عوام میں بے چینی بڑھنے لگی

موجودہ دور میں قانون کو جس قدر نظرانداز کیا جار ہا ہے، میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا کہ عصمتیں لٹ رہی ہیں، سینہ زوری کے مظاہرے عام ہیں، کمزوروں کی جائیدادوں اور مکانوں پر قبضے ہو رہے ہیں، ملاوٹ کرنے والے پوری دلیری کے ساتھ اپنا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رشوت کا بازار گرم ہے۔ غنڈے دندناتے پھرتے ہیں۔ تھانے اور پٹوار خانے پہلے سے کہیں زیادہ اندھیر مچائے ہوئے ہیں۔ کہنے کو بہت کچھ ہے مگر سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔

سوال یہ ہے کہ حکومت او ر اس کے ادارے کیوں اس صورت حال پر ایسے اقدامات نہیں کر رہے جو غریبوں، کمزوروں، بیواؤں اور مفلوک الحالوں کو کوئی ریلیف دیتے ہوں۔ میں اکثر اپنے کالموں میں مہنگائی کا بھی رونا روتا ہوں کہ یہ آکاس بیل کی مانند بڑھتی جا رہی ہے، اسے روکا جائے۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہور ہا۔ نتیجے کے طور سے لوگوں میں حکومت مخالف جذبات پیدا ہو چکے ہیں اور روز بروز ان میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود کسی کو کوئی احساس نہیں۔

یوں عوام کسی بہت بڑی تبدیلی کی خواہش کرنے لگے ہیں اگرچہ وہ پہلے بھی یہ چاہتے تھے مگر اب تو وہ کہتے ہیں کہ پلک جھپکتے میں سب کچھ تبدیل ہو جائے اور انہیں انصاف پسند ماحول میں سانس لینے کا موقع مل سکے ایسا وہ اس لیے سوچتے ہیں کہ وہ اس نظام سے تنگ آ چکے ہیں ان کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں۔ مگر مجال ہے کوئی سیاستدان کوئی حزب اختلاف کی جماعت اور کوئی حکومتی نمائندہ سنجیدگی سے اس بارے سوچے سمجھی موج میلہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ نفسیاتی طور سے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی بیان جاری کر دیتے ہیں اور بس۔ اس سے تاثر یہی ابھرتا ہے کہ دانستہ لوگوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے جب وہ احتجاج کرتے ہیں تو انہیں لولی پاپ دے دیا جاتا ہے کچھ عرصے کے لیے پھر وہی کھیل شروع ہو جاتا ہے مگر بنیادی مسائل کا خاتمہ نہیں کیا جاتا۔

پی ٹی آئی کی حکومت نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ وہ اس نظام کو بدل دے گی ایک نیا پاکستان تعمیر کرے گی مگر اب تک اس کی ایک آدھ جھلک بھی نظر نہیں آ رہی۔ پہلے سے بھی حالات ابتر ہو چکے ہیں۔ قانون کا احترام کوئی کرنا ہی نہیں چاہتا۔ لہٰذا معاشرے میں نئی نئی خرابیاں جنم لے رہی ہیں۔ عصمت دری کے واقعات میں تیزی آ گئی ہے۔ خواتین میں عدم تحفظ کا احساس گہرا ہو رہا ہے۔

یہ کیسی حکومت ہے اور حکمرانی ہے کہ ادارے موجود ہیں مگر وہ عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ انصاف ملنا دشوار ہو گیا ہے۔ عدالتیں اس نظام کے ہاتھوں مثالی فیصلے نہیں کر پا رہیں۔ ایک لوٹ مار کا منظر ہے۔ غیر یقینی کی صورت حال ہے۔ ایسے کیسے ملک چلے گا اس سے متعلق شاید کوئی سوچتا ہی نہیں ہر کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہے یعنی اپنی ذات کو ہی پیش نظر رکھے ہوئے ہے اور بے چارے لوگ ہیں کہ آہیں بھرتے چلے جا رہے ہیں مگر یہ بھی کیا لوگ ہیں کہ سر جھکائے ہیں سر اٹھاتے نہیں جس روز انہوں نے جینا سیکھ لیا ان کے دن پھر جائیں گے۔ فی الحال وہ ٹامک ٹائیاں مار رہے ہیں کہ کسی طرح انہیں زندگی کی آسائشیں میسر آ جائیں مگر حکمران طبقہ بڑا چالاک ہے وہ ڈنگ ٹپا رہا ہے اور آگے ہی آگے وقت کو دھکیل رہا ہے تا کہ یہ مکمل طور سے تھک جائیں اور وہ ان کے ذہنوں پر قابو پا لے پھر انہیں کٹھ پتلیوں کی طرح حرکت میں لائے۔

بہرحال ملک انارکی کی طرف جا چکا ہے۔ آپا دھاپی نے لوگوں کے اندر سراسیمگی کی لہر دوڑا دی ہے۔ قانون کی حکمرانی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے لہٰذا اس کے نتائج کیا برآمد ہو سکتے ہیں اس کا اندازہ چشم تصور سے کیا جا سکتا ہے مگر حیرت ہے کہ اہل اقتدار اس پہلو پر غور زیادہ نہیں کر رہے، اگر کر رہے ہیں تو پھر معاشرے میں انتشار کیوں، کیوں ہر کوئی شتر بے مہار ہو رہا ہے۔

کوئی مظلوم انصاف کے حصول کے لیے تھانے جاتا ہے تو اس کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ سبھی جانتے ہیں۔ اس طرح کا رویہ شاید اب تادیر نہیں چل سکتا اور یہ پہلو اہم ہونا چاہیے کہ جب ریاستی ادارے ظالموں کو ظلم کرنے سے نہ روک پائیں تو پھر عوامی عدالتیں وجود میں آتی ہیں جو فوری انصاف فراہم کرتی ہیں مگر اس حوالے سے تحفظات بھی ہیں لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس نظام کو بدلنے کی طرف آئے۔ ”چور اچکے چودھری تے گنڈی رن پردھان“ یہاں اب صورت حال ایسی ہی ہو چکی ہے کہ شریف پڑھے لکھے امن پسند کسی شمار میں ہی نہیں رہے۔ اس کے برعکس دوسروں کے حقوق غصب کرنے والے، مکار، عیار اور دھوکے باز واہ واہ کرواتے ہیں اور معتبر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

بہر کیف حکومت انتظامی اعتبار سے ناکام نظر آتی ہے کہنے والے کہتے ہیں کہ ایسا شعوری طور سے ہو رہا ہے کیونکہ قانون پر پوری طرح عمل درآمد سے حکومت کے اردگرد بیٹھے عوام بیزار اس کی گرفت میں آتے ہیں لہٰذا ہتھ ہولا رکھا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ چینی، آٹا اور مہنگائی مافیاز نے اودھم مچایا ہوا ہے۔ عوام رولا ڈال رہے ہیں احتجاج کر رہے ہیں کہ اشیائے خورونوش ان کی قوت خرید سے باہر ہو گئی ہیں لہٰذا ان مافیاز کو مصنوعی گرانی میں اضافے سے روکا جائے مگر حکومت اور اس کے ماتحت ادارے ٹس سے مس نہیں ہوتے اور اپنی مٹھیاں گرم کرتے جا رہے ہیں۔

حرف آخر یہ کہ حکومت نے لوگوں کو صرف نعرے دیے ہیں اور اگر اس نے کچھ دیا ہے تو مہنگائی، جس نے ماہانہ اخراجات میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔ غربت و افلاس بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سماجی و معاشی مسائل کا ایک انبار لگ چکا ہے لہٰذا حکومت کو جنگی بنیادوں پر ان کو حل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی بدلتی صورت حال کے پیش نظر اسے اب کسی سستی کا مظاہرہ نہیں کرنا کیونکہ عوام میں بے چینی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words