"قرارداد پاکستان سے ٹک ٹاک تک”



مینار پاکستان جہاں پاکستان بننے کی قرار داد منظور کی گئی تھی کہ مسلمان اپنی مرضی سے اسلام کے مطابق زندگی گزار سکیں میرا دوست نون مقدمہ لے کر حاضر تھا۔

لڑکوں کی تربیت کون کرے گا؟ نون کا اسرار جب حد سے بڑھ گیا تو مجھے ٹوکنا پڑا۔ وہ ایک لڑکی اور 400 لڑکے آخر وہ 400 کسی ماں کے بیٹے نہیں ہیں؟ اور وہ ماں عورت نہیں ہے؟ یا پھر سعادت حسن منٹو ٹھیک کہتے تھے کہ مرد صرف عورت اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کو مانتا ہے باقی عورتیں اسے قصائی کی دکان پر لٹکتے ہوئے گوشت کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔

مرد کو وہ عورتیں اس لیے عورتیں لگتی ہیں کیونکہ وہ ان کی عزت و آبرو ہوتی ہیں اور اس عزت کی حفاظت بھی کرتی ہیں۔

وہ ٹک ٹاک بنانے مینار پاکستان نہیں جاتیں۔ نون نے ایک دفع پھر بھرپور حملہ کیا۔

فرض کرو وہ لڑکی بدکردار تھی تو بھی کیا 400 مردوں کو زیب دیتا ہے کہ وہ اس سے بدسلوکی کرے، نون سے میں نے سوال کیا۔

یہ ٹک ٹاکر ہیں ان کو شہرت چاہیے۔ مصطفیٰ خاں شیفتہ کا شعر آپ نے نہیں سنا
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

آپ ان کی ٹک ٹاک پر ویڈیوز ملاحظہ فرمائیں آپ کو تب احساس ہو گا کہ ان جیسی ہزاروں لڑکیاں فحاشی کو فروغ دے رہی ہیں۔

نون غصے میں بھنایا ہوا تھا۔

انٹرنیٹ کی دیگر سائٹس پر بھی فحش مواد موجود ہے اس کا بھی یہی مطلب ہوا کہ فحش فلموں میں کام کرنے والی عورتوں کی سرعام تذلیل کی جائے؟

عزت نفس تو ایک طوائف اور فحش عورت کی بھی ہوتی ہے لیکن وہ مجمع کیا ٹھیک کر رہا ہے؟
میرا سوال اب نون کے جواب کا منتظر تھا کہ نون نے ایک اور سوال اٹھایا۔

آپ کے خیال کے مطابق عورت سر بازار جو بھی کرے مردوں کو کھلی چھٹی ہے وہ کرتے پھریں اور عورتوں کو گھروں میں محصور کر دیا جائے؟

نہیں میں اس حق میں بالکل نہیں۔ میں نے اپنے موقف کے حق میں دلیل دینے کے لیے وقفہ لیا اور کہا۔
آپ جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں عورت، غیر مردوں میں کتنی محفوظ ہے؟

موٹروے کیس کو اٹھا لیں یا مختلف دفاتر میں ہراساں کرنے کی رپورٹس آپ کے رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہیں۔

جب آپ کے علم میں ہے کہ عورت یہاں تشدد کا نشانہ بنائی جائے گی تو بجائے اس کے کہ آپ اسی معاشرے میں بلاخوف و خطر گھومیں آپ اپنی طرز زندگی میں تھوڑی تبدیلی لے آئیں۔

1۔ لباس کا خیال رکھیں۔
2۔ مخلوط محافل سے اجتناب کریں۔
3۔ مخلوط دفاتر میں نوکری کرنے کو ترجیح نہ دیں۔
4۔ دن کے اجالے میں سفر کریں۔
5۔ انجان لوگوں سے انجان جگہوں پر مت جائیں۔

میری بات مکمل ہوئی ہی تھی کہ نون نے اختلافی نوٹ دیا۔
مطلب عورت کو اندر بند کر کے کنڈی لگا دیں۔

نہیں ہر گز نہیں۔ معاشرے کی بیٹوں کی تربیت کریں جب آپ کا معاشرہ عورت کو برابر کا انسان سمجھ کر (نہ کہ اسے کمزور جان کر اس کا ریپ کرنے کے در پے ہو) عزت و توقیر دے تب آپ اوپر بیان کردہ نقاط کو ریلیکس کر کے اسے معاشرے میں آزاد گھومنے کی مزید آزادی دے دیں۔

اگر آپ کے بیان کردہ نقاط آپ سمجھتے ہیں کہ ٹھیک ہیں تو قبروں میں سے لاشوں کے ساتھ کیا جانے والا ریپ، چھوٹی بچیوں کے ساتھ ریپ اور قتل کی وارداتیں، برقع میں ملبوس خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں لباس، مخلوط محافل، سفر اور انجان لوگوں سے ملاقاتیں پر دلیل ہیں؟

نون کی بات میں وزن تھا۔ ریپسٹ ایک مائنڈ سیٹ کا نام ہے۔ معاشرے کا ہر فرد ریپسٹ مائنڈ سیٹ کا نہیں ہے۔ آپ اس بات کو سمجھیں۔ میں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ ان اقدامات سے خود کو کافی حد تک محفوظ کر سکتے ہیں۔

معاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے ”رول آف لا“ کا ہونا ضروری ہے اور یہ عوام کا کام نہیں اس بات کو یقینی بنانا فوری اور سستا انصاف مہیا کرنا حکومت وقت کا کام ہے۔

آپ کا کام اپنے حصے کی ذمہ داری نبھانا ہے۔

نون نے غیر اتفاقیہ سر ہلایا اور یہ کہتے ہوئے محفل برخاست کر دی کہ یہ ایک پلینڈ ویڈیو تھی اور صرف سستی شہرت کے لیے ڈھونگ رچایا گیا۔

Facebook Comments HS