افغانستان اور سازشی تھیوریز

امریکہ افغانستان سے بیس سالہ لڑائی کے بعد واپس جا چکا ہے۔ اس دوران اربوں ڈالرز کے اخراجات ہزاروں ہلاکتیں اور افغانستان کا پہلے سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر مزید تباہ ہوا۔ امریکہ نے یقیناً اس جنگ کو شروع کرنے سے پہلے کیس سٹڈی مکمل کی ہو گی۔ بعض نظریات کے مطابق یہ جنگ ایمرجنسی میں شروع کی گئی جس کے امکانات کم ہیں۔ جنگ شروع ہوتے ہی طالبان کی حکومت ختم ہو گئی اور طویل جنگ کے بعد القاعدہ کی آپریشنل کپیسٹی کو بھی ختم کیا گیا۔

دنیا بھر میں القاعدہ کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ القاعدہ لیڈر بن لادن اور دیگر اعلی قیادت کی ہلاکت یا گرفتاری بظاہر امریکہ کی جیت لگتی ہے مگر یار لوگ اس جیت والی بات کو ماننے سے انکاری ہیں۔ ان کے مطابق پہلے روس اور اب امریکہ کی ہار ہوئی ہے۔ آج ہم بات کریں گے جیت اور ہار کی دونوں تھیوریز پر، میرے خیالات سے آپ کو ہالی وڈ یا کم از کم بالی وڈ کی ایکشن فلموں والی فینٹسی ضرور ملے گی۔ یہ تحریر فلمی اور جاسوسی کہانیوں کا رنگ لئے ہوئے ہو گی اس لئے اس کو سنجیدہ لینا یا ان باتوں سے متفق ہونا بالکل بھی ضروری نہیں ہے آپ دل کھول کر اس کا مذاق بھی اڑا سکتے ہیں برا نہیں مانا جائے گا۔

امریکی جیت

یہ بیانیہ میرے وطن میں بہت زیادہ غیر مقبول اور نا پسندیدہ ہے۔ ہم ہر حال میں امریکہ کی ہار کی خواہش ہے چاہے زمینی حقائق کچھ بھی کیوں نہ ہوں۔ ہم برباد ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں اس بیس سالہ جنگ میں صرف 2400 سو امریکی مرے اور چند ٹریلین ڈالرز امریکہ کے خرچ ہوئے جو کہ اس کی اکانومی کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ لا کھوں افغانی مرے صرف پاکستان میں ہی ستر ہزار لوگ شہید کر دیے گئے اور تقریباً ستر ارب ڈالرز کا نقصان بھی ہوا۔

لیکن کیوں کہ دشمن واپس جا چکا ہے اس لئے جیت ہماری ہوئی۔ ہم نے ان بیس سالوں میں کیا کھویا کیا پایا یہ سوال معنی نہیں رکھتا۔ اس دوران امریکہ نے طالبان حکومت کو ختم کیا یہاں جمہوریت کو بحال کیا لوگوں نے جمہوریت کے ثمرات کو چکھا، چھ ملین سے زیادہ لوگوں نے 2005 اور 2009 میں ووٹ کا حق استعمال کیا۔ القاعدہ کا پوری دینا میں پیچھا کیا اس کو توڑ کر اس کی آپریشنل صلاحیت کو مفلوج کیا۔ جہاں دل چاہا جنرل قسیم ڈاکٹرائین کو دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف استعمال کیا۔

لبنانی شیعہ کی حزب اللہ ہو یا ایرانی اور افغانی شیعہ کی فرقہ الفتحون، عراقی شیعہ پر مشتمل حرکتہ الجنابہ اور لوائے عباس ہو ان کو پہلے عراق میں داعش کے خلاف استعمال کیا بعد ازاں شام میں انہی امریکی حمایت یافتہ گروپس نے بشار الاسد کی حکومت کے باغیوں کے خلاف جنگ کی جہاں باغیوں کو امریکہ سپورٹ کر رہا تھا (کہیں دوست کہیں دشمن) ، بوکو حرام اور دیگر تنظیموں کو ان کے علاقوں تک محدود رکھا۔ افریقہ میں دہشت گرد گروہ بوکو حرام (جماعت اصل سنت ودعوتہ الجہاد) کو 2015 میں دو حصوں میں تقسیم کیا۔

اور اس سے دولت اسلامیہ مغربی افریقہ وجود میں آئی۔ طالبان کو دوحہ پلان کے مطابق ہوم ورک دیا کہ وہ افغانستان میں داعش (امارت اسلامی عراق و خراسان) کو جو کہ ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی زیر کمانڈ ہے کبھی بھی پنپنے نہ دیں۔ مزید چین کی نگرانی بھی طالبان کے ذمے ہے اور اس ٹاسک پر ان سے گہری پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں امریکہ کو اس خطے میں بھارت کی شکل میں ایک بہترین اتحادی ملا ہے جو کہ چین پر نظر رکھنے اور اس خطے میں اب امریکیوں کے مفادات کی نگرانی بھی کرے گا۔ نیز ایران کو جو سپورٹ شمالی اتحاد کی وجہ سے مل رہی تھی اس میں بھی کمی آئے گی۔ اس تمام دورانیہ میں امریکی اپنی اندرونی سیکیورٹی کو بہتر بناتے رہے۔ ان کو اس سیکیورٹی میکانیزم کو بنانے کے لئے پندرہ سے بیس سال کا عرصہ درکار تھا جو اس نے پوری دنیا کو افغان جنگ میں مصروف رکھ کر حاصل کر لیا تھا۔

افغانستان اور چین

چین افغانستان کا ایک ہمسایہ ملک ہے جو کہ امریکہ کے لئے معاشی اور دفاعی نکتہ نظر سے ایک حقیقی چیلنج ہے اور چین اپنی پالیسیز کی وجہ سے اقوام عالم میں زیادہ غیر مقبول بھی نہیں ہے۔ اس بات کا اندازہ یوں لگائیں کہ چین میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی سختیوں پر کسی بھی اسلامی فورم سے آواز نہیں اٹھتی مگر ایک خامی جو کہ ماضی قریب میں کھل کر سامنے آئی ہے وہ یہ کہ چین میں قدرتی طور پر بلاک بنانے کی صلاحیت نہیں ہے جو کہ روس میں تھی اور امریکہ میں ہے۔

بلاک ہمیشہ دو بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں ایک مذہب اور دوسرا نظریہ۔ چین ان دونوں صلاحیتوں سے محروم ہے اس کے نظریے کیمونزم، سوشلزم کو روس پہلے ہی استعمال کر چکا ہے۔ اور امریکی مذہب کارڈ کو استعمال کرنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ ماضی میں اس نے اسی خطے کو پوری اسلامی دنیا کے مجاہدین کی جنت بنا دیا تھا۔ وقت ضرورت وہ اب بھی مذہب کارڈ کو استعمال کرتا رہتا ہے۔ اس خامی کے باوجود بھی چین میں ایک مقناطیسی طاقت موجود ہے جو کہ اس کی بے پناہ دولت ہے۔

امریکہ اب چین کو لیول فیلڈ دینے کے حق میں نہیں ہے۔ وہ اپنا نیا مہرہ طالبان کی شکل میں بساط پر لایا ہے جو کہ چین میں تحریک طالبان پاکستان کی طرز پر تحریک کا آغاز کریں گے اور مسلم اکثریتی علاقوں میں بے چینی پھیلانے حتی کہ علیحدگی کی تحریک بھی شروع کروا سکتے ہیں جس کو یقیناً چین سختی سے کچلنے کی کوشش کرے گا اس کی یہ کوشش اس کے پرامن عالمی تشخص کو بگاڑ دے گی۔ اور اس کے نتیجے میں عالم اسلام میں اس کے خلاف جذبات پیدا ہوں گے ۔

اس سے وہ ان اسلامی تنظیموں کو چین کے خلاف کرنے کی کو شش گا جو ان معاملات میں پہلے سے ملوث ہیں یا جن تنظیموں پر اس نے سرمایہ کاری کی ہے۔ یوں امریکہ چین کو ایک غیر ذمہ دار ملک کے طور پر پیش کرے گا اور اس کی برق رفتار ترقی کو روکنے کی کوشش کرے گا۔ ایک اور فائدہ وہ اپنے اتحادی بھارت کو دے سکتا ہے۔ وہ یہ کہ چین کے شورش زدہ اسلامی علاقوں کو کشمیر سے مشابہت دے کر وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو قانونی جواز دے۔

اس ہوم ورک کی تکمیل کے لئے امریکہ نے کافی اسلحہ طالبان کے لئے چھوڑا ہے۔ طالبان اگر اس پیش کش کو مان چکے ہیں تو اب ان کے لئے اس سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بے پناہ فوجی طاقت سے آگاہ ہو چکے ہیں۔ وہ شاید دوبارہ بھی اس کے سامنے دو ہفتوں سے زیادہ ٹک نہ سکیں۔ چین غالباً اس حکمت عملی کو بھانپ چکا ہے اس لئے چین نے 28 جولائی کو طالبان کے وفد سے سٹیٹ گیسٹ کے طور پر ملاقات کی اور ان کو وہی سٹیٹس دیا جو کہ ایک قانونی حکومت کے نمائندگان کو دیا جاتا ہے۔

ون روڈ کا منصوبہ بھی اب طالبان کی مرضی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ چین کے معاشی منصوبوں میں ون روڈ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اور وہ اس پر اربوں ڈالرز خرچ کر چکا ہے۔ حتی کہ اس کے دوسرے سرے جو کہ افریقہ سے ملتے ہیں وہاں پر بھی اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری چین کی جانب سے ہو چکی ہے۔ ادھر دوحہ پلان پر بڑی کامیابی سے عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ طالبان افغانستان پر مکمل قبضہ کر چکے ہیں اور اشرف غنی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

امریکی ہار

میری قوم کا پسندیدہ موزوں امریکہ کی شکست اور اس کا ٹوٹنا ہے، 1947 سے اب تک پاکستان امریکہ کا سیاسی اور اقتصادی حلیف رہا ہے مگر یہ اتحاد کبھی بھی عوام میں پذیرائی حاصل نہیں کر سکا۔ جان بولٹن، بش جونیئر کے دور میں اقوام متحدہ میں مستقل مندوب تھا ٹرمپ کے دور میں یہ سیکیورٹی ایڈوائزر بھی رہا اس کے بقول امریکہ اپنی دو دہائیوں پر مشتمل جنگ ہارا نہیں، ہاں البتہ امریکہ اپنا صبر کا پیمانہ جلدی لبریز کر بیٹھا اور افغانستان سے تھوڑا پہلے نکل گیا۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ امریکہ نے اربوں ڈالرز اس جنگ میں کھوئے 2400 کے قریب فوجیوں اور سویلینز کی جانیں گئیں، افغانستان کو نیا آئین دیا تین صدارتی انتخابات کروائے مگر امریکہ کے جاتے ہی طالبان افغانستان پر ایک مہینے سے بھی کم عرصے میں قابض ہو گئے۔ تین لاکھ افغانی نیشنل فورسز مغربی اسلحے کی موجودگی میں بھی طالبان کے سامنے مزاحمت نہ کر سکے۔ ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے جس میں دو ہزار سے بھی کم القاعدہ کے کارکن ہیں۔

اتنی طویل جنگ میں بھی طالبان نے اپنے حواس قائم رکھے اور اچھے وقت کا انتظار کیا۔ اس دوران طالبان اچھے خاصے سیاست دان بن گئے اور پوری دنیا میں اپنے نمائندے پھیلا دیے جنھوں نے پوری دنیا کو یہ باور کروا دیا کہ امریکہ کے جانے کے بعد وہی افغانستان کے حکمران ہوں گے ان نماءئندگان کو اور ان کی بات کو مان بھی لیا گیا۔ امریکہ نے جو محنت بیس سال میں افغان معاشرے کو جدید بنانے میں صرف کی تھی وہ بھی ریورس ہوتی نظر آ رہی ہے۔

طالبان آج افغانستان پر قابض ہیں اور ان کا سکہ ہی وہاں چلے گا۔ امریکہ نے ایک دن اس خطے سے واپس جانا تھا اس بات کا ادراک اگر افغانستان کے ہمسایہ ممالک اور ترقی پسند افغانوں کو نہیں تھا تو اس بات پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ اب افغانستان کے ہمسایہ ممالک اس صورت حال سے کافی خائف ہیں اور خاص کر ان سہولیات کو لے کر جو امریکہ کی طرف سے طالبان کو دی جا رہی ہیں۔ طالبان نے اچھے بچے بننے کا وعدہ بھی عالمی طاقتوں سے کیا ہے اور اب ان کے ترجمان بھی اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

وہ بچیوں کی تعلیم اور عورتوں کے حقوق کی بات بھی کر رہے ہیں۔ جن شرائط پر طالبان کو حکومت دی گئی ہے اور ان کے ضامن بھی یقیناً موجود ہونگے ان سے ہٹنا اب طالبان کے لئے مشکل ہو گا۔ تمام تنقید کے با وجود بھی امریکی صدر کا اعتماد سے بھرپور انداز میں افغانستان سے انخلا کا دفاع کرنا بھی اس بات کا عکاس ہے کہ تمام اقدامات پلان کے مطابق ہو رہے ہیں۔ طالبان کے خلاف سلامتی کونسل کا اجلاس ایک طرح کی وارننگ ہے کہ طالبان کو پلان کے مطابق چلنا ہو گا ورنہ اب وہ پہاڑوں میں چھپے ہوئے نہیں ہیں وہ شہروں میں سب کے سامنے ہیں جہاں ان پر تیس ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہوا ڈرون اور کسی بھی بحری بیڑے سے داغا گیا میزائل نتیجہ خیز ہو سکتا ہے اور ان کی قیادت کو گاہے بگاہے اس طرح کے جھٹکے دیے جاتے رہیں گے۔

مزید یہ کہ طالبان اب کسی بھی دہشت گرد گروہ کو اخلاقی، مالی یا افرادی امداد نہ دے سکیں گے۔ القاعدہ مسلسل طالبان کے ساتھ بیس سال تک مغربی طاقتوں کے ساتھ لڑا ہے اب قبضے کے بعد وہ چاہے گا کے ان کی پالیسیز کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے لیکن یہ بھی اب طالبان کے لئے لمحہ فکریہ ہو گا اگر وہ القاعدہ کی بات نہیں مانتے تو طالبان کے درمیان پھوٹ بھی پڑ سکتی ہے۔ جو بظاہر اتنی مضبوط تنظیم سازی کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں مگر افغانوں کے مزاج کے عین مطابق ہے۔ اور اگر ان کی جانب سے ہلکا سا اشارہ بھی دیا گیا تو معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی۔

طالبان اور پاکستان

یہ صورت حال زیادہ فلمی اور جاسوسی کہانیوں کے پلاٹ کی ڈیمانڈ کرتی ہے۔ کیونکہ پاکستان پہلے ہی سب سے زیادہ نقصان برداشت کر چکا ہے۔ پاکستان کا امیج اپنی ایک سیاسی اصطلاح سٹرٹیجک ڈیپتھ (stratgic depth) کی وجہ سے اقوام عالم میں زیادہ بہتر نہیں ہے۔ پاکستان کے نیو کلیئر اثاثہ جات کو غیر محفوظ ڈیکلیئر کر نے کے لئے طالبان کو استعمال کیا جا سکتا ہے میرے اس خیال کا خوب مذاق اڑنے والا ہے مگر کیا کیا جائے تاریخ ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں کئی انہونے واقعات ہوئے ہیں۔

سنہ 2001 میں پاکستان نے بھی اپنے ملک کے بہتر مفاد میں طالبان کے خلاف عالمی برادری کا ساتھ دیا تھا اور امریکہ کو ہر طرح کی سہولت بہم پہنچائی تھی۔ حکومتی سطح پر طالبان کی فتح کو جس طرح سیلیبریٹ کیا جا رہا ہے وہ ہمارا عمومی رویہ بھی ہے۔ اکثریت اس کو امریکہ کی شکست اور طالبان (اسلام) کی فتح کے انداز میں دیکھ رہی ہے۔ اگرچہ پاکستانی عوام خود کسی مذہبی جماعت کو ابھی تک اقتدار میں نہیں لائی مگر افغانستان کے لئے جمہوری حکومت کی جگہ طالبان جیسی شدت پسند حکومت ان کے لئے پسندیدہ ہے چاہے وہ گروہ زبردستی حکومت پر قبضہ کر لے مگر ووٹ کے ذریعے طاقت میں نہ آئے۔

اب پاکستانی معاشرے میں طالبان جیسی شدت پسند مذہبی گروہوں کو بھی کافی پذیرائی مل رہی ہے۔ اور آئے دن ایسے کئی واقعات پاکستان میں روز رپورٹ ہو ر ہے ہیں جو کہ پاکستانی معاشرے کے طالبانی رویے کے بہاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ آپ عام سادہ کپڑوں میں ذہین طالبان کو حکومتی سطح پر پسند بھی کریں اور یہ خواہش بھی ذہن میں رکھیں کہ یہ بارڈر کے اس پار ہی رہیں گے۔ پاکستانی طالبانی سوچ، پاکستانی معاشرے میں موجود کسی بھی شخصی آزادی کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہو گی ویسے ہی جیسے وہ افغانستان میں کسی کو بھی اپنی مرضی سے جینے نہیں دیتے۔

پاکستانی معاشرہ عورتوں کی آزادی، بچیوں کی تعلیم، کھیلوں، فنون لطیفہ، لباس، ادب، تعلیم، مذہبی رواداری اور اپنے بودوباش کے ساتھ عام سادہ لباس میں موجود ذہین طالبان کی سوچ اور مذہبی اپروچ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ طالبان پاکستان میں موجود اپنے ہم خیالوں پر بڑی تیزی کے ساتھ اثر انداز ہونے جا رہے ہیں وہ ان کے ساتھ مل کر موجودہ پاکستانی معاشرے کے اس ڈھانچے کو جلد ہی گرا دیں گے جو 1947 سے قائم و دائم ہے اس پر پہلا حملہ بھی افغانستان کی روس کے خلاف جنگ کے دوران ہوا تھا اور شدت پسندی کی اس لہر نے جنم لیا تھا جو اب نکتہ کمال کو پہنچے والی ہے۔

اس صورتحال کا لکھاری بھی امریکہ تھا اور اب بھی صورتحال اس کی مرضی اور منشا کے مطابق ہو گی۔ پاکستانی معاشرے میں رواداری اور برداشت کا انحطاط ایک مخصوص پیٹرن پر مسلسل ہو رہا ہے۔ پاکستان میں معاشرہ اب رواداری سے ہٹ کر دو انتہاؤں پر پہنچ رہا ہے شدت پسندی اپنی ایک انتہائی سطح پر ہے کہ نوجوان ایک مخصوص ذہن سازی کے تحت رنجیت سنگھ کا مجسمہ تک برداشت نہیں کر سکتے اور اس شدت پسندی سے تنگ لوگ ستر ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد اس روش کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔

ان دو انتہاؤں کا ٹکراؤ مستقبل قریب میں ناگزیر ہو چکا ہے۔ ملک میں دہشت گردی کے تازہ واقعات، مذہبی اقلیتوں کے عبادت خانوں پر حملے ملک کو دوبارہ اسی نہج پر لے کر جا رہے ہیں جس پر ستر ہزار جانیں قربان کر کے قابو پایا تھا۔ اب پاکستان کو مشرقی سرحد کے ساتھ ساتھ ڈیورنڈ لائن کی بھی حفاظت کا سوچنا ہو گا۔ پورے پاکستان میں سنجیدہ حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے جو لوگ اس تبدیلی کو عالمی منظر نامے کے ریفرنس کے بغیر دیکھیں گے ان کے لئے اس میں خوشی کا پہلو ہو سکتا ہے ورنہ زمانہ ایک شدید قسم کی کروٹ لے چکا ہے۔

پاکستان پر انڈیا، طالبان کو مسلط کیا جا چکا ہے سی پیک شدید خطرے میں ہے ہم سینٹرل ایشا سے جو فائدے اٹھانا چاہ رہے تھے اس کے لئے ہمیں اب طالبان کی مرضی کا پابند ہونا پڑے گا۔ طالبان سے ہمارے مراسم اب وہ نہیں رہے جو ماضی میں ہوتے تھے اس کی بڑی مثال تحریک طالبان پاکستان کا افغانستان میں متحرک ہونا ہے۔ طالبان اب پورے طور پر سیاسی اور عالمی برادری کے لئے قابل قبول بننے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ ایک عالمی طاقت نے دنیا کے لئے کھیل تیار کر لیا ہے اور دینا کا سب سے زیادہ آبادی والا خطہ اس دفعہ میدان عمل ہو گا۔ دیکھیں مستقبل اپنے اندر کیا کیا نئی کہانیاں لئے ہوئے ہے بقول وسعت اللہ خان دلی تو سات بار اجڑی تھی مگر کابل تو ہر چند سال بعد اجڑ جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
قمر اقبال، رحیم یار خان کی دیگر تحریریں