کابل سے کوئٹے تک

کوئٹہ اور کابل جڑواں نہیں تو رشتے میں خالہ زاد بھائی کی حیثیت ضرور رکھتے ہیں۔ وہ یوں کہ کوئٹہ میں رہنے والوں کے لیے کابل محض ہمسایہ ملک کے دارالحکومت کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے شہر کا نام ہے جو یکساں موسم ’مہر و محبت‘ ثقافتی ورثے ’عشق و جنون اور موسیقی سے ہم پلہ ہے۔ شاید اسی قربت کا اثر ہے کہ کوئٹہ کے گلی کوچوں سے کابلی کھانوں کی مہک آتی ہے۔

کابل اور کوئٹہ بلکہ یوں کہیں کہ بلوچستان ثقافتی رشتے کے علاوہ سیاسی رشتے میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں۔ ہمارے اسلاف نے عمر عزیز کا ایک حصہ کابل میں ضرور گزارا ہے پھر چاہے وہ بابا مری ہوں یا پروفیسر نادر جان قمبرانی ہوں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح انڈیا میں سندھی کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے ٹھیک اسی طرح افغانستان میں بلوچی کو بھی قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اور ہمارے ہاں تو تاریخ یہ ہے کہ اردو کے پہلو بہ پہلو بنگالی کو بھی قومی زبان کا درجہ دینے کو شرک تصور کیا گیا تا وقت یہ کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں 21 فروری 1952 کو افسوسناک خونی تصادم وقوع پذیر نہ ہوا۔ اس اذیت ناک ماضی کے باوجود باقی ماندہ پاکستان میں ابھی تک بڑی علاقائی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ نہیں دیا گیا۔ شاید یہاں زبان محض لسانی نہیں بالکل سیاسی اور انتظامی معاملہ بھی ہے۔ اور ملکی وحدت کے پیش نظر اس معاملے کو ابھی تک لٹکایا گیا ہے۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی کابل اور کوئٹہ کی۔ افغانستان میں بلوچ بہت زیادہ تعداد میں آباد نہیں پھر بھی بلوچی کو دیگر زبانوں کے ساتھ قومی زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ شاید اسی جڑت کا اثر ہے کہ ایک وقت میں نادر جان ریڈیو کابل سے بلوچی پروگرام کیا کرتے تھے۔ یعنی ایک ایسا ناتا جو تہران حتی کہ زاہدان کے ساتھ بھی نہیں بن پاتا وہ کابل کے ساتھ پروان چڑھتا ہے۔

ذاتی حوالے سے افغانستان اور کابل سے شناسائی خالد حسینی کے ناولوں کی بدولت ممکن ہوئی۔ اور پھر جب یوٹیوب ہاتھ آئی تو کابل کے کافی ورچوئل ٹوورز بھی کر لیے ۔ یقیناً ہمارے لیے لفظ ”کابل“ میں ایک کشش تو ہے جو محض کابلی کھانوں تک محدود نہیں۔ بلکہ زبان فارسی (دری لہجہ) رنگ و ثقافت اور موسیقی اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ خاص کر ڈاکٹر ناشناس اور احمد ظاہر کے گیت سماعتوں میں رس گھولتے ہیں۔ غرض اس حد تک اٹیچمنٹ ضرور ہے کہ اگر بلوچستان کی حیثیت کچھ اور ہوتی تو میں کابل میں اس کا ”کلچرل اٹیچی“ ضرور ہوتا (خواب دیکھنے ہی پہ تو پابندی ہے بھائی) ۔

ریاضی کے بنیادی قواعد کے مطابق دیکھا جائے تو پچھلے پچاس سال سے افغان سر زمین میں جنگ ایک مستقل یعنی ”کانسٹنٹ“ کی حیثیت رکھتی ہے اور امن متغیر یعنی ”ویری ایبل“ ہے۔ مطلب جنگ ہمیشہ اور امن کبھی کبھی۔ ستر کی دہائی میں جب عسکری اور سیاسی قوتوں نے شاہ کا تختہ الٹا اور شہنشاہیت کو ہمیشہ کے لیے دفن کیا تو افغان شہریوں نے نا صرف انقلاب سور کو خوش آمدید کہا بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں پر خوش نظر آئے۔ یہ وہ دور تھا جب ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ زرعی اصلاحات نافذ کی گئیں۔ تعلیم و صحت کی سہولتوں کو عام کیا گیا۔ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے اور دیگر شعبوں میں آگے بڑھنے کے لیے راہ ہموار کی گئی۔

ابھی معاشی و سیاسی استحکام کے لیے تگ و دو جاری تھی کہ دور بیٹھے آقاؤں کو یہ ترقی ناگوار گزری اور ایک ایسی رزم گاہ تیار کی جس سے آج تک افغان عوام لہو لہان ہے۔ کسی کے ”سٹریٹیجک ڈیپتھ“ کے خواب کی وجہ سے افغان سر زمین کے بچے یتیم ہو گئے۔ دھرتی مقتل بنی اور ہنوز یہ کشت و خون جاری ہے۔ نجانے کب سحر ہو جو ہوتی نظر نہیں آتی اور یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچے۔

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور سقوط کابل (مجھے خود اس لفظ سقوط پہ اعتراض ہے جو پھر کبھی موضوع بحث بنائیں گے ) یقیناً ہر ترقی پسند بلوچستانی اور کوئٹہ وال کے لیے باعث اذیت ہے۔ گو کہ کابل سے کوئٹہ والوں کی ہمدردی کی حیثیت اتنی ہی ہے جتنا کوئی کشمیری باشندہ فلسطینیوں کے لیے فکر مند ہو۔ اس اذیت اور دکھ کی ایک وجہ تو کابل اور افغان معاشرے کے ساتھ دلی وابستگی ہے۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں سیاسی انتشار و افراتفری کے باعث سرحد کے اس پار جو سب سے پہلا بڑا شہر متاثر ہوتا ہے وہ کوئٹہ ہے۔ شاید پشاور بھی ہو مگر مجھے اس کے متعلق زیادہ علم نہیں۔

افغان مہاجرین کی ایک کثیر تعداد کوئٹہ میں بستی ہے۔ جن میں بہت سے طالبان کے حامی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی یہاں سرحد کے اس پار دونوں طرح کی مخلوق بستی ہے۔ یعنی طالبان سے ہمدردی رکھنے والے رجعت پسند اور تاریکیوں کے متلاشی یا شاید ذہنی معذور جو اس حالیہ پیش قدمی کو امریکا کی شکست اور مسلمانوں کی جیت سمجھتے ہیں۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو اس فاتح مفتوح کے کھیل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور افغان عوام کا حقیقی ہمدرد ہے۔

افغانستان سے امریکا کے انخلا کے بعد یہ امر تو یقینی تھا کہ وہاں حالات خراب ہوں گے اور گھمسان کا رن پڑے گا۔ ایک تاثر تو یہ تھا کہ افغان عوام اپنی فورسز کے ساتھ مل کر ایک فیصلہ کن جنگ لڑیں گے اور طالبان کا باب ہمیشہ لے لیے بند ہو جائے گا۔ دوسرا خدشہ یہ تھا کہ شاید طالبان زیادہ طاقتور ہیں اور وہ جلد افغان حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔ اس کشمکش کے بیچ ہار جیت جو بھی ہوتی وہ مقدر تھا مگر اب لگتا ہے کہ مقابلہ ہی نہیں ہوا۔ اور افغان آرمی نے ہتھیار پھینک دیے اور شکست تسلیم کرلی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے جلدی تو بلوچستان لیویز اور خصوصاً پنجاب پولیس کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے سامنے سرنڈر نہیں کرتی۔ جتنی تیزی سے افغان نیشنل آرمی نے طالبان سے ہار مان لی۔ جی ہاں افغان نیشنل آرمی۔ لفظ نیشنل پہ ذرا غور کیجیئے۔ تیسری دنیا میں اصطلاحات کی سٹی گم ہو جاتی ہے۔ اب جیسے کوئٹہ انٹرنیشنل ائر پورٹ ہے ویسے ہی شاید افغان نیشنل آرمی بھی ہے۔

تو نیشنل آرمی نے کیوں اتنے جلدی سرنڈر کیا؟ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی وجہ تو غالباً یہ ہے کہ امریکن ایڈمنسٹریشن کے سائے تلے جو لوگ افغان نیشنل آرمی میں بھرتی ہوئے تھے وہ کسی ملکی جذبے کے تحت شامل نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ تنخواہ اور دیگر مراعات پیش نظر تھیں۔ اس لیے لفظ نیشنل میں جو ”نیشنل اسپرٹ“ ہوتا ہے اسے تو رہنے ہی دیں۔ تبھی تو سرحد عبور کر کے ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے والے سب سے پہلے افغان فوجی تھے۔

دوسری اہم وجہ یہ ہے امریکا نے پچھلے 20 سال میں افغان افواج اور دیگر فورسز بشمول پیرا ملٹری دستے اور پولیس کی جو تشکیل نو کی تھی۔ وہ محض نظریہ ضرورت کے تحت تھی۔ یعنی امریکا کی طرف سے افغان فوج کی تعداد کو تو بڑھایا گیا مگر انہیں طاقتور اور با اختیار نہیں بنایا گیا۔ اور ایک فوج کے لیے جو پروفیشنل ڈویلپمنٹ ہوتی ہے وہ نہیں کرنے دی گئی۔ یوں اختیار و اعتماد کا فقدان افغان آرمی کو لے ڈوبا۔ مزید راتوں رات امریکا کا بوریا بستر سمیٹ کر غائب ہوجانا اور جل دے گیا۔

تیسری اور سب سے اہم وجہ تھوڑی مفصل ہے وہ یوں کہ اس سارے بکھیڑے کے باوجود بندہ یہ سوچتا رہ جاتا ہے کہ یار تین لاکھ سپاہیوں اور افسران پر مشتمل نیشنل آرمی جس کی باقاعدہ ائرفورس بھی ہو اور جو جدید ہتھیاروں سے لیس یو اور سب سے بڑھ کر امریکا جیسا مضبوط ملک جس کی پشت پناہی کر رہا ہو۔ اور جس کے جدید طیارے افغان آرمی کی مدد کے لیے بھاگے بھاگے آئیں طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے۔ تو وہ فوج محض ساٹھ ستر ہزار بندوق برداروں سے شکست کھا جائے باعث حیرت ہے۔

اس سارے قصے کو سمجھنے کے لیے کلینڈر کو 20 سال ریورس کیجیئے۔ سن 2001 میں جب طالبان حکومت امریکا کی طرف سے برطرف کی گئی۔ تو طالبان کی طرف سے کوئی بہت زیادہ مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ چند دنوں اور مہینوں میں امریکہ پورے افغانستان پر قابض ہو گیا اور کرزئی کی شکل میں ایک عبوری حکومت بنا ڈالی۔ اس وقت امریکا چاہتا تو طالبان کے ایک ایک بندے کو چن چن کر صفحہ ہستی سے مٹا سکتا تھا۔ مگر اس نے ایسا کیا نہیں کیونکہ امریکہ اپنی پیدا کردہ مخلوق کو مکمل طور پر ختم کرنا ہی نہیں چاہتا تھا تاکہ قائم رہے اور بوقت ضرورت کام آئے کہ پیش نظر انہوں نے ایک ایک طالب کا تعاقب نہیں کیا وگرنہ آج کہانی کچھ اور ہوتی۔

آج سے چند برس بیشتر جب دنیا طالبان کو ایک غیر اہم عسکری گروپ سمجھ کر تقریباً بھولنے لگی تھی۔ تو انہیں پھر سے زندہ کرنے کے لیے کس نے قطر میں طالبان کا دفتر کھولنے کی اجازت دی؟ کس کی ایما پر ہوا یہ سب؟ یقیناً صاحب بہادر امریکہ نے افغان عوام اور اقوام عالم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ طالبان کو آپ لوگ کیوں فراموش کر بیٹھے ہو؟ وہ اب بھی ایک مضبوط طاقت ہے۔ جسے میں نے اپنے زور بازو سے پیچھے دھکیل رکھا ہے وگرنہ میرے جاتے ہی وہ پھر سے جکڑ پکڑ لیں گے۔ اور آپ لوگوں کے ناک میں دم کریں گے لہذا ان سے مذاکرات ضروری ہیں۔

پھر مذاکرات تو دو برابر طاقتوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ امریکا کے سامنے طالبان کی کیا حیثیت تھی اور ہے؟ مگر نہیں انکل سام نے طالبان کی کھوئی ہوئی ساکھ دوبارہ بحال کرنے کے لیے اور انہیں خطے کی سیاست میں پھر سے نمایاں کرنے کے لیے انہیں دنیا کے سامنے ایک قوت بنا کہ پیش کیا۔ اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر طالبان قیادت کو اسٹیج کی زینت بنایا گیا۔

ایک پاکستانی دانشور چودھری منظور صاحب جن سے میں کافی حد تک اتفاق کرتا ہوں فرماتے ہیں کہ کابل تو اسی دن فتح ہو گیا تھا جب امریکہ نے قطر میں افغان حکومت کی شرکت اور مرضی اور منشا کے بغیر طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے۔ غالباً انہی مذاکرات میں طے پا گیا تھا کہ امریکہ کے جاتے ہی طالبان پھر سے افغانستان کے حاکم ہوں گے۔ تو پھر اشرف غنی اور ان کی کابینہ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔

اب تو بات کھل کر سامنے آ گئی کہ اس سارے پس منظر میں امریکہ نے خود سے دوبارہ طالبان کو متعارف کرایا اور اب اقتدار ان کے حوالے کرنے جا رہا ہے۔ کیونکہ افغان عوام کی مرضی اور منشا کے ساتھ اگر کوئی فیصلہ ہوتا ہے تو خدشہ ہے کہ افغانستان مستحکم ہوگا اور ایک مستحکم افغانستان خطے میں موجود دوسری قوتیں جیسے انڈیا اور خاص کر روس اور چین سے قربت بڑھا سکتا ہے۔ جو امریکہ بہادر کے وارے میں نہیں ہے۔ اس لیے جاتے جاتے وہ سب اجاڑ گیا کہ عدم استحکام جاری رہے اور روس اور چائنا بشمول انڈیا چین کی بانسری نہ بجاتے پھریں۔ یعنی سانول میرا نہیں تو پھر کسی کا بھی نہیں۔

لہذا ایک طے شدہ منصوبے کے تحت افغان فوج کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا گیا اور طالبان کو دوبارہ مسلط کیا گیا۔ کون جانے کہ خطے میں پھر سے کوئی گریٹ گیم کھیلی جا رہی ہے؟ معروضی حالات سے تو یہی لگتا ہے۔ مگر جو بھی ہو بدترین انسانی المیہ یہ ہے کہ پچاس سالوں کے جنگ و جدل اور تباہی و بربادی کے بعد بھی افغانیوں کا لہو خشک ہونے والا نہیں۔ پھر سے اس جنگ کا اکھاڑہ تو افغانستان بنے گا ہی مگر اس کے واضح اثرات ابھی سے پڑوس میں بھی آنا شروع ہو گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words