امیر امیر تر اور غریب غریب تر کیوں؟

پاکستان کے نظام حکومت میں بے پناہ خامیاں موجود ہیں۔ مٹھی بھر لوگ اکثریت پر حکومت کرتے ہیں۔ اور یہی مٹھی بھر لوگ اکثریت کے حقوق پر ڈاکا ڈال کر عیاشیاں کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے مالیاتی اداروں سے غریب عوام کے نام پر کروڑوں ڈالر حاصل کیے جاتے ہیں۔ مگر وہ خرچ غریب عوام پر نہیں ہوتے اس کا زیادہ حصہ یہ مٹھی بھر لوگ لے جاتے ہیں جو عوام پر حکمرانی کرنے کے لئے مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ہر پاکستانی قرضوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔

پاکستان کی اکثریت غریب عوام ہیں۔ مگر ان کو بنیادی سہولیات زندگی تک میسر نہیں ہیں۔ غریب عوام کے ساتھ ان کا تعلق ایک پرچی کا ہوتا ہے۔ جس کو ووٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ جب الیکشن کا موسم آتا ہے۔ غریب عوام کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور غریب عوام بھی ان کی باتوں میں آ جاتی ہے۔ اور اپنے ووٹ کا آسان نرخوں پر سودا کر دیا جاتا ہے۔ اگر ایک خاندان کے دس ووٹ ہیں۔ تو خاندان کے سربراہ کو کچھ رقم دے دی جاتی ہے۔ فی کس ہزار روپے سے اوپر نہیں ہوتی۔

الیکشن کے دن گاڑی مہیا کر دی جاتی ہے اور وہ بھی ووٹ دینے کی حد تک۔ ووٹ ڈالنے کے بعد گاڑی کی سہولت واپس لے لی جاتی ہے اور زیادہ تر لوگوں کو واپس اپنے گھر پیدل ہی آنا پڑتا ہے۔ الیکشن ہونے کے بعد جو نمائندہ اس حلقے سے جیت جاتا ہے وہ پھر اپنے اصل کام پر لگ جاتا ہے۔ اگر اس نے الیکشن پر ایک کروڑ خرچ کیا ہے تو وہ لازمی 50 کروڑ بنائے گا۔ کیونکہ وہ الیکشن لڑتے ہی اپنی سرمایہ کاری اور اپنے کاروبار کو تحفظ دینے کے لیے ہیں۔

بچاری غریب عوام اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کے پیچھے اپنا قیمتی ووٹ دے دیتے ہیں۔ اس کے بعد ان کے ساتھ جو رویہ رکھا جاتا ہے۔ وہ ناقابل بیان ہے۔ عوام کے ووٹ حاصل کرنے یا خریدنے کے بعد جب یہ لوگ اسمبلی میں پہنچتے ہیں۔ تو وہاں پر جس طرح کی حرکتیں کی جاتی ہیں وہ سارا پاکستان ٹی وی پر دیکھ چکا ہے۔ اسمبلی کا ایک ایک سیشن عوام کو کروڑوں روپے کا پڑتا ہے۔ ارکان اسمبلی کو تنخواہ کے علاوہ دیگر مراعات اور رہائش سب کچھ غریب عوام کے ٹیکس کے پیسے سے ادا کیے جاتے ہیں۔

لیکن اسمبلی میں اگر ارکان اسمبلی نے اپنی تنخواہ اور دیگر مراعات کے حوالے سے کوئی بل منظور کرنا ہو تو اس پر چند سیکنڈ لئے جاتے ہیں۔ لیکن کبھی بھی عوام کے حقوق کے لیے کوئی بل منظور نہیں کیا جاتا۔ وہ فائلوں میں پڑا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک حکومت سے دوسری حکومت آ جاتی ہے۔ موجودہ انتخابی نظام کے اندر غریب شہری کے لئے اسمبلی تک پہنچنا ایک خواب جیسا لگتا ہے۔ اس وقت ارکان اسمبلی کی لسٹ اٹھا کر دیکھ لیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی غریب عوام کی نمائندگی نہیں کرتا۔

سب اپنے اپنے اثاثے بنانے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں اور اس سے بڑھ کر اپنے اثاثے بڑھا کس پر رہے ہیں۔ غریب عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈال کر۔ یہ کیسا نظام حکومت ہے۔ جس میں ایک مزدور کی ماہانہ اجرت 18 ہزار روپے مختص ہو۔ ذرا موجودہ مہنگائی کو دیکھتے ہوئے ذرا اپنی حکومت کے ماہر معاشیات سے بجٹ تو بنا کر دکھائے۔ ایک غریب شہری جس کے تین چار بچے ہیں۔ بیوی اور والدین ہیں۔ وہ 18 ہزار روپے میں اپنا پورا مہینہ کیسے گزارا کرے گا۔

اگر تو ایسا ہو پورے پاکستان کے اندر مساویانہ حقوق دیے جائیں۔ پاکستان بھر کے ہر شہری کی ماہانہ آمدن اٹھارہ ہزار روپے مختص کر دی جائے تو پھر دیکھئے گا کیسے سارا نظام درست ہوتا ہے۔ لیکن یہاں کا نظام حکومت سراسر غریب شہری کے حقوق کو سلب کر رہا ہے۔ جس کے پاس پہلے ہی بہت سارا پیسہ ہے۔ بہت ساری سرکاری مراعات ہیں۔ اسی کو ہمارا نظام مزید نواز رہا ہے۔ یعنی جس کے پاس کچھ نہیں ہے۔ دو وقت کی روٹی حاصل کرنا مشکل ہے۔

اس کے لیے اس نظام کے اندر کچھ بھی نہیں رکھا۔ ہمارے وزیراعظم کا اتنی ڈھیر ساری مراعات لینے کے باوجود گزارہ نہیں ہوتا۔ یعنی صرف ایک بیوی ہے۔ مگر پھر بھی گزارا نہیں ہوتا۔ لیکن وہی وزیراعظم غریب عوام کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ اس پر یہاں کیا لکھوں۔ ہم نے صرف مدینہ کی ریاست کا نام سن رکھا ہے۔ کاش ہم اس ریاست کا بغور مطالعہ کر لیتے۔ غریب عوام ایک کمرے کے مکان میں رہیں اور امیرالمومنین تین سو کنال کے محل میں رہیں اور پھر کہے میں مدینہ کی ریاست بنانا چاہتا ہوں۔

یہ عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ میں یقین سے کہتا ہوں اگر ارکان اسمبلی، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی میں تعینات تمام افسران کی تنخواہیں اتنی کر دی جائیں جتنی اس وقت ایک عام پاکستانی شہری حاصل کر رہا ہے۔ تو پھر دیکھئے گا سارا نظام درست ہو جائے گا۔ لیکن ایسا ہوگا نہیں۔ ایسا صرف اس دن ہوگا جس دن پاکستان کی اکثریت غریب عوام کو اپنے حقوق کا پتا چلے گا اور حقوق حاصل کرنے کی تڑپ پیدا ہو گی۔ جب اسمبلی میں غریب عوام کا نمائندہ حلف لے گا اور یہی وہ دن ہو گا جب غریب غریب تر نہیں رہے گا بلکہ جس امیر نے غریبوں کے حقوق پر ڈاکا ڈال کر جو اثاثے بنائے ہوں گے۔

وہ قومی خزانے میں جمع ہوں گے اور غریب عوام پر خرچ ہوں گے۔ جب قومی اسمبلی کا الیکشن کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری سے نہیں لڑا جائے گا بلکہ صرف شناختی کارڈ رکھنے والا شخص الیکشن لڑنے کا اہل گا ہوگا۔ یہی وہ دن ہوگا جب پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا سورج طلوع ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے غریب عوام اپنے حقوق کے اصول کی طرف تڑپ کب جاگتی ہے۔ یاد رکھیں جب عوام جاگتی ہے تو پھر اس کے سامنے کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی۔ پاکستان غریب عوام زندہ باد۔

یہ لسٹ مجھے میرے ایک قابل احترام دوست نے بھیجی ہے۔ اب فیصلہ عوام کریں جو دھاڑی دار شخص ہے وہ اپنا بجٹ کس طرح بنائے۔

آئیل کشمیر 1 لیٹر 325 روپے چینی 115 دال ماش موٹی 360 کلو سرخ لوبیا 360 کلو لال مرچ پاؤڈر 940 کلو آٹا 2700 کا 40 کلو گرام دال چنا موٹی 190 کلو دال مسور اچھے والی 180 کلو پٹرول 119.80 لیٹر انجمن آئیل 2 نمبر 390 کی 700 ایم ایل کی بوتل ہے سلنڈر 10.500 کلو گرام وزنی کا 2100 روپے کا ہے پیاز 50 کلو آلو 🥔 نیا 90 اور پرانا 70 کلو میدہ 120 کلو سوجی 120 کلو ہلدی 50 گرام 200 کی ادرک کلو 500 لہسن چائنہ 300 کلو ٹماٹر 🍅 90 کلو سیب گولڈن 180 کلو آم 150 کلو انگور 400 کلو آڑو🍑 100 کلو گرما 70 کلو لکڑی 800 کی من گوشت بڑا 600 کلو گوشت چھوٹا 1200 کلو چکن🐔 دیسی 750 کلو چکن بلر 280 کلو عید تک تھا 400 کلو اب آپ بتائیں۔

ملک صاحب ہم لوگ کہاں جائیں جی جس شخص کی 700 روپے دیہاڑی دار مزدوری لیتا ہے وہ اپنے بچوں اور گھر والوں کو کیا کیا لاکر دے گا دن میں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words