آٹھویں جماعت کے امتحان کی یادیں

اس سال کرونا کی وجہ سے صوبہ پنجاب میں آٹھویں جماعت کا محکمانہ امتحان نہیں ہوا۔ اس اجتماعی امتحان کی بجائے ہر سکول نے اپنا اپنا امتحان لیا۔ رزلٹ بہر حال اس امتحان کا بھی سنانا پڑا۔ آٹھویں جماعت کے رزلٹ کا اعلان ہوا تو ہمیں اپنا آٹھویں جماعت کا امتحان یاد آ گیا۔ ہمارے دور میں سرکاری ہائی سکولز کے لیے آٹھویں جماعت کا محکمانہ یا ”پیک“ کا امتحان دینا لازمی نہیں تھا۔ سکول کے لائق طلبہ البتہ وظیفہ حاصل کرنے کے لئے امتحان میں بیٹھ سکتے تھے۔

چنانچہ ہماری جماعت کے ”اندھوں“ میں سے جن چار ”کانے“ راجوں کا انتخاب ہوا، خوش قسمتی سے ہم بھی ان میں شامل تھے۔ اس مقصد کے لئے ہم چاروں (یادداشت والے کمرے کی کافی جھاڑ پونچھ کی ہے، باقی نام یاد نہیں آرہے ) گورنمنٹ ہائی سکول 99 /دس آر تحصیل جہانیاں منڈی ضلع خانیوال سے ”وظیفے کے امتحان“ کے لئے قریبی شہر جہانیاں ”تشریف“ لائے۔ ہماری رہائش کا بندوبست اس زمانے میں ہمارے سکول کے فزیکل ٹریننگ کے استاد مرحوم عبد الغفار صاحب کے گھر میں کیا گیا تھا۔

وہ شہر میں قیام پذیر تھے۔ عبد الغفار صاحب مرحوم جہانیاں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے کیونکہ انہوں نے اپنی ملازمت کا ایک لمبا عرصہ گورنمنٹ ہائی سکول جہانیاں میں ہی بطور فزیکل انسٹرکٹر گزارا تھا۔ ان دنوں وہ شہر کی مشہور مسجد ”حقانی مسجد“ کے سامنے فردوس شاپنگ سینٹر والی گلی میں رہتے تھے۔ کھانے کے لئے دیسی گھی سمیت خشک راشن ان کے پاس جمع کروا دیا گیا۔ محسوس ہوتا تھا کہ ان کی اہلیہ کھانا پکانے میں اپنا پورا خلوص بھی شامل کرتی تھیں کیونکہ ناشتے میں بننے والے پراٹھوں، انڈوں اور دوسرے کھانوں کا ذائقہ اب تک یاد ہے۔

امتحان کے دباؤ کی وجہ سے ہم چاروں ان دنوں پکے نمازی بن چکے تھے اور نمازوں میں ہمارا خضوع و خشوع دیکھنے والا تھا۔ نماز کے بعد لمبی لمبی دعائیں بھی کہ یا اللہ اس بار اچھے نمبروں میں پاس کروا دے، اگلے سال پہلے دن سے پڑھائی شروع کر دیں گے۔ اگلا سال آتا تو ہم ان دعاؤں میں کیے گئے وعدوں کو اگلے امتحان تک پھر بھول جاتے۔ میں تو ایک دن میں دو پیپرز دیتا تھا۔ پہلا جو ڈیٹ شیٹ پر درج ہوتا تھا اور دوسرا یہ کہ ابا جی مرحوم کی تاکید تھی کہ پیپر کے بعد فون پر بتانا بھی ہے کہ پیپر کیسا ہوا ہے۔

یہ آج کا دور تو تھا نہیں کہ ایک ہی گھر میں کئی کئی موبائل فون ہوں۔ اس زمانے میں پی ٹی سی ایل یعنی تار والا فون ہی ہوتا تھا اور وہ خاص خاص لوگوں یا کاروباری افراد کے پاس ہوتا تھا۔ اس مقصد کے لئے ابا جی نے جہانیاں شہر کی حقانی مسجد کے ساتھ ہی امتیاز میڈیکل سٹور (آج کل انوار میڈیکل سٹور) کے مالک جناب امتیاز صاحب سے تعارف کروا دیا تھا، جو ہمارے اچھے جاننے والے تھے۔ طے یہ ہوا کہ میں مغرب کی نماز کے فوراً بعد امتیاز صاحب کی دکان سے فون کیا کروں گا اور ابا جی وہاں گاؤں 102 / دس آر کی بستی ظفر آباد تحصیل جہانیاں منڈی ضلع خانیوال میں چودھری ظفراللہ واہلہ صاحب کے ڈیرے پر میرے فون کا انتظار کیا کریں گے۔

واہلہ صاحب ایم این اے رہ چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے 15 کلومیٹر دور جہانیاں شہر سے بے شمار کھمبوں کی مدد سے ٹیلی فون کی سہولت حاصل کی ہوئی تھی جو اس زمانے میں (1980) ایک نعمت سے کم نہ تھی۔ آج کل تو بچوں کے لئے فون کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن اس دور میں تو یہ آگ کا دریا محسوس ہوتا تھا، جس کو تیر کر پار کرنا ہوتا تھا۔ اس زمانے میں بچوں کو ایسے کام کرتے ہوئے ”شرم“ بہت آتی تھی۔ چناں چہ مجھے بھی بہت آتی تھی کہ دو تین بندوں کے سامنے فون کیسے کروں؟

یہ کام پیپر دینے سے بھی زیادہ مشکل محسوس ہوتا تھا۔ اس کا حل میں نے یہ نکالا کہ مغرب کی نماز کے بعد دوڑ لگاتا اور ریلوے روڈ پر واقع چودھری ظفر اللہ واہلہ صاحب کے جہانیاں والے ڈیرے کا رخ کرتا۔ یہاں بابا امام دین ڈیرے دار ہوتا تھا۔ اس کے سامنے مجھے ذرا کم شرم آتی تھی، اس لئے وہاں سے فون کرنے میں زیادہ آسانی محسوس کرتا تھا۔ فون کیا ہوتا، بس ایک رٹا رٹایا فقرہ روز دہرا دیتا: ”پیپر اچھا ہوا ہے“ ۔ ابا جی اگلا مشکل سوال کر دیتے : ”کتنے نمبر آ جائیں گے“؟ میں اس حساب سے کہ ان کی آس بھی نہ ٹوٹے اور میرا بھی بھرم رہ جائے، ایک محتاط سا اندازہ بتا دیتا تھا۔

رات کے کھانے کے بعد ہم چاروں ”واک“ پر بھی جاتے۔ ایک دو بار ہم واک کے لئے جہانیاں کے اکلوتے سینما ”عطا محل“ تک بھی گئے۔ اس کی چھت نہیں ہوتی تھی۔ اس لئے اسے ”کچا“ سینما کہتے تھے اور اس میں صرف رات کا شو ہی چلتا تھا۔ وہاں جانے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ سینما کے باہر لگیں خواتین اداکاراؤں کی بڑی بڑی تصاویر کو دیکھ کر امتحان کی ٹینشن دور کی جائے۔ میں تو اس کام سے دو وجوہات کی بنا پر پرہیز کرتا تھا : ایک تو یہ کہ میں ”شاواں دا منڈا“ (سید زادہ) تھا اور ذہن میں تھا کہ اگر کسی نے دیکھ لیا کہ تو کیا سوچے گا کہ ”پیر زادہ“ صاحب کن چکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ وہ گاؤں میں ابا جی کو بتا دے اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ پیپرز ہو رہے تھے اور امتحان کی وجہ سے تازہ تازہ پکے نمازی بننے کی وجہ سے طبیعت میں اچھی خاصی روحانیت پیدا ہو چکی تھی۔ ڈر تھا کہ کہیں سب کچھ ضائع ہی نہ ہو جائے، اللہ میاں ناراض ہو جائے اور پیپرز اچھے نہ ہوں۔ اس لئے میں ضبط کر کے سینما کی طرف دیکھنے کی بجائے دوسری طرف منہ کر کے سامنے ریلوے لائن کو دیکھتا رہتا اور دوسرے ساتھی ”نشہ“ پورا کر کے آ جاتے۔

اس امتحان کے کچھ سالوں بعد اپنی زندگی کی سینما کی پہلی فلم جو کہ اداکار شاہد کی ”طلاق“ تھی، اسی کچے سینما میں دیکھی تھی۔ اب اس سینما کا نام و نشان بھی باقی نہیں۔ محترم شبیر احمد شاہد صاحب سے ملنے والی معلومات کے مطابق چک نمبر 111 / دس۔ آر جہانیاں میں جہاں آج کل بلال الیکٹرک سٹور اور عمران بیکرز ہیں، وہاں بھی ایک سینما ہوتا تھا، جہاں محلے داری کا فائدہ اٹھا کر محلے کے بہت سے بچے ”مفتا“ بھی لگاتے تھے۔

بس اسی طرح مزیدار پراٹھے کھاتے، خضوع و خشوع سے نمازیں پڑھتے، سینما کی ادھوری سیریں کرتے امتحان کے مشکل دن بھی گزر ہی گئے۔ اب آپ یہ نہ پوچھیے گا کہ ہمیں وظیفہ ملا یا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words