آدھی رات کو سنسان سڑک پر

کالج سے واپسی پر اکثر اوقات دیر ہوجاتی تھی، ہمارے گاؤں سے کافی دور شہر میں کالج تھا جس میں ہم پڑھنے جاتے تھے۔ صبح کو لڑکے اور شام کو لڑکیاں پڑھتیں تھیں، صرف آنے جانے میں چار گھنٹے لگ جاتے تھے صبح سات بجے گھر سے نکلنا شام کو سات بجے واپس آنا، یہ سلسلہ آٹھ سالوں تک چلتا رہا۔ بس سے اترنے کے بعد بھی بیس منٹ کا راستہ تھا جو ہم پیدل چل کر کالج جاتے تھے، بارش میں، اکیلے میں، سنسان گلیوں میں، ہجوم کے بیچ میں کبھی ڈر نہیں لگا۔

نوکری کے سلسلے میں پوری ملک میں اکیلے آنا جانا، گھومنا پھرنا، شاپنگ کرنا، کبھی ڈر نہیں لگا۔ بچپن میں ہر روز دو کلومیٹر پیدل چل کر اسکول جانا واپس آنا، پیاس لگنے پر کسی کے گھر جا کر پانی پینا، اسکول کے بچوں کے ساتھ ان کی گھر جا کر کھانا کھانا، کبھی ڈر نہیں لگا، کبھی اگر خود کو اکیلا محسوس کیا تو چار لوگوں کے قریب جاکر کھڑے ہو جاتے تھے تو اطمینان ہو جاتی تھی کے لوگوں کے بیچ میں کھڑے ہیں اب محفوظ ہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ابو نے ہمیں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمت جرات کے ساتھ سر اٹھا کر جینا سکھایا، مشکلات کا سامنا کرنا سکھایا، زندگی جینے کے ہنر سکھائے۔ لیکن اب مجھے ڈر لگنے لگا ہے، ایک انجانا خوف گھر سے باہر نکلتے وقت، کسی پارک میں، کسی مارکیٹ میں خوف سائے کی طرح میری ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ گھر میں کوئی آہٹ ہو یا دروازے پر دستک کی آواز، میں چونک جاتی ہوں۔ جس دن سے اس ملک کا وزیراعظم کا بیان آیا ہے اور انہوں نے عورتوں اور ان کے کپڑوں کو قصوروار ٹھہرایا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کے وہ بندہ آکسفورڈ سے پڑھ کر آیا ہے۔

اس کے اس بیان کے بعد ہم خود کو اور بھی غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔ جب ریاست اپنے ذمے داری نبھا نہ سکے اپنے لوگوں کو تحفظ فراہم نہ کر سکے، ہر بات کا قصوروار عورت کو ٹھہرایا جائے۔ اور مجرم کھلے گھوم رہے ہوں تو پھر ذمے دار کس کو ٹھہرائیں۔ لیکن یہاں پر بات صرف عورت کی نہیں ہے، اس ملک میں تو معصوم بچیاں، بچے، لڑکے، نوجواں، خواجہ سرا، قبر میں دفن ہوئی لاش، امیر، غریب، فقیر، کوئی بھی تو محفوظ نہیں ہے۔ تو پھر یہ مسئلہ عورت اور عورت کے کپڑوں میں تو نہیں ہے، یہ مسئلہ تو اب نفسیاتی مسئلہ بھی نہیں رہا۔ یہ تو جنسی درندگی ہے، جس کا علاج کرنے کے بجائے چھپایا جا رہا ہے، مجرموں کو سزا نہیں مل رہے، اس ملک میں قانون کی بالادستی نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہ ساری مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

بنے ہیں اہل ہوس، مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

آزادی کے دن آزادی کا جشن منانے کے دوراں مینار پاکستان لاہور میں جو واقع پیش آیا ہے۔ کوئی تو نہیں ہے اس سے پہلے بھی کئی واقعات ہو چکے ہیں، یہ ان واقعات کا تسلسل ہے، لیکن ہر بار سارا الزام لڑکیوں پر لگا کر انہیں ہے قصور وار بنا دیا جاتا ہے۔ کے اس کی غلطی ہوگی اس نے ہی کچھ غلط کیا ہوگا۔ رات کو کیوں نکلی، اکیلی کیوں نکلی کسی سے ملنے کیوں گئی۔ کیا اسلام میں ساری ذمے داریاں عورت پر ڈالی گئی ہیں مرد پر کوئی ذمے داری عائد نہیں ہوتی، وہ کھلے سانڈ کی طرح دندناتا پھر رہا ہے۔

کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ عورتوں سے اتنی نفرت، بدگمانی، جنسی تعصب صرف اس لئے کے ان کو کمزور بنا کر ڈرا دھمکا کر گھر تک محدود رکھا جائے۔ یہ واقع تو دل دہلا دے نے والا واقع ہے۔ دن دیہاڑی مینار پاکستان پر چودہ اگست کو ہزاروں لوگوں کے بیچ، چار سو مردوں نے مل کر اس لڑکی پر جنسی تشدد کیا، اس کے کپڑے پھاڑے، اسے زد و کوب کیا، پکڑ کر ہوا میں اچھالا گیا، اس سے لوٹ مار کی گئے۔ ان چار سو مردوں میں ایک بھی انسان نہ تھا، سارے کے سارے بھیڑیے تھے جو اس کو نوچتے رہے تین گھنٹوں تک۔

اتنے اہم دن پر سکیورٹی کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ پوری قوم باجے بجانے میں مصروف تھیں۔ یہ سب تو اس ملک کی تاریخ ہے۔ یہ تو وہ بیج ہے جو ستر سال پہلے بویا گیا تھا جس کی فصل آج تک کاٹ رہے ہیں۔ اور ہم افغانستان پر طالبان کے قبضے کا جشن منا رہے ہیں۔ طالبان تو ہمارے اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

جس ملک کی بنیاد عورتوں کا ریپ کرنے پر رکھی گئی ہو، جنہوں نے سکھوں کی عزتیں لوٹیں ان کا مال متاع لوٹا جن کی ظلم اور جبر سے تنگ آ کر عورتوں نے اپنی عزت بچانے کے لئے اجتماعی خودکشیاں کیں۔ جنہوں نے بنگالیوں پر مظالم ڈھائے، وہاں پر ہم کیا امید کر سکتے ہیں کے ہم محفوظ ہیں۔ سب کچھ ٹھیک ہے، آزادی کے دن پر اس ملک کی عورتیں بھی آزادی سے گھر سے باہر نکل سکتی ہیں۔

جس طرح سے آمر ضیا الحق نے ملک میں مذہبی جنونیت کو پروان چڑھایا، جس طرح سے اس ملک کے مظلوم طبقات عورتوں، بچوں، غریب لوگوں، مزدوروں، اقلیتوں کو، ظلم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے ان کی جان، مال، عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔ جس ملک میں ان کی معصوم بچیوں کو اغوا کر کے زبردستی مسلمان بنایا جاتا ہے ، جس ملک میں گلاس میں پانی پینے پر دوسرے مذاہب کے بچوں کو قتل کیا جاتا ہے، جس ملک میں بچوں کے ذہنوں میں نصاب کے ذریعے مسلمان اور کافر کا زہر بھرا جاتا ہے۔

جس ملک میں روزانہ عورتیں قتل ہوتی ہوں، ان کا ریپ ہوتا ہو، ان پر تشدد ہوتا ہو، اور اس کو گھریلو تشدد کا نام دے کر بات کو ختم کر دیا جاتا ہو۔ جس ملک کے میں بی قصور عورتوں کو کالی کر کے قتل کر دیا جاتا ہو۔ اور کوئی شنوائی نہ ہو، سنا تھا قانون اندھا ہوتا ہے لیکن اس قدر قانون اندھا ہوگا، اندازہ نہیں تھا۔ یہ واقع دل دہلا دے نے والا واقع ہے، اس پر اس طرح کی لاتعلقی اس معاشرے کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوگی۔ اگر اس پر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی اور مجرموں کو سزا نہ ملی۔ جب تک قانون کی بالادستی نہیں ہوگی مجرموں کو سزا نہیں ملے گے۔ تب تک اس ملک میں کوئی بھی آزاد نہیں ہوگا کسی کو انصاف نہیں ملے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words