افغانستان پر ایک ماہرانہ و فکر انگیز تجزیہ

ماہ اگست کا اہم ترین موضوع ممکنہ طور پر افغانستان ہے۔ راقم کو افغانستان کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں ماسوائے اس کے کہ افغانی اس ملک کی کرنسی کا نام ہے جبکہ اس کے باشندوں کو افغان کہتے ہیں۔ لیکن آج کل میڈیا پر بظاہر ہر وہ شخص جس نے افغانستان کا نام سن رکھا ہے افغانستان پر رائے زنی کر رہا ہے چاہے اسے افغان اور افغانی کا فرق بھی معلوم نہ ہو تو راقم نے سوچا کہ وہ بھی ایک عدد مضمون لکھ مارے۔ اگر چھپ گیا تو ٹھیک اور اگر نہ چھپا تو ’غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں‘ ۔

افغانستان کی جنگ اقتدار میں طالبان کی کامیابی پر ہمارے ملک کا ایک طبقہ فرحاں و شاداں ہے جس کی میڈیا پر ترجمانی کا فرض کچھ صحافی، دانشور اور سابق فوجی افسران بخوبی ادا کر رہے ہیں۔ راقم طالبان کی ’فتح مبین‘ پر ان افراد کو مبارکباد پیش کرتا ہے۔ اس قبیلے کے ایک نمایاں فرد محترم اوریا مقبول جان دوگنی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ طالبان کے کامیابی کے ساتھ ساتھ خبروں کے مطابق انہیں اسلام آباد میں ایک عدد سرکاری پلاٹ کی خوشی بھی نصیب ہوئی ہے۔ امید ہے کہ اوریا مقبول جان صاحب کو اپنے پلاٹ کا قبضہ بھی اسی سرعت و آسانی سے مل جائے گا جیسے طالبان کو افغانستان کا ملا ہے۔

افغانستان میں طالبان کی فتح کو محترم انصار عباسی صاحب نے ’ایمان کی طاقت‘ کہہ کر گویا دریا کوزے میں بند کر دیا ہے۔ اصولی طور پر تو عباسی صاحب کی طرف سے قوت ایمانی کا پتہ کھیلنے کے بعد بحث ختم ہو جانی چاہیے تھی لیکن یار لوگ حجت سے باز نہیں آتے، فی الفور سوال داغ دیا کہ ایمان کی طاقت صرف اس صورت میں کیوں بروئے کار آئی جب امریکہ نے افغانستان سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا؟ بیس سال تک یہ طاقت امریکہ سے محض وقتاً فوقتاً چھیڑ چھاڑ تک ہی کیوں محدود رہی؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اپنے تمام تر وسائل کے باوجود بیس سال میں طالبان کو ختم نہیں کر سکا لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ ویتنام میں کمیونسٹ جنگجوؤں نے امریکہ کو جس قدر جانی نقصان و ہزیمت سے دوچار کیا تھا ہمارے ایمانی قوت سے مالا مال مجاہدین اس کے قریب بھی نہ پہنچ سکے۔ محترمہ شیریں مزاری و دیگر نے افغانستان سے امریکی انخلاء کو ویتنام میں امریکی شکست سے تشبیہ دی ہے جبکہ راقم کے خیال میں دونوں ممالک میں مماثلت صرف اتنی ہے کی جس طرح امریکی انخلا کے بعد ویتنام میں یک جماعتی نظام حکومت قائم ہوا تھا اسی طرح افغانستان میں بھی آئندہ کچھ برسوں تک ایک گروہ ہی قابض رہے گا۔ دنیا میں جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کے فروغ کے معاملے میں امریکہ اور اس کے حواریوں کا دامن پہلے ہی داغدار ہے۔ افغانستان میں تازہ ترین پسپائی محض ایک اور داغ کا اضافہ ہے۔ جب تک امریکی رائے عامہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، امریکی حکومت کو بھی نہیں پڑے گا۔

افغانستان کے تازہ ترین صورتحال پر ہماری حکومتی پالیسی واضح نہیں۔ البتہ ہمارے وزیراعظم کے ان بیانات کا بہت چرچا ہے جن میں انہوں نے افغانستان میں جنگ کو بطور حل مسترد کر دیا تھا۔ اصولی طور پر تو وزیر اعظم کی بات سے اختلاف کی گنجائش نہیں لیکن افغانستان کی حالیہ تاریخ کو دیکھیں تو فیصلہ بندوق نے ہی کیا ہے۔ جب تک امریکی بندوق کا سایہ میسر رہا حامد کرزئی اور اشرف غنی حکومت چلاتے رہے۔ جونہی امریکی بندوق ہٹی، طالبان اپنی بندوقیں لہراتے ہوئے صدارتی محل میں پہنچ گئے۔

اگر ملا برادر کے لئے بھی افغان عوام نے اسی طرح مظاہرے کیے ہوں جس طرح کبھی ایرانی عوام نے امام خمینی کے لئے تھے تو راقم ان سے واقف نہیں۔ کل کلاں کو طالبان مخالف گروہ کے ہاتھ طالبان سے بڑی بندوق آ گئی تو پانسہ پھر پلٹ جائے گا۔ وسیع البنیاد حکومت ایک مستحسن ترجیح سہی لیکن افغان تاریخ اس باب میں زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد حجاز مقدس میں ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں مجاہدین کی جو وسیع البنیاد حکومت وجود میں آئی تھی اس کے نامزد وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کچھ عرصہ بعد اپنے ہی دارالحکومت پر بمباری کرتے پائے گئے تھے۔

افغانستان پر کوئی تجزیہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک پاکستان پر اس کے اثرات پر رائے زنی نہ کی جائے۔ مذہب بیزار اور مغرب سے متاثر طبقہ پاکستان میں انتہا پسندی میں مزید اضافے کا خطرہ دیکھ رہا ہے۔ راقم ذاتی طور پر طالبان اقتدار کے اس مثبت پہلو کو دیکھ رہا ہے جس کی طرف محترم اوریا مقبول جان جیسے صاحبان ایمان و نظر توجہ مبذول کرا رہے ہیں۔ طالبان کی کامیابی کے بعد پاکستان کے ہمسایہ برادر اسلامی ملک ایران کی طرح برادر ہمسایہ اسلامی ملک افغانستان میں بھی حقیقی نمائندہ حکومت کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

طالبان کے فوری، سستے اور سخت انصاف کی خوش کن خبریں بھی عنقریب متوقع ہیں۔ اس سے پاکستان میں ایک طبقے کی جانب سے ایسے نظام کے مطالبے کو تقویت ملے گی جس میں ایک صالح مرد آہن قانون، آئین اور پارلیمانی اکثریت جیسی پابندیوں سے بے نیاز ہو کر انقلابی تبدیلیاں لا سکے جس میں سرفہرست ہر اس شخص کو جسے صالح مرد آہن مجرم سمجھتا ہو الٹا لٹکانا شامل ہے (کچھ لوگوں کے نزدیک تو ہمیں وہ صالح مرد آہن نصیب ہو چکا ہے بس نظام کہن اس کی راہ میں رکاوٹ ہے)۔

اگر ایسا ہو گیا تو چودہ اگست کو لاہور میں پیش آنے والے جیسے شرمناک واقعات کا خودبخود سدباب ہو جائے گا۔ اس کی وجہ معاشرے کی تطہیر نہ ہو گی کیونکہ امور کائنات میں جن چیزوں کو تبدیلی سے استثنیٰ حاصل ہے ان میں پاکستانی مرد کی فطرت بھی شامل ہے۔ طالبان طرز کے معاشرے میں اول تو عورتیں گھر سے نکلیں گی ہی نہیں اور اگر نکلیں گی تو محرم کے ساتھ۔ اس طرح نامحرموں کے ہاتھوں ہراساں ہونے کا امکان نہیں رہے گا اور عورتوں پر تشدد گھر کی محفوظ چاردیواری میں شوہروں اور بھائیوں کے ہاتھوں مارپیٹ تک محدود ہو جائے گا۔ چونکہ ایسے واقعات کی ویڈیوز کا منظرعام پر آنا مشکل ہے اس لئے ہمارے صدر مملکت عارف علوی صاحب کی وہ پریشانی بھی کم ہو جائے گی جو انہیں ایسی ویڈیوز کے سبب بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی ساکھ کے بارے لاحق ہو جاتی ہے۔

اس تحریر کا اختتام اس دعا کے ساتھ کہ جس طرح راقم کے سابق پرمغز تجزیے غلط ثابت ہوئے ہیں اسی طرح یہ تجزیہ بھی غلط ثابت ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words