ہم نے اپنی نئی نسل کو انسانی تہذیب سے لاتعلق کر دیا ہے


ول ڈیورنٹ نے اپنی آخری کتاب میں اپنی ساری زندگی کے مطالعے اور ذاتی تجربے کا نچوڑ پیش کیا۔ اس کتاب میں وہ ایک بات لکھتا ہے اور وہ بات کان دھر کے سننے کے قابل ہے۔ اس نے لکھا کہ ”آپ صرف پچاس سال تک اپنی نئی نسل کو انسانی کی ہزاروں سال پر محیط تہذیب کے بارے کچھ نہ بتائیں اور سکھائیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہمارے بچے بالکل وحشی درندوں سے بھی بڑے ظالم اور خون خوار بن جائیں گے“ تو کیا آج روزانہ جو ہم اپنے وطن میں دیکھتے ہیں کیا یہ سچ نہیں کہ ہماری تہذیب کے تسلسل میں رخنہ پیدا ہو جانے کا نتیجہ ہے؟

ہمارے ارباب بست و کشاد نے اور ہم نے گزشتہ چوہتر سالوں میں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے انسانی تہذیب کی ان تک منتقلی کے لیے کتنی تگ و دو کی؟ جواب ہے صفر بلکہ ہم نے تہذیبی تسلسل میں رخنے ڈالنے کی ان چوہتر سالوں میں سر توڑ کوشش کی جس کا ثمر آج ہر روز ہماری جھولی میں گر رہا ہے اور ہم آج بھی سوائے چیخنے چلانے کے اور کچھ نہیں کر رہے۔

تہذیبی تسلسل میں خلل آ جائے تو کیا ہوتا ہے؟ یہی ہوتا ہے جو ہر روز ملک خداداد میں ہو رہا ہے۔ کسی نے تہذیبی تسلسل میں رخنہ پیدا ہو جانے کے نتائج جاگتی آنکھوں سے دیکھنے ہوں تو ملک پاکستان کے اندر ہونے والے جرائم کی نوعیت کو دیکھے۔ جرائم تو ہر ملک میں ہوتے ہیں لیکن جس قوم کی اپنی تہذیبی قدریں ڈھے گئی ہوں یا ڈھے رہی ہوں یا قوم ان سے نفور ہو جائے اور نئی قدریں بوجوہ پیدا نہ ہو سکیں تو پھر جرائم کی نوعیت سنگین تر ہو جاتی ہے۔ جو لوگ بھاشن دیتے ہیں کہ جرائم کس ملک میں نہیں ہوتے ان کو یہ نہیں پتا کہ ہمارے جرائم اور تہذیب کے تسلسل کو جاری رکھنے والی قوموں کے جرائم کی نوعیت میں فرق کیا ہے۔

جب لوگوں کی یاداشت سے قانون کی گرفت اور تہذیب کی قدریں محو ہو جائیں تو ان کی حماقتیں بے انت ہو جایا کرتی ہیں۔ جس معاشرے کے لوگ ہر وقت محرومیوں اور استحصال کا سامنا کر رہے ہوں تو ان کے اندر منتقمانہ رویے ایسی الجھنیں پیدا کر دیتے ہیں جن کو وہ خود سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی باطنی خباثتوں کا بارود کسی بھی لمحے کسی بھی معمولی سی چنگاری سے بھڑک اٹھتا ہے۔ عقل والے ایسے سانحات کو دیکھ کر صدمے میں چلے جاتے ہیں جب کہ خباثتوں بھرے انسان نما درندے لطف اندوز ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور عقل والوں کے تاسف کا ٹھٹھہ اڑانے لگتے ہیں۔

ہمارے لوگوں کی اکثریت روز بہ روز فرسٹریشن اور ڈپریشن کا شکار ہوتی جا رہی ہے خاص کر نوجوان نسل۔ کچھ ملکی معاشی حالات ایسے ہیں کچھ خواہشات وسائل سے بڑھ گئی ہیں اور کچھ اشتہار بازی نے ہماری خواہشات کی اشتہا کو ایسے بھڑکا دیا ہے کہ ہم وقت سے پہلے اور محنت کیے بغیر ہی وہ سب کچھ پا لینا چاہتے ہیں جس کی سماج اور میڈیا اشتہار بازی کر رہے ہیں۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ جو کچھ ہم چاہ رہے ہیں یہ ہماری اپنی خواہشات نہیں بلکہ صارفیت کی پیدا کردہ ہیں۔ ہم سکون سے رک کر خود اپنے فیصلے کرنے کے بجائے دیکھا دیکھی دوڑ پڑے ہیں۔ اگر ہم ٹھہر کر تھوڑا سوچ لینے کی صلاحیت حاصل کر لیں تو شاید ہماری اندھی خواہشات کی پیدا کردہ اشتہا میں تھوڑی کمی آ جائے۔

Latest posts by امان اللہ محسن (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments