جناب اینکر پرسن! پاکستان کو بدنام نہ کیجئیے

پاکستان ایک اسلامی ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا، اس کی بنیاد کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر رکھی گئی ہے۔ ہمارے قائدین، آبا و اجداد نے صرف علیحدہ وطن کے حصول کے لیے اس لیے قربانیاں دیں کہ مسلمان آزادی کے ساتھ اپنی عبادت کرسکیں، اسلامی ڈھانچے کے مطابق لوگ اپنی زندگی بسر کرسکیں، مسلم خواتین کی عزت محفوظ رہے، مسلمان بغیر کسی خوف و خطر اپنے کام کاج سر انجام دے سکیں، یہ تھی وہ بنیادی وجوہات جس کے لیے ہمارے بڑوں نے ہندوؤں اور سکھوں کے مظالم کو برداشت کر کے پاکستان جیسی عظیم سلطنت کو قائم کیا۔

آج پاکستان پر چاروں اطراف سے حملے ہو رہے ہیں، کہیں مذہبی جذبات کو ابھار کر دو فرقوں کو آپس میں گتھم گتھا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کہیں پاکستان کے دفاعی خفیہ رازوں کو ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں بیچے جاتے ہیں، کہیں میرے ملک کی ”حوا کی بیٹی“ کو درندگی کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، کہیں میڈیا کے اینکرز اپنے یوٹیوب چینل کے سبسکرائبرز اور ویوز حاصل کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کر کے پاکستان کے امیج کو دنیا بھر میں گندا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کہیں میرے ملک کے میڈیا ہاؤسز بریکنگ نیوز کے چکروں میں دوسروں کی عزت و آبرو کے ساتھ کھیلنے سے دریغ نہیں کرتے۔

آج کا پاکستان ایک آزاد ریاست ضرور ہے لیکن یہاں کے باشندے ابھی تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ آج کے پاکستان میں ”مرد“ کو ایک معاشرے میں گندے کردار کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، آج کے پاکستان میں ”میرا جسم میری مرضی“ کے عنوان پر لبرلز مردوں کو معاشرے کا ایک ”غلیظ فرد“ ثابت کرنے کے لیے عالمی میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔ آج کے پاکستان میں اینکرز حضرات اپنے یوٹیوب چینل کی پبلسٹی کے لیے ایک خاتون کی عزت و آبرو کا سہارا لیتے ہیں۔

آج کے پاکستان میں پوری قوم کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ معاشرے میں بگاڑ ہی پیدا مرد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آج کے پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ ”ٹک ٹاک“ بنا ہوا ہے لیکن میڈیا اپنی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کراچی میں ایک کریکر حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے 14 افراد کے لیے آواز بلند نہیں کر رہا۔

آج کے پاکستان میں ایک ٹک ٹاکر خاتون اپنے ویڈیو پیغام میں اپنے فالورز کو مینار پاکستان پر آنے کے لیے دعوت دیتی ہے جب چند سو اوباش لڑکے وہاں پہنچ کر اس لڑکی کو اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بناتے ہیں، متاثرہ لڑکی کو برہنہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لڑکوں کی طرف سے نازیبا قسم کے جملے کسے جاتے ہیں، اوباش لڑکوں کی طرف سے چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے حتی کہ یہی اوباش لڑکے اس لڑکی کے ساتھ ہر قسم کا گندا برتاؤ کرتے ہیں جس کی مذمت معاشرے کے ہر فرد نے کی، ہر شخص کی زبان پر یہی الفاظ تھے کہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور اس کیس میں ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے لیکن جب اس واقعے کے دوسرے رخ کو دیکھا جائے تو ہم سب کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس متاثرہ لڑکی کو کیا ضرورت پیش آئی کہ اس نے اپنے فالورز کو ہلا گلا کرنے کے لیے مینار پاکستان مدعو کیا؟

اس متاثرہ لڑکی نے فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلع کیوں نہیں کیا؟ پولیس اور متعلقہ تھانے کو اس واقعے کی اطلاع کیوں نہیں دی گئی اگر اطلاع دی بھی تھی تو پولیس نے کیا کارروائی کی؟ لیکن جب چند صحافی یوٹیوبرز نے اپنے ویوز بڑھانے کے لیے اس واقعے کو کوریج دی تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نوٹس لے کر اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کا اعادہ کیا، اب جب تفتیش ہر روز آگے بڑھ رہی ہے تو شواہد بھی نت نئے منظر عام پر آنا شروع ہو گئے ہیں، اس متاثرہ لڑکی نے 14 اگست سے ایک دن پہلے اپنے ٹاک ٹاک فالورز کو مینار پاکستان پر ہلا گلا اور ویڈیو بنانے کی دعوت دی اور وہاں پر جو عینی شاہدین تھے وہ بھی اسی بات پر زور دے رہے تھے کہ اس واقعے میں یہ لڑکی قصور وار ہے کیونکہ یہ لڑکی دوسرے لڑکوں کو نازیبا قسم کے اشارے کر کے بلا رہی تھی اور جو ویڈیوز منظر عام پر آ رہی ہیں تو آپ اس سے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جس لڑکے نے اس کو پکڑا ہوا ہے وہ سر عام کی ٹیم کا حصہ ہے اور اس متاثرہ لڑکی کا منگیتر سمجھا جاتا ہے لیکن جب گھر والوں سے اس لڑکے ”ریمبو“ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ لڑکا ہماری بیٹی کا منگیتر نہیں بلکہ عائشہ اکرم کے اکاؤنٹس یہی چلاتا تھا، لہذا اقرار الحسن کی طرف سے جلد بازی میں کیے گئے انٹرویو کا مقصد یہی تھا کہ کہیں ٹیم سر عام اس کیس میں بدنام نہ ہو جائے، اب اس خاتون کا کیس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہے اور ہم سب کی نظریں اس کیس پر لگی ہوئی ہیں کہ پولیس کس کو قصوروار ٹھہراتی ہے۔

اس کیس کی آڑ میں پاکستان کے چہرے کو عالمی سطح پر گندا کرنے والوں کے خلاف کیا حکومت کارروائی کرے گی؟ کیا حکومت ان اینکرز حضرات کے یوٹیوب چینلز کو بلاک کروائے گی جنہوں نے پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی کوشش کی؟ میرا پاکستان ایسا نہیں ہے کہ جہاں پر غیرت مند مردوں کا وجود نہ ہو۔ میرا پاکستان ایسا ہے جہاں پر بینکوں اور یوٹیلٹی اسٹورز کے باہر دھوپ میں گھنٹوں مردوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں لیکن جب کوئی خاتون خریداری کے سلسلے میں وہاں جاتی ہے تو وہی مرد کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اے بہن! آ جاؤ پہلے تم خریداری کر لو ہماری فکر چھوڑو۔ میرا پاکستان ایسا ہے کہ کسی گلی محلے میں کوئی شخص راہ چلتی خاتون کو چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کرے تو اس گلی محلے اور گاؤں کے لوگ اس شخص کو چھتر مارنے کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ میرے پاکستان کا مرد گھٹیا نہیں ہے بلکہ اس کو گھٹیا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کوئی بھی مہذب معاشرہ ظلم و زیادتی کو پرموٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ ظلم و بربریت کو جڑ سے ختم کرنے کی تلقین ضرور کرتا ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں نور مقدم کو ایک شدت پسند کی طرف سے چاقوؤں کے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دینے کا واقعہ پیش آیا، اس قتل کی ہر معاشرے نے مذمت کی بلکہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ان مردوں نے بھی اپنی توانائیوں کو صرف کیا جو مرد کو معاشرے کا ایک گندا فرد ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ نور مخدوم کے قاتل کو پولیس نے پکڑا، ہر شہری نے سخت سے سخت سزا دینے کی اپیل کی لیکن اس واقعے میں آپ کو نظر نہیں آئیں گے تو صرف ”میرا جسم میری مرضی“ والے نظر نہیں آئیں گے کیونکہ اس کیس میں نور مخدوم کا قاتل امریکی شہریت رکھتا ہے اس وجہ سے وہ اس کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے کو گستاخی تصور کرتے ہیں۔

کیا آپ نے نور مخدوم کے قتل کے خلاف اسلام آباد کی سڑکوں پر ”میرا جسم میری مرضی“ والوں کو دیکھا؟ کیا آپ نے نور مخدوم کے قاتل کو سزا دینے کے لیے اسلام آباد کی سڑکوں کو بلاک ہوتے دیکھا؟ حتی کہ کچھ گھٹیا لوگوں نے نور مخدوم پر الزام لگائے کہ وہ لڑکے سے پیسے لے کر کھا رہی تھی، کس قسم کے گھٹیا الزامات نہیں لگائے گئے اس پر لیکن آپ کو پاکستان کا میڈیا اس کے انصاف کے لیے آواز بلند کرتا ہوا نظر نہیں آئے گا۔

معاشرے کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو ظلم و زیادتی جیسے واقعات کو ختم کرنے کے لیے اپنے آپ کو صرف کریں، پاکستان کے قوانین کو مزید سخت کرنے کی کیمپین چلائیں، قوم کی بیٹیوں کی عزت و آبرو کو نشانہ بنانے والوں کو سخت سے سخت سزا دینے کی آواز کو بلند کریں تاکہ ہمارا پاکستان اس طرح کے جرائم سے پاک ہو کر دنیا کے سامنے بہتر امیج پیش کر سکے اور حوا کی بیٹی پاکستان کی سر زمین پر اپنی زندگی کو محفوظ سمجھ کر گزار سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
انیحہ انعم چوہدری کی دیگر تحریریں