غیر روبوٹ مردوں سے ہماری جان چھڑائی جائے

آج صبح صبح عابد کی کال آ گئی۔ جلدی جلدی میرے گھر پہنچو، والدہ کو ہسپتال لے کے جانا ہے۔ بوجہ ذاتی مصروفیت معذرت کرلی، مگر اس وعدے کے ساتھ کہ میں شام کو تیمارداری کے لیے آؤں گا۔ وعدے کے مطابق شام کو عابد کے پاس پہنچ گیا۔ عابد مجھے سیدھا اپنی والدہ کے کمرے میں لے گیا۔ کمرہ کیا تھا، ہسپتال کا ICU، جس میں آنٹی زندہ لاش کی طرح مکمل مصنوعی نظام تنفس اور انہضام پہ چل رہی تھیں۔ ابھی بیٹھے چند لمحے نہیں گزرے تھے، تو عابد کے والد ملنے چلے آئے۔

ماشاء اللہ سفید داڑھی ٹوپی کے ساتھ، بہت سوبر شخصیت کے مالک۔ جونہی انکل نے سلام کیا، عابد کی والدہ شدید بے چین ہو کے چیخنا شروع کر دیا۔ ایک ہاتھ سے اپنی شلوار نیچے کر کے، آکسیجن ماسک اتار کے پھینک دیا۔ بڑبڑانا شروع کر دیا ’تو کرلا مرضی تو کرلا مرضی‘ ۔ اس ناگہانی صورتحال کے لیے ہم بالکل تیار نہیں تھے۔ شرمندہ ہوتے، میں اور عابد ساتھ کمرے میں چلے گے۔ عائشہ بھابھی آنٹی کو نارمل کرنا شروع ہو گئیں۔ میں پانچ منٹ خاموش بیٹھنے کے بعد اجازت لے کے گھر آ گیا۔

گھر پہنچا تو بیوی کسی کے ساتھ فون پہ بات کر رہی تھی۔ فون سے فراغت کے بعد میری طرف متوجہ ہوئی اور عابد کی والدہ کا حال احوال کرنا شروع ہو گئی۔ جب میں نے مکمل واقعہ سنایا تو کہنے لگی۔ ابھی عائشہ بھابھی سے ہی فون پہ بات ہو رہی تھی۔ بس ان کا عقدہ آپ کے سامنے کھل گیا۔ یہ عابد کا والد ایک جنسی حیوان ہے۔ اس نے اپنے بیٹے کی غیرموجودگی میں دو دفعہ بہو کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کرچکا ہے۔ جب معاملہ سنجیدگی اختیار کر گیا تو خاندان والوں نے منتیں کر کر کے عابد کا گھر بسایا۔

بہو کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے بعد معذور بیوی کو دن میں دو دفعہ جنسی زد و کوب کرتا ہے۔ اس تمام مراحل میں بیمار بیوی تڑپتی رہتی ہے۔ کل شام کو طبعیت ناساز ہونے کی بڑی وجہ بابا جی ہی تھے۔ اس تمام معاملے کو سننے کے بعد دو ہفتے نارمل ہونے میں لگے۔ اس معاشرے میں بہت سے سوال جنم لیتے ہیں۔ بیوی بیمار ہو تو دوسری شادی کرلو۔ بیمار شوہر کی بیوی تو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے دوسرے مرد کے پاس نہیں جاتی۔

خیر اس منافق معاشرے میں خواتین کو ہراساں کرنے کا ریٹ سو فیصد ہے۔ ہر ہراسمنٹ میں خواتین کے قریب ترین رشتے کزن، بہنوئی، جیٹھ دیور اور سسر شامل ہیں۔ میں نے بیشمار بہنوئی دیکھے ہیں۔ جو اپنی سالیوں کے حسن کی تعریفیں دوستوں کی بیٹھکوں میں کرتے ہیں۔ حتی کہ جو لطیفے اپنے بھائیوں کو سناتے ہچکچاتے ہیں، وہ ساس اور سالیوں کے سامنے سرعام ڈھٹائی کے ساتھ سناتے ہیں۔ ساس اور سالیاں بہن کے گھر کو آباد کرنے کے چکر میں مجبوراً اس ذلیل کی باتیں برداشت کرتی ہیں۔ بس بیٹی کا بے غیرت سہاگ سلامت رہے۔

خیر اس منافق معاشرے کی رہی سہی کسر عزت مآب وزیراعظم صاحب کے بیان نے پوری کردی ہے۔ کہ عورت اپنے آپ کو ڈھانپے مرد روبوٹ نہیں۔ تو جناب یہ پاکستانی مرد کس چیز کے بنے ہیں جو پوری دنیا کے مردوں سے مختلف ہیں۔ کیا قرآن مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم نہیں دیتا۔ یہ مرد کھلے عام نور مقدم کی گردن اتارنے والے قاتل کے حامی ہیں۔ کہ اس نے ٹھیک گردن اتاری کیونکہ لڑکی بغیر نکاح کے اس لڑکے کے پاس گئی تھی۔

جناب عالی! آپ کی بیٹی ہو گی تو پتہ چلے گا۔ باپ کو بیٹی کتنی عزیز ہوتی ہے۔ عورت کا حق ہے کہ وہ محبت کرے، مگر اس روبوٹ کے اندر سافٹ وئیر نہیں عزت والی تربیت کا، جو عورت کو محض ایک کھلونا سمجھتا ہے اور اس معصوم بچی کی گردن اتار کے نئے کھلونے کی طرف چل پڑتا ہے۔ ایسے معاشرے میں دیت کے قانون پہ حد لگنے چاہیے۔ ایسے جنسی روبوٹوں کو سرعام جہنم واصل کرنا چاہیے۔ راولپنڈی کی خاتون جس کے قدموں میں چودہ ماہ کے بچے کی لاش پڑی ہے۔ جس کے ساتھ جنسی ناکامی پہ مجرم نے اس کے معصوم بیٹے کو مار کے، اس خاتون کی گردن کاٹ دی ہے۔ ان روبوٹوں سے بکریاں، بلیاں اور ہر طرح کے مؤنث جانور محفوظ نہیں۔ حتی کہ کئی لوگ ڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہیں، گدھی صرف روٹی نہیں پکا سکتی، باقی ہر ضرورت پوری کرتی ہے۔ تو ایسے جنسی مریض روبوٹوں کے وزیراعظم سے میرا یہ سوال ہے۔ عالی جناب ہم عام لوگ ہیں، اس قدر مشقت کرتے ہیں، کہ دو وقت کی روٹی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔ میں انسان ہوں، میرے جذبات اور انسانی رشتے ہیں۔ میری بیٹیاں، بھتیجیاں، بھانجیاں، اور معصوم بیٹے، بہنیں، ماں ہے۔ مائی باپ میرے اجداد پاکستان بننے پہ لٹے تھے۔ اس وقت بھی روبوٹوں نے جب میری بہنوں پہ ہاتھ ڈالا تو ہماری بہنوں نے کنویں بھر دیے۔ مائی باپ دادرسی کردو، ان روبوٹوں سے ہماری جان چھڑوا دو، اب مزید ہجرتیں نہیں ہوتیں۔ معاف کردو۔ جینے دو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words