مجھ سے ملیے۔ میں ہوں ایک کانسپیریسی تھیوری سپیشلسٹ۔ لوگوں میں تھرتھلی پیدا کر دینا میرا شوق ہی نہیں، پیشہ ورانہ مجبوری بھی ہے۔ ویسے تو اس خداداد صلاحیت کے بارے میں مجھے بچپن سے ہی معلوم تھا لیکن ”سپیشلسٹ“ کے لاحقے والا یہ معزز سا تعارف میں نے بڑے ہونے کے بعد اپنایا۔ بچپن میں تو بس سب فسادی، دروغ گو، جھوٹی اور پتہ نہیں کیا کیا بولا کرتے تھے۔ مگر اب ایسا نہیں ہے، اب میں ”سوشل میڈیا انفلوئنسرز“ کی ایک معتبر سورس ہوں۔
اچھا مزے کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا سے متعارف ہونے سے پہلے اس فن کی ضرورت و اہمیت سے خود میں بھی واقف نہ تھی۔ بس یہ تھا کہ جہاں خاندان کے چار بڑوں کو کونے میں سر دیے ہنگامی اجلاس کرتے دیکھا، کوشش شروع ہوجاتی کہ کسی طرح پتہ لگ جائے کہ کس کی فائل کھلی ہے۔ بس نام پتہ لگنے کی دیر ہوتی تھی، باقی کی سچویشن تخلیق کرنا ہمارا کام۔ ایسے ایسے قصے گھڑے کہ اللہ معافی۔ تب مسئلہ یہ تھا کہ اپنے ”تخلیقی ذہن“ جسے خاندان والوں نے اپنی کمزور املا کی وجہ سے ”تخریبی ذہن“ سمجھا، اس میں لپکنے والے ان خیالات کو سننے کے لئے خاندان والے بھی تیار نہ تھے۔ مصلحت پسند ہنس کے کہتے ”لپیٹ لو“ اور اس ٹیلنٹ کے حاسدین سے میں خود ہی اجتناب برتتی تھی۔ بیکار بحث کون کرے جی۔
Read more