شرفا کی لڑکیاں

بچوں کی سلائیڈز کو دیکھ کے کبھی پیٹ میں گدگدی ہوئی ہے؟ مجھے نہیں ہوتی۔ مجھے تو ہمیشہ سلائیڈ کو دیکھ کے وحشت ہی ہوتی ہے۔ جسم پر سرسراتے ان جنگلی جانور نما انسانوں کے ہاتھوں کا لمس تازہ ہوتا ہے، کانوں میں اپنا جملہ گونجتا ہے ”کیا کر رہے ہو؟“ اور پھر بے حسی سے بھرپور جواب سنائی دیتا ہے ”کچھ نہیں، کچھ نہیں، آپ چلیں، آپ کو تو کچھ نہیں کہہ رہا“ ۔ بچے سلائیڈ کی سیڑھیاں صرف

Read more

یہاں سازشی تھیوری بنانے کا تسلی بخش کام کیا جاتا ہے

مجھ سے ملیے۔ میں ہوں ایک کانسپیریسی تھیوری سپیشلسٹ۔ لوگوں میں تھرتھلی پیدا کر دینا میرا شوق ہی نہیں، پیشہ ورانہ مجبوری بھی ہے۔ ویسے تو اس خداداد صلاحیت کے بارے میں مجھے بچپن سے ہی معلوم تھا لیکن ”سپیشلسٹ“ کے لاحقے والا یہ معزز سا تعارف میں نے بڑے ہونے کے بعد اپنایا۔ بچپن میں تو بس سب فسادی، دروغ گو، جھوٹی اور پتہ نہیں کیا کیا بولا کرتے تھے۔ مگر اب ایسا نہیں ہے، اب میں ”سوشل میڈیا انفلوئنسرز“ کی ایک معتبر سورس ہوں۔

اچھا مزے کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا سے متعارف ہونے سے پہلے اس فن کی ضرورت و اہمیت سے خود میں بھی واقف نہ تھی۔ بس یہ تھا کہ جہاں خاندان کے چار بڑوں کو کونے میں سر دیے ہنگامی اجلاس کرتے دیکھا، کوشش شروع ہوجاتی کہ کسی طرح پتہ لگ جائے کہ کس کی فائل کھلی ہے۔ بس نام پتہ لگنے کی دیر ہوتی تھی، باقی کی سچویشن تخلیق کرنا ہمارا کام۔ ایسے ایسے قصے گھڑے کہ اللہ معافی۔ تب مسئلہ یہ تھا کہ اپنے ”تخلیقی ذہن“ جسے خاندان والوں نے اپنی کمزور املا کی وجہ سے ”تخریبی ذہن“ سمجھا، اس میں لپکنے والے ان خیالات کو سننے کے لئے خاندان والے بھی تیار نہ تھے۔ مصلحت پسند ہنس کے کہتے ”لپیٹ لو“ اور اس ٹیلنٹ کے حاسدین سے میں خود ہی اجتناب برتتی تھی۔ بیکار بحث کون کرے جی۔

Read more

درد چھپاتا میک اپ اور خودکشی کرتی بیٹیاں

گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو دیکھنے کو ملی۔ کسی باہر کے ملک کی بنی ہوئی تھی اور اس میں سکھایا گیا تھا کہ گھریلو تشدد سے پڑنے والے نشانات کو خواتین کیسے میک اپ کی دبیز تہوں میں چھپا سکتی ہیں۔ اس قدر اصلاحی مقصد کے لئے بنی ویڈیو دیکھ کے میری تو آنکھوں میں خوشی سے آنسو آگئے۔ اب بھی دنیا میں ایسے نیک صفت لوگ موجود ہیں جو سرکش اور باغی خواتین کی اصلاح پر یقین رکھتے ہیں اور اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ویڈیو ٹیوٹوریلز بنا کے ریلیز کرتے رہتے ہیں۔ ماشاءاللہ!

Read more

چورن فروش ممانی اور دینی جماعتیں

یہ ان دنوں کی بات ہے جب نکاح نامے پر دستخط کے لئے پیانو کے دو روپے والے پیلے پین سے بھی کام چل جاتا تھا۔ سیاہی بھی پکی تھی اور رشتے بھی۔ نہ فیس بک تھی اور نہ اس پر دستیاب آن لائن سیلرز، جو سپیشل نکاح پین کے نام پر دس روپے والے پلاسٹک کے پین کی دم سے نقلی پر چپکا کے اسے ہزار روپے میں بیچتے۔ ان ہی دنوں ہمارے خاندان میں ایک شادی تھی۔ تقریب میں مقررہ وقت سے قبل یعنی روٹی کھلنے سے ایک گھنٹہ پہلے ہی ہم پہنچ چکے تھے۔

سٹیج پر ویسے ہی جھمگٹا لگا تھا جیسے آج کل زونگ کی سم بیچنے والے کھوکھوں پر ہوتا ہے۔ پتہ چلا نکاح کی رسم ابھی چل رہی ہے۔ ہم شادی میں کیے گئے اخراجات کی مناسبت سے چھوہارے والے پیکٹ میں موجود اشیا کی تعداد کا اندازہ لگانے لگے اور ساتھ ہی کن اکھیوں سے اطراف کا جائزہ بھی لے رہے تھے کہ جانے فیض عام کا یہ چشمہ کس جانب سے پھوٹ پڑے۔

Read more

وقت کم مقابلہ سخت

یہ ان دنوں کا تذکرہ ہے جب انٹر کے پرچے دینے کے بعد فراغت ہی فراغت تھی۔ گرمیوں کے کوفت سے بھرپور لمبے دن تھے جو کسی صورت کاٹے نہیں کٹتے تھے۔ اب ہم عمیرہ احمد کی ہیروئن تو تھے نہیں کہ نیم کے گھنے سائے میں آنکھیں موندے پڑے رہتے یا چوپائے کی جملہ نسلوں کے جانور بیچ کے میٹھی نیند کے مزے لے سکتے اس لئے گرمیوں کی دوپہر خصوصآً بہت بری لگتی تھی۔ ایسی ہی ایک دوپہر کا یہ قصہ ہے۔ہم اپنے تندور ہوئے کمرے میں آگ اگلتے گدے پر پڑے غصے سے چھت کو گھور رہے تھے۔ لائٹ تھی اور پنکھا چل رہا تھا اس لئے روایت کے عین مطابق گھوں گھوں کی آواز کے ساتھ گھومتے پنکھے کے پروں کو گھورنے سے قاصر تھے۔ البتہ سین کی مناسبت سے ماتھا پسینہ کے قطروں سے بھرا پڑا تھا۔ مثبت رپورٹنگ کا رواج ابھی عام نہیں تھا۔ اس لئے پسینے کے قطروں کو بھی نمکین پانی کی ننھی منی چمکتی بوندوں جیسی مہذب تشبیہ دینا ممکن نہ تھا۔

Read more

مجھے ایک تعویذ کی ضرورت ہے

کبھی کبھی مجھے اپنا آپ ایک سلیبرٹی محسوس ہوتا ہے۔ چھوٹی موٹی والی بھی نہیں بلکہ اچھی خاصی مشہور سلیبرٹی۔ وہی والی سلیبرٹی جسے شاپنگ مال میں دیکھ کے حضرات بچیاں تاڑنا اور خواتین سیل میں سے کپڑے چھانٹنا بھول جاتی ہیں۔ دوڑ بھاگ کے بعد زبردستی ان کے ساتھ سیلفی بنائی جاتی اور فیس بک پر شیئر کی جاتی ہے اور بھلا ہو مارک زگر برگ کی بنائی ٹیکنالوجی کا جو ایسے شوخے لوگوں کو ٹوڈیز میموری کے نام

Read more

امو ، پپا اور انا

امو کو دنیا سے گئے قریباً دو ماہ دس دن ہوچلے ہیں۔ یہی رخصتی خدانخواستہ امو کی جگہ پپا کی ہوئی ہوتی تو آج ہم کہہ رہے ہوتے کہ دیکھو پتہ ہی نہیں چلا اور عدت کی نصف مدت مکمل بھی ہوگئی لیکن خدا نے چونکہ مرد کو ان شرعی حدود و قیود سے آزاد رکھا ہے اس لئے پپا کے معمولات میں نہ کوئی فرق آیا اور نہ ہی وہ گھر کے کونے میں بیٹھے زندگی بھر کے ساتھی

Read more

رضا محمود خان واپس آ گیا

رضا محمود خان واپس آگیا۔ کیا کہا کون رضا؟ ارے وہی مودی کا یار، بھارت نواز، را کا ایجنٹ، نظریہ پاکستان کا مخالف اور دشمن کے ایجنڈے پر عمل کرنے والا رضا خان۔ وہی رضا خان جو پاک فوج کے جوانوں کی گزشتہ ستر سال سے دی جانے والی قربانیوں کو خاک میں ملانا چاہتا تھا اور پاک بھارت دوستی کی باتیں کرتا تھا۔ حالانکہ سیدھی سی بات ہے کہ دشمن ہمسائے سے دوستی کی خواہش تو بس وہی سنگدل

Read more

انیل کپور کی نائیک اور وزیر اعلی حسن عسکری بطور امریش پوری

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب منصورہ میں ڈش اینٹینا لگانے کی ممانعت تھی۔ سرکار ( منصورہ انتظامیہ) کی رٹ کو چیلنج کرنے کی جرات رکھنے والے تین گھرانوں کے علاوہ باقی گھروں میں روایتی اینٹینا سے ٹی وی دیکھنے کا رواج تھا۔ اس زمانے میں بھارتی چینل دور درشن پر جعمہ کے جمعہ ایک ہندی فیچر فلم آتی تھی جسے ہمارے جیسے شوقین افراد اینٹینا ہلا جلا کے جیسے تیسے دیکھ لیتے تھے۔ فلم بینی کے دوران یہ

Read more

کیا پاکستانیوں کے لئے بھی خودکشی حرام ہے؟

گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کسی نے واٹس ایپ پر بھی بھیج دی۔ چند سیکنڈز کی اس ویڈیو نے دل مٹھی میں جکڑ لیا۔ حرم شریف میں بالائی منزل سے کود کے جان دینے کا یہ دلدوز کلپ مبینہ طور پر کسی فرانسیسی نومسلم کا ہے۔ ویسے تواس ویڈیو کے ساتھ گردش کرتے تبصروں ، سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے حوالے سے ہونے والی بحث کو پڑھ کے یہ اطمینان ہوا کہ مسلمانوں

Read more