صیہونیت، یہودیت سے کیسے مختلف ہے

یہودیت کا بحیثیت مذہب آغاز تاریخی حوالوں کی رو سے ہلنستی دور ( 31 ق م۔ 323 ق م) میں بنی اسرائیل میں ملتا ہے۔ مذہبی ادب بنی اسرائیلیوں کی کہانی 1500 سال ق م بتلاتا ہے۔ یہودیت توحیدی اور ابراہیمی ادیان میں سے ایک دین ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں یہودی وہ لوگ کہلاتے ہیں جو حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان رکھتے تھے اور ان پر جو کتاب نازل ہوئی، اس کے مطابق عمل کرتے تھے۔ یہودیت میں کئی فقہ شامل ہیں، سب اس بات پر متفق ہیں کہ دین کی بنیاد بیشک نبی موسٰی نے رکھی، مگر دین کا دار و مدار تورات اور تلمود کے مطالعہ پر ہے، نہ کہ کسی ایک شخصیت کی پیروی کرنے پر۔

یہودیت کی بنیاد چار ارکان پر ہے ؛

عقیدۂ توحید :یہودی توحید کے قائل ہیں اگرچہ بعض پیغمبروں کو اور بعض اوقات خود کو ہی خدا بیٹا کہلوا کر شرک کا ارتکاب کرتے ہیں لیکن بہرحال یہ توحید کا دعویٰ کرتے ہیں۔

مسیح موعود کی آمد :ان کے عقیدے کے مطابق آخر زمانے میں ایک نجات دہندہ آئے گا جو ان کے لیے ایک علیحدہ ریاست مملکت قائم کر کے ان کو ہزاروں سال کی ذلت و خواری سے انہیں نجات دلائے گا۔

شعب اللہ المختار : یعنی یہ یہودی اللہ تعالیٰ کی منتخب اور پسندیدہ قوم ہیں۔
الولاءللشعب الیھودی :یعنی یہودی کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنا۔

مسلمان اور عیسائی روز اول ان عقائد سے اختلاف کی وجہ سے یہودیوں سے تعصبانہ رویہ رکھتے ہیں۔ لہذا اس لیے یہودی روئے زمین پر جلا وطنی اور خانہ بدوشی کا شکار رہے۔ مسلمان اپنے عروج کے دور میں یہودیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے لیکن مسیحی ادوار ان کے خاصے دشوار رہے۔ یہودی جلاوطنی اسوری فتح کے ساتھ ہی شروع ہوئی اور بابلی فتح پر شدت اختیار کی۔ یہودی رومی سلطنت میں بھی جابجا پھیلے ہوئے تھے، جس میں بازنطینی حکمرانی دور میں وسطی اور مشرقی بحیرہ روم میں کمی واقع ہوئی ہے۔

نبی اکرمﷺ کے دور میں یہودی عرب میں پھیلے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے ایک یہودی قبیلے بنو قریظہ سے معاہدۂ صلح بھی کیا۔ سپین میں یہودی ثقافت کا سنہری دور مسلم سنہری دور اور یورپ کے قرون وسطی کے تاریک دور ساتھ وقوع پذیر ہوا جب جزیرہ نما آئبیریا کے زیادہ تر علاقوں میں مسلم حکمرانی تھی۔ اس دور میں یہودیوں کو عام طور پر معاشرے میں تسلیم کیا جاتا تھا چنانچہ یہودی مذہبی، ثقافتی اور اقتصادی زندگی نے ترقی کی۔

عثمانی مدت کے دوران میں 1300 ء۔ 1600 ء سلطنت کی تمام اقلیتی برادریاں بشمول یہود کسی حد تک خوشحالی و آزادی کا لطف اٹھاتے رہے۔ 17 ویں ء صدی میں مغربی یورپ میں اچھی خاصی یہودی آبادیاں تھیں۔ یورپی نشا‌‌‍ ۃ ثانیہ اور روشن خیالی کی مدت کے دوران میں خود یہودی برادریوں میں بھی اہم تبدیلیاں واقع ہوتی رہیں۔ 18 ویں صدی میں یورپ اور امریکا کے یہود نے سائنس، ثقافت اور معیشت کے شعبوں میں میں مہارت حاصل کی۔

1933 ء میں ایڈولف ہٹلر اور نازیوں کے جرمنی میں اقتدار میں آتے ساتھ یہودیوں کی صورت حال زیادہ کشیدہ ہو گئی۔ اقتصادی بحران، سام مخالف نسلی قوانین اور قریب تر ہوتی آئندہ کی جنگ کے خوف نے بہت سے یہودیوں کو یورپ سے فلسطین، ریاست ہائے متحدہ امریکا اور سوویت یونین فرار ہونے پر مجبور کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران 1941 میں سوویت یونین پر حملے کے بعد یہودیوں کا حتمی علاج یعنی یہودی لوگوں کا وسیع پیمانے پر بے مثال و منظم قتل عام شروع ہوا جس کا مقصد یہودی نسل کی فنا و تعدیم تھا اور جس کے نتیجہ میں یورپ میں یہود پر ظلم و ستم اور عقوبت وقوع پذیر ہوا۔ اس نسل کشی جس میں تقریباً ساٹھ لاکھ یہود باضابطہ طریقے سے ہلاک کیے گئے۔ اس قتل عام کو یہودی ”ہولو کاسٹ“ کہتے ہیں۔

یہودیوں پر دو ہزار سال تک جلا وطنی اور ظلم و ستم کے جواب میں صیہونیت انیسویں صدی کے اواخر میں وسطی اور مشرقی یورپ میں ایک یہودی قومی احیاء کی تحریک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ اس کے بعد جلد ہی، اس کے زیادہ تر رہنماؤں نے اس تحریک کا مقصد مطلوبہ ریاست فلسطین اور بعد میں سلطنت عثمانیہ کے زیر حکومت علاقوں میں قائم کرنے سے وابستہ کر لیا۔ امریکی صحافی تھیوڈور ہرتذل کو صہیونی تحریک کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ 1896 ء کی اپنی کتاب ’دیر یودنستات‘ (یہودی ریاست) میں انہوں نے بیسویں صدی میں مستقبل کی خودمختار یہودی ریاست کا تصور دیا۔ صہیونی تحریک کے مقاصد یہودیوں کے لیے الگ وطن کا قیام، اس کے استحکام اور دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر اس میں آباد کرنا تھا۔

سامیت پسند مذہبی پیشواؤں اور دانشوروں نے صیہونیت کی مخالفت کی کہ جب حضرت عیسٰی نے دنیا میں آ کر ہمیں الگ وطن دے دینا ہے اس لیے کسی دوسرے ملک پر قبضہ کرنا یہودیت کی گستاخی ہے۔ اس لیے یہ تحریک کوئی فعال کردار ادا نا کر سکی۔ مگر نازیوں کے قتل عام کے بعد اس تحریک نے زور پکڑا اور 1945 ء میں فلسطینی یہودی مزاحمتی تنظیمیں متحد ہوئیں اور یہودی مزاحمتی تحریک ہگانا کی باقاعدہ بنیاد ڈالی، تحریک نے برطانوی تسلط سے لاتعلقی کا برملا اظہار شروع کر دیا حتی کہ برطانوی حکومت کے فلسطینی علاقوں میں لامحدود یہودی آبادکاری سے انکار پر ہگانا دہشت گرد طریقہ مزاحمت اپنایا اور ساتھ ہی ساتھ بحری جہازوں میں غیر قانونی تارکین وطن یہود کو فلسطین میں آباد کرنے لگے۔ ڈیوڈ بن گوریان نے 14 مئی 1948 ء کو ارض اسرائیل میں یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا جو اسرائیلی ریاست کے طور پر جانا گیا۔

اس وقت اسرائیل خود مختار ملک کی حیثیت حاصل کیے ہوئے ہیں۔ جہاں پہ صیہونیت پسند پارٹی ”لیکوڈ“ اقتدار میں ہے اور یہودیت پسند اسرائیلیوں کے لیے جگہ تنگ ہے۔ لیکن یہودیت پسند اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی حکومت کو فلسطین پر ظلم کے خلاف سخت مخالفت دے رہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ یہودیت ایک مذہب جبکہ صیہونیت ایک تحریک ہے جسے نوم چومسکی سمیت بڑے یہودی دانشور یہودیت کی مخالفت سمجھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words