”آپ ہوسیں“

کافی عرصہ پہلے جھنگ میں ہمارے آبائی گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر مقامی دیہاتوں کو آنے جانے والی بسوں کا اڈہ تھا۔ دیہی علاقوں کو جانے والی سڑکوں کی حالت عمومی طور پر ناگفتہ بہ تھی مگر اڈے کو آنے والی ایک قریبی سڑک تو بالکل ہی ”نام نہاد“ تھی۔ کسی دوسرے شہر سے آئے ہوئے شخص نے ایک دن ایک مقامی آدمی سے پوچھا یہ سڑک کہاں جاتی ہے؟ انتہائی دکھ بھرے اور غم و غصے کی ملی جلی کیفیت میں ڈوبے ہوئے لہجے میں جواب ملا ”اس بیچاری نے کہاں جانا ہے؟“ آپ کو کیسے لگتا ہے کہ یہ بیچاری کہیں آنے جانے کے قابل ہے یہ تو یہیں پڑی بس زندگی کے دن پورے کر رہی ہے بلکہ اس پر آنے جانے والے بھی اپنی منزل کی بجائے حقیقی منزل کو پہنچ جاتے ہیں ٭۔ اس سڑک پر اتنے خلا تھے کہ ذرا سی تیز رفتاری سے سفر کرنے والا خلاؤں کے پار پہنچ سکتا تھا۔ میرے خیال اسے سڑک صرف اس لیے کہہ دیا جاتا تھا جیسے ہمارے ہاں کئی لوگوں کو ”حاجی“ صرف اس وجہ سے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ حج کے دن کو پیدا ہو جاتے ہیں۔

زندگی بھر وہ اپنے گاؤں یا محلے سے باہر نہیں نکلتے مگر کہلاتے ”حاجی“ ہیں۔ اڈے سے چلنے والی زیادہ تر بسوں کا حال بھی ایسا تھا کہ جب بس چل رہی ہوتی تھی تو اس پر کسی کا بس نہیں چل رہا ہوتا تھا، ڈرائیور کا بھی نہیں۔ بس کی ہارن کے علاوہ ہر چیز بجتی تھی۔ بس چلتے ہوئے جھومتی بھی تھی اور ہر گھڑی اندر بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی جھومنے کا موقع فراہم کرتی تھی۔ وہ سیٹوں پر بیٹھے بیٹھے جھوم رہے ہوتے تھے اور اکثر اوقات جھٹکا لگنے کی صورت میں بس کا فرش چوم رہے ہوتے تھے۔

جب بھی کوئی بس آتی، بہت دھول اڑتی۔ اردگرد کھڑے لوگ غبار آلود ہو جاتے۔ زیادہ تر لوگ مقامی ہوتے تھے اور ان سارے مراحل سے آشنا تھے۔ ایک دن کسی دور دراز کے ایک ”باؤ“ ٹائپ جوان کو بھی کسی وجہ سے وہاں کھڑا ہونا پڑ گیا۔ دور سے آنے والی ایک بس کی وجہ سے اڑنے والی دھول ”باؤ جی“ پر پڑی تو صاحب نے بس کو بے اختیار گالیاں دینا شروع کردیں۔ جب بس ان کے قریب آ کر اڈے پر کھڑی ہوئی اور ”باؤ جی“ کی نظر پڑی تو بس کے پیچھے صرف اتنا لکھا تھا ”آپ ہوسیں“ ۔

ایف ایس سی کے دنوں میں کچھ دوستوں کوایک ایسے پروفیسر صاحب سے پڑھنے کا اتفاق ہوا جو براہ راست اعلیٰ درجے میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ پروفیسر صاحب اپنے جونیئر رفقاء کار کو بہت نالائق سمجھتے تھے اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے رہتے تھے۔ ایک دن جب وہ ٹیوشن پڑھا رہے تھے ان کے لاڈلے بچے نے کوئی شرارت کی تو پروفیسر صاحب نے اسے بھی پاگل کہہ دیا۔ بچہ ہنسنے لگ گیا اور کہنے لگا ”ہے خود اور کہتا مجھے ہے۔ دوسروں کو وہی کہتا ہے جو خود ہوتا ہے۔“

بچے کی بات دانائی سے بھرپور ہے۔ لوگوں کے بارے میں اچھا گمان رکھنا اور اچھی بات کرنا تمام الہامی مذاہب کا مزاج ہے۔ حضرت عیسی کے زمانے میں جب لوگ کسی کو سزا دینے کے لئے ہاتھوں میں پتھر پکڑے کھڑے تھے تو آپ نے فرمایا کہ پہلا پتھر وہ مارے جس نے زندگی میں خود کبھی گناہ نہ کیا ہوا۔ کتابوں میں مرقوم ہے کہ مجمع خاموشی سے چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر کے ارشادات عالیہ کا مفہوم بھی یہی ہے کہ اگر کسی ایسے شخص پر لعنت ڈالی جائے جو لعنت کا مستحق نہ ہوتو لعنت ڈالنے والے پر لٹا دی جاتی ہے ایسے ہی اگر کسی ایسے شخص کو کافر کہا جائے جو کافر نہ ہو تو کفر کہنے والے پر لوٹ آتا ہے۔

ایک بزرگ نے اپنے مرید کو انتہائی خوبصورت نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی فطرت مکھی کی فطرت جیسی نہیں ہونی چاہیے۔ مکھی ہمیشہ ”گند“ پر بیٹھتی ہے جبکہ انسان کو ہمیشہ دوسرے کی خوبصورتی اور بھلائی پر نظر رکھنی چاہیے۔ ہم میں سے اکثر لوگ دوسروں کی اچھائیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے ان کی کمزوریوں اور برائیوں پر نظر رکھتے ہیں اور ان کو برملا اچھالتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اگر کہا جائے کہ ”آپ ہوسیں“ تو بے جا نہ ہوگا۔

ایک ڈاکٹر نے اپنے مریض سے کہا کہ اگرچہ آپ کی ٹانگ پر ابھی تک سوجن ہے مگر میرے لیے یہ فکر کی بات نہیں ہے۔ مریض نے برملا جواب دیا ڈاکٹر صاحب اگر آپ کی ٹانگ پر کبھی سوجن ہوئی تو یہ میرے لیے بھی کبھی فکر کی بات نہ ہوگی فکر تو اس کو ہوتی ہے جس کی ٹانگ پر سوجن ہو۔

انسان کو خواب غفلت سے جگانے کے لئے کسی نہ کسی کا اس کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ ”آپ ہوسیں“ ۔ ایک شاعر کو بجا طور پر یہ دکھ تھا کہ وہ مزاجاً فقیر ہے جبکہ لوگ پل بھر میں شہنشاہ بن جاتے ہیں۔ قرآن پاک انسان کے بارے میں کہتا ہے کہ خالق کائنات کی ذات اس کو پانی کے ایک قطرے سے پیدا کرتی ہے اور جب وہ بڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں مثالیں دینا شروع کر دیتا ہے اور جھگڑا کرنا شروع کر دیتا ہے انسان اپنے جیسے انسانوں کے بارے میں بھی نہیں سوچتا اور اپنے بنانے والے کے بارے میں نہیں سوچتا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں عقل، فہم اور حکمت عطاء فرمائے۔ ہمیں دوسروں کے بارے میں کچھ بھی کہتے ہوئے ہمیشہ یہ یاد رہے کہ اگر جواباً اس نے کہہ دیا ”آپ ہوسیں“ تو ہمارے دامن میں کیا بچے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words