ریاست مدینہ کی حقیقت

ریاست مدینہ کے خد و خال پر جب غور کیا جاتا ہے تو اس میں مندرجہ ذیل خوبیاں نظر آتی ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ کی توحید اور حاکمیت کا قیام: نبی کریمﷺ کی قائم کردہ ریاست مدینہ بد اعتقادی کے خاتمے کے لیے کوشاں رہی اور بت پرستی، سورج اور چاند کی پرستش، شجر اور حجر پرستی کی بجائے اللہ تبارک و تعالیٰ کی بندگی کو فروغ دینے کے لیے آپﷺ ساری زندگی کوشاں رہے۔ 2۔ نظام صلوٰۃ کا قیام : نبی کریمﷺ کی قائم کردہ ریاست مدینہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی بندگی کے لیے نظام صلوٰۃ کا انتہائی منظم اور مربوط انداز میں نظام قائم تھا۔

مسجد نبوی کے گرد بسنے والے صحابہ کرام مسجد نبوی میں نمازوں کو ادا کرتے اور دیگر مقامات پر بسنے والے صحابہ کرام اپنے علاقوں میں موجود مسجدوں میں نماز ادا کرتے اور اپنی پیدائش اور تخلیق کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے۔ 3۔ مرکزی بیت المال کا قیام: نبی کریمﷺ کی ریاست مدینہ میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مرکزی بیت المال کا نظام قائم کیا گیا تھا جس میں زکوٰۃ اور صدقات کو جمع کیا جاتا اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کی سعی کی جاتی۔

4۔ معروف کی نشر و اشاعت: ریاست مدینہ میں ہر اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی اور ایک دوسرے کی خیر خواہی اور فلاح و بہبود کے کاموں میں ایک دوسرے سے مکمل تعاون کیا جاتا تھا۔ 5۔ منکرات کا خاتمہ: ریاست مدینہ میں منکرات کے خاتمے کے لیے سعی کی جاتی تھی۔ چنانچہ جرائم کے خاتمے کے لیے حدوداللہ کو قائم کیا گیا۔ جس کے تحت چور کا ہاتھ کاٹنا، شرابی کو کوڑے لگانا، جھوٹی تہمت لگانے والے کو اسی درے لگانا، شراب نوشی اور منشیات کا استعمال کرنے والوں کو کوڑے لگوانا اور دیگر جرائم کی بیخ کنی شامل تھا۔

ریاست مدینہ میں فواحش اور منکرات کی کوئی گنجائش موجود نہ تھی اور بدنیت اور بدطینت عناصر ریاست مدینہ میں برائی کے پھیلاؤ سے گریز کرنے پر مجبور تھے۔ 6۔ انصاف کی فراہمی: ریاست مدینہ میں انصاف اور عدل کا بول بالا تھا اور مدینہ میں بسنے والا کوئی بھی شہری کسی دوسرے کی حق تلفی کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ نبی کریم ﷺ کی ریاست میں بڑے چھوٹے کے لیے قانون یکساں تھا۔ چنانچہ جب بنو مخزوم کی ایک نامی گرامی عورت نے چوری کی اور نبی کریمﷺ کے محبوب صحابی اسامہ ابن زید ؓ اس کی سفارش لے کر آئے تو نبی کریمﷺ نے اس سفارش کو قبول نہ کیا اور ارشاد فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں گا اور آپﷺ نے اس موقع پر سابقہ اقوام پر آنے والے عذابوں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتلائی کہ جب ان میں کوئی بڑا جرم کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی چھوٹا جرم کرتا تو اس کو سزا دی جاتی۔

7۔ اقلیتوں کے حقوق: ریاست مدینہ میں اقلیتوں کو بھی پورے پورے حقوق حاصل تھے اور مذہبی اختلاف کی بنیاد پر ان کی کسی بھی قسم کی حق تلفی کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ مذہبی اختلاف کی بنیاد پر کسی کو انتقام کا نشانہ بنانا یا اس پر ظلم و ستم کرنے کا ریاست مدینہ میں کوئی تصور نہ تھا۔ 8۔ دفاع مدینہ کا منظم طریقے سے اہتمام: ریاست مدینہ دفاعی اعتبار سے بھی ایک منظم ریاست تھی جو بیرونی حملہ آوروں کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی تھی۔

جب بھی کبھی کفار مکہ نے مدینہ طیبہ پر جارحیت کرنے کی کوشش کی تو نبی کریمﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ کی ہمراہی میں ریاست مدینہ کے دفاع کے لیے منظم انداز میں جوابی کارروائیاں کیں۔ نبی کریمﷺ کی رحلت کے بعد بھی خلفائے راشدین نے آپﷺ کی قائم کردہ ریاست مدینہ کے اصول و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین انداز میں حکومت کی۔ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علی ؓکا دور ہر اعتبار سے مثالی دور تھا۔ بالخصوص حضرت عمر فاروقؓ نے سماجی انصاف کا جو نظام قائم کیا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یورپ کے بہت سے ممالک میں سوشل سکیورٹی سسٹم کو قائم کیا گیا۔

حضرت عمرؓ اپنے معاشرے میں موجود نادار اور محروم طبقوں کی خدمات کے لیے پوری طرح کوشاں رہے۔ قرآن و سنت کے سیاسی اصول و ضوابط اور ریاست مدینہ کے خد و خال پر غور کرنے کے بعد آج اگر ہم ریاست مدینہ کے ماڈل مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایک مثالی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں دو پہلوؤں سے اس ریاست کی تشکیل کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ اللہ کی حاکمیت، نظام صلوٰۃ، مرکزی بیت المال، حیا داری، پردہ داری، شرعی حدود کا نفاذ ریاست مدینہ جیسی ریاست بنانے کے لیے ازحد ضروری ہے۔

اسی طرح خدمت انسانیت اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے منظم اور مربوط لائحہ عمل کو اپنانا بھی ریاست مدینہ کے لیے قیام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، نظام صلوٰۃ، حیا داری، فواحش اور منکرات سے اجتناب کا اہتمام کیے بغیر ریاست مدینہ کے قیام کا دعویٰ کیا جائے تو یہ دعویٰ بالکل بیکار ہو گا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور نظام صلوٰۃ، بیت المال کا قیام اور منکرات کا خاتمہ تو ہو لیکن عوام کی فلاح و بہبود اور عدل و انصاف پر بھرپور توجہ نہ دی جائے تو ایسی ریاست کو مدینہ جیسی ریاست نہیں کہا جا سکتا۔

مدینہ کے ماڈل پر عمل کرنے کے لیے ہمیں دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کام کرنے والے سیاسی قیادتوں میں سے کون سی قیادت ایسی ہے جو دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سیاست کو آگے بڑھاتی ہے۔ جو جماعت یا سیاسی تنظیم ان دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرے گی وہ حقیقی معنوں میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول اور عوام کی خدمت کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ وگرنہ ریاست مدینہ کا نعرہ ایک دعوے سے زیادہ نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words