عورت مال غنیمت نہیں

شام کے سائے پارک میں لہرا رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اندھیرا ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لینے والا تھا۔ ریس کورس پارک میں چہل پہل اسی طرح تھی۔ میں بھی چند دوستوں کے ہمراہ وہاں گھومنے گیا ہوا تھا۔ جوانوں کی ٹولیاں در ٹولیاں گھوم پھر رہی تھیں۔ جشن بہار کا میلہ لگا ہوا تھا۔ تبھی میں نے دیکھا کہ جوان لڑکوں کی ایک ٹولی، دو لڑکیوں کے پیچھے گھوم رہی ہے۔ وہ لڑکیاں خاصی پریشان تھیں۔ شاید وہ اپنے گھر والوں کو ڈھونڈ رہی تھیں۔

”سنیں! بہت پیاری لگ رہی ہیں۔“
”نمبر دے دیں۔“
تبھی ایک لڑکی نے تھوڑی ہمت دکھائی اور بالکل ساتھ آتے لڑکے سے کہا۔
”کیا تمھارے گھر میں بہنیں نہیں ہیں۔“
انہیں اس جملے پر قطعی کسی قسم کا افسوس نہیں ہوا۔
اچانک وہی لڑکا بول اٹھا۔
”نہیں میں اکیلا ہوا۔ اب نمبر دے دو۔“
تبھی سکیورٹی والے وہاں نظر آئے اور لڑکیوں نے ان کی مدد سے جان بچائی۔

یہ لاہور کے کسی اکیلے پارک کا واقعہ نہیں۔ اقبال پارک ہو، جناح باغ یا پھر کوئی بھی پبلک جگہ، عورت محفوظ نہیں۔ خاص کر کسی بھی پبلک جگہ پر رش والے دن فیملی کے ساتھ کوئی انسان نہیں جاسکتا۔ میری ایک دن ایک کولیگ سے بات ہوئی۔ وہ مکمل پردہ کرتی ہے۔ اس نے تقریباً آہ بھرتے ہوئے کہا۔

”وہ جب بازار میں چلتی ہے اور اگر رش ہو تو کتنے لوگ اسے چھونے اور اعضا کو اس کے ساتھ لگانے کی کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کسی گلی سے جا رہی ہو اور سامنے بائیک پر کوئی لڑکے آرہے ہوں تو وہ لازما ان کی غلط نظروں اور جملوں کا سامنا کرے گی۔“

ہمارے ایک دوست کی شاہ عالم میں دکان ہے۔ وہ بتاتے ہیں جب ایسی مارکیٹ میں غلطی سے کوئی عورت آ جائے تو مرد اسے ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے کوئی بھوکا جانور شکار کو دیکھتا ہے۔ اکثر مارکیٹ میں اکثر اوقات انہی لوگوں کو عورتوں سے تھپڑ بھی کھاتے دیکھا گیا ہے۔

تو کیا عورت کسی عبادت خانے میں محفوظ ہے۔ یقین کیجئے ایسا بھی نہیں ہے۔ شرپسند افراد وہاں بھی اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی طرح عورت کو تنگ کیا جائے۔

عورت کے متعلق قومی مزاج ہی ایسا بنا دیا گیا ہے کہ اپنے گھر کی عورت پاک اور باقی ناپاک شمار ہوں گی۔ وہ مال غنیمت کی طرح ہر وقت دستیاب ہو گی۔ کوئی مرد بھی چاہے تو انہیں نوچ سکتا ہے۔ یہ میرے سامنے کا واقعہ ہے۔ ایک سال پہلے میٹرو بس میں، سفر کے دوران ایک خاتون نے ایک مرد کو سب کے سامنے نہ صرف تھپڑ جڑ دیا تھا بلکہ اچھا خاصا بے عزت بھی کیا تھا۔ وجہ یہی تھی کہ جگہ کم ہونے کی وجہ سے مرد تقریباً عورتوں کی جگہ پر کھڑے تھے، اسی دوران اس مرد نے عورت کو بھی عام خاموش عورت سمجھتے ہوئے بد تہذیبی کرنے کی کوشش کی تھی۔

جب بہت سے دوست کہتے ہیں اصل مسئلہ عورت خود ہے؟ وہ اپنے جسم کی نمائش کرتی ہے۔ وہ خود مرد کو دعوت دیتی ہے تو بلامبالغہ ایسے دوستوں پر ہنسنے کا دل کرتا ہے۔ جب ایسے دوستوں سے پوچھا جاتا ہے بھلا دو سال کی بچیوں کا کیا قصور ہے۔ ان بچوں کا کیا قصور ہے اور حوا کی ان بیٹیوں کا کیا قصور ہے جن کو زیادتی کے بعد قتل کیا جاتا ہے تو وہ یہی توجیہ دیتے ہین۔ ایسے لوگ جنسی درندے ہیں۔ وہ ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ بھلا مغربی عورتوں ایسی شکایتیں کیوں نہیں کرتیں تو ان سے یہی عرض ہے کہ مغربی عورت کو چھیڑنا اتنا آسان نہیں ہے۔

وہ چھٹی کا دودھ یاد دلا دیتی ہیں۔ مشرقی عورت پر بھی لازم ہے کہ خود کو کمزور سمجھنے کی بجائے مضبوط سمجھے۔ ایسے درندوں کا منہ نوچ لے۔ ان کی آنکھیں نکال لیں۔ یہ باشعور اور بہادر عورت سے ڈرتے ہیں۔ میں نے ایسے بزدلوں کو لبرٹی، ایم ایم عالم روڈ، یا کسی بڑے پلازے میں انسان کی طرح ہی چلتے دیکھا ہے۔ شاید تبھی یہ سدھریں گے۔

اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ تمام پبلک مقامات پر مناسب سیکیورٹی کا انتظام کیا جائے۔ دوسرا ان جنسی وحشیوں کو تعلیم، شعور کے ذریعے بتایا جائے کہ عورت کوئی پبلک پراپرٹی نہیں ہے۔ وہ بھلے کسی بھی لباس میں ہو۔ بھلے زندہ ہو مردہ ہو، ٹک ٹاپ بناتی ہو۔ پردے میں درس دیتی ہو۔ بچی ہو یا جوان لڑکی، ملازمت کرتی ہو یا گھر بیٹھتی ہو، کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ اسے اپنی تسکین کے لیے زیادتی کا نشانہ بنائے۔ اس کے بعد لازم ہے کہ ایسے تمام درندوں کو قرار واقعی سزا بھی دی جائے۔ جتنا ہو سکے قومی شعور کو اس حوالے سے اجاگر کیا جائے اور عورت کو منڈی میں بنے والی شے کی بجائے ایک مکمل انسان سمجھا جائے اور کم از کم ہر دفعہ الزام عورت پر ڈالنے کی روایت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words