طارق سعید بھی چل بسے

دو روز قبل جنگ اخبار میں چند سطری خبر تھی۔ ”بزرگ تاجر رہنما طارق سعید وفات پا گئے“ ساتھ ان کے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور سارک چیمبر آف کامرس کے سابق چیئرمین کے اعزاز کا ذکر تھا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

انیس سو ساٹھ میں جب میں نے اپنی دکان کے لئے آٹو پارٹس کی خریداری کے لئے کراچی جانا شروع کیا تو اس وقت پلازہ سکوائر بندر روڈ ( بعد میں ایم اے جناح روڈ ) میں قلعہ دیدار سنگھ اور ایمن آباد سے آئے آٹو پارٹس کے روز افزوں بڑھتے کاروبار میں معروف دکاندار نہ صرف اپنی نئی پود کو کاروبار میں لانا شروع کر چکے تھے بلکہ اپنے آبائی علاقہ کے نوجوانوں کو بلا، ملازمت کے ساتھ ٹریننگ دیتے، اپنا کاروبار شروع کرنے میں معاونت کر رہے تھے۔

چنانچہ اپنے بہت سے ہم عمر ہونے کے باعث کاروبار کے ساتھ دوستی بھی شروع ہو گئی۔ دوسرے تیسرے مہینے تین چار روز کے لئے جانا ہوتا۔ اکثر دوپہر کا کھانا کبھی کسی کبھی کسی دکان پر شٹر نیچے کر کے دوستوں کی محفل میں کھایا جاتا، اور گپ شپ کے ساتھ کاروبار بھی چلتا۔ ان ہی میں پلازا سنیما کے ساتھ احاطہ کے اندر واقعہ ایک بہت بڑی دکان کا انتہائی خوش مذاق خوش ذوق شستہ اور پختہ گفتگو کرنے والا نوجوان طارق سعید بھی تھا۔

ایک دو برس بعد ساتھ ہی باہر مین سڑک پر ایشین آٹو سٹور کے نام سے دکان بنائی تو میرے آٹو پارٹس میں استاد محسن اور مربی ایم اے قریشی بھی شراکت دار تھے جو قائد اعظم کے کچھ عرصہ کے لئے ڈرائیور رہے بعد میں فلم ایکٹر آزاد کے چھوٹے بھائی اور مزاحیہ اداکار نذر کے سالے ہونے کے ناتے بہت دلچسپ اور ادبی ذوق کے مالک بھی تھے اور نئی نئی بنی پاکستان آٹو پارٹس امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن ( پاسپیڈا ) کے روح رواں بھی تھے۔

لہذا کچھ تعلق زیادہ بھی ہو گیا۔ لیرک سنیما طارق سعید کے خانوادے کی ملکیت تھی۔ لہذا کئی مرتبہ ہم عمر جوانوں کا یہ گروپ فیصل آباد سے آئے اس ہم عمر کا خصوصی اعزاز کرتے شام کو لیرک سنیما میں مالکان کے خصوصی باکس میں بیٹھ فلم دیکھنے ساتھ چائے سنیکس سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ آہستہ آہستہ میں ٹرک پارٹس کے ہول سیل میں شفٹ ہوتا گیا وہ کار پارٹس کو سپیشلائز کرتے گئے۔ ساتھ ہی اپنے نزدیکی عزیز پائنیئر آٹو موبائلز کے شیخ محمد انعام کی پیروی میں کاروباری سیاست میں زیادہ دلچسپی لینے لگ گئے۔

ستؔر کی دہائی شروع ہوتے ان سے ملاقات کبھی کبھار کی حد تک رہ گئی۔ طارق سعید کے پاسیڈا کی مجلس عاملہ کے رکن سے شروع ہوتے اس کے زونل اور مرکزی چیئر مین سے بڑھتے کراچی چیمبر آف کامرس کی صدارت تک پہنچ گئے۔ ادھر لاہور میں سلطان کی سرائے سے شروع ہونے والی محترم و مکرم ملک محمد شفیع مرحوم ( بعد میں ممتاز بختاور ہسپتال بنانے والے، تمغۂ خدمت ) کی دکان ملک آٹوز سے ترقی کرتے گارڈ فلٹر کی فیکٹری شروع کرتے اس کے انچارج ان کے بڑے بیٹے محترم افتخار علی ملک بھی کاروباری سیاست میں آچکے تھے اور اسی راہ پہ آگے نکل چکے تھے۔

ملک افتخار اور طارق سعید کی جوڑی اب فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اندر داخل ہو کر اس کے چیئر مین کے عہدے تک پہنچ اپنے کامیاب کاروباری پینل بنا چکی تھی۔ سارک کی تنظیم قائم ہوتے ان دونوں دوستوں کی کوشش سے سارک چیمبر آف کامرس قائم ہوا تو یہ اس کے روح رواں تھے۔ ملک افتخار شاید اب بھی ہوں۔ میں نے انیس سو چھیاسی میں گارڈ فلٹر کی فیصل آباد کے لئے ڈیلر شپ حاصل کی تو افتخار علی ملک سے جو آٹو پارٹس کے مشترکہ کاروباری دوستی کی حیثیت سے شناسائی تھی کاروبار کے ساتھ دوستی میں بدل گئی چنانچہ ملک صاحب کے گھر پر اور بعض دوسرے مقامات پر چیمبرز کے اجتماعات میں طارق سعید سے صاحب سلامت ہو جاتی۔

نوے کی دہائی کے نصف آخر میں آخری ملاقات یاد ہے۔ افتخار علی ملک کاروباری طور پر تعلق اور دوستی کے علاوہ میرے اس رنگ میں محسن بھی ہیں کہ جب میں نے سب چھوڑ چھاڑ کینیڈا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تو ان کے ایک بہت ہی قیمتی مشورہ اور رہنمائی نے ( یہاں کے کاروباری حالات کے متعلق ) مجھے صحیح طور بغیر دھوکا کھائے قدم جمانے میں بہت مدد کی۔ خدا انہیں سلامت رکھے۔

اب ہم سب بزرگ ہوچکے۔ کچھ کے ساتھ ”بزرگ تاجر فوت ہو گئے“ کے الفاظ لگ گئے اور ہم جو باقی ہیں باری باری اپنے لئے اس خبر کے لگنے کے منتظر ہیں۔ کسی کی لگ جائے گی۔ کسی کا پتہ بھی نہ چلے گا۔ کون جانے۔ بس یادیں رہیں گی یا شاید وہ بھی نصیب نہ ہوں کون جانے۔ خدا طارق سعید کو غریق رحمت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازے۔

اکثر شب تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعء زندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دل صد چاک پر

Comments - User is solely responsible for his/her words