خدائے امن کے تخلیق کردہ جہاں میں عوام الناس حواس خمسہ کے سہارے خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے (واضح رہے کہ حواس خمسہ کا سرسید کے ارکان خمسہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ) ۔ قوت سامعہ (کان) لامسہ (ہاتھ) ذائقہ (زبان) شامہ (ناک) اور باصرہ (آنکھ) ان کی کل حیات تھی کہ اچانک ایک صبح ڈیوک یونیورسٹی کے ماہر نفسیات جی۔ بی رائن نے ”چھٹی حس“ کا تصور دے کریک دم وقت بدل دیا، جذبات بدل دیے، زندگی بدل دی۔ اس کا ناصرف اچھے بھلے چلتے نظام زندگی پر اثر ہوا بلکہ ذہن انسانی کی کارکردگی بھی مشکوک ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق چھٹی حس کی اصطلاح ان مواقع کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو بظاہر موجود نہیں ہوتے۔ یہ ادراک سے ماورا اور حواس خمسہ سے مبرا ہے۔ مطلب یہ سمجھ آتا ہے کہ چھٹی حس کا عمل دخل ان خیالات و احساسات سے ہے جن کا عقل و دانش سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ اب ہماری قوم تو ایسے معاملات میں روز اول سے ید طولیٰ رکھتی ہے سو یہاں چھٹی حس کا وہ حال ہوا کہ اسے چھٹی کا دودھ آ گیا۔
Read more