نکلو بھیڑیے کی کھال سے، اوڑھو برقعہ


یہ جو عورت ہے نہ اپنے بھاگ کے بھوگ سہتی ہے۔ عورت کہیں بھی ہو، اس کا مصرف کائنات کی خوبصورتی اور مرد کی دل جوئی کے سوا کچھ نہیں سمجھا جاتا۔ دوسرے ممالک میں انصاف کا نظام پختہ ہونے کی وجہ سے مرد اپنے موڈ، شوق، مزاج اور غصے کو قابو میں رکھتا ہے۔ لیکن برصغیر میں روٹی دیر سے ملے تو جوتی، اپنی مرضی چلائے تو گھونسہ، انکار کیا تو قتل۔ سڑک پر چلتی تنہا عورت تو ہے ہی مفت کا مال۔

عورت دھڑکتا دل رکھتی ہے، اس کی بھی خواہشات ہیں۔ وہ بھی تمہاری طرح آزادی سے جینے کا حق مانگتی ہے۔ کروڑوں مردوں کی طرح اگر کوئی عورت بھی عرب معاشرے اور مذہبی روایات پر نہیں چلنا چاہتی، اگر وہ بھی تمہاری طرح سر ننگا رکھتی ہے، اگر وہ بھی تمہاری طرح نئے فیشن اپنانا چاہتی ہے، جدید لباس پہنتی ہے۔ تمہاری ہی طرح سر، بازو اور ٹانگیں ننگی رکھتی ہے تو تمہاری طرح اپنے اعمال کی وہ بھی اسی طرح جواب دہ ہے جیسے تم ہو۔ اگر تم رات گئے تنہا سفر کر سکتے ہو، کام پر جا سکتے ہو، کسی تقریب میں شرکت کر سکتے ہو، دوستوں کی محفل میں شریک ہو سکتے ہو، تو عورت کو بھی آزادانہ بغیر کسی بھیڑیے کے خوف کے تمہاری طرح اپنی منشا سے جینے کا حق ہے۔

خود کو اس کے لیے خطرہ بناتے ہو، مانتے ہو کہ تم بھیڑیے ہو، پھر حکم نافذ کرتے ہو کہ وہ گھر میں مقید ہو جائے۔ اور گھر سے نکلنا ضروری ہو تو برقعہ اوڑھ لے۔

خود کو بھیڑیے کی کھال میں گھسا کر کہتے ہو باہر بھیڑیے ہیں۔ بے حجاب عورت کے لیے تم درندگی کو جائز سمجھتے ہو تو نکلو بھیڑیے کی کھال سے اور اوڑھ لو برقعہ، سر سے پاؤں تک ڈھانپو خود کو، پسینے میں شرابور، گزرو کسی شاہراہ سے، رکو کسی اسٹاپ پر، بیٹھو کسی بس میں۔ گھسو کسی بازار میں۔ دیکھنا کہ کس کس نے تمہارے بدن کا ایکسرے لیا، محسوس کرنا وہ غلیظ ہاتھ جنہوں نے تمہارا جسم چھوا، سننا وہ غلیظ آوازیں، جو تمہیں زمین میں گاڑ دیں۔ خود کو ہی اس کے لیے خطرہ بناتے ہو۔ مانتے ہو کہ تم بھیڑیے ہو، اس لیے وہ گھر میں مقید ہو جائے۔ اور گھر سے نکلنا ضروری ہو تو برقعہ پہن لے۔

تو کسی روز تم بھی بھیڑیے کی کھال سے نکلو اور اوڑھو برقعہ۔

Facebook Comments HS