرح کی برائیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔


