فلورینس شہر!

اٹلی کے علاقے ٹسکنی کا کیپیٹل فلورینس، سبز پہاڑوں کے پیالے میں بہتے دریائے آرنو کے دونوں کناروں پر آباد ہے۔ آرنو کا پہروں سے وہی رشتہ ہے جو سورج مکھی کا سورج سے، میگ ملہار کا بارش سے اور بانسری کا بانس سے ہے۔ وقت کے دائروں پر رنگ ایسے گردش کرتے ہیں کہ دریا کا پانی کبھی آسمانی نیلا، کبھی اودا، کبھی دھانی، کبھی فیروزی دکھائی دیتا ہے۔

؀ بدلتا ہے رنگ آرنو کیسے کیسے!

حیدر علی آتشؔ کا ضرب المثل مصرع، فلورینس کے ساحلوں پر بار بار ہماری تصحیح کرتا رہا آرنو نہیں آسماں، اور دریا کا پانی بار بار دکھاتا رہا آسماں نہیں آرنو! ( دونوں کسی طور برابر ”وزن“ پر نہیں آئے ) ۔

مختلف ادبی فن پاروں میں فلورینس کے اکثر تذکرے نے کسی قدر اس شہر کی ایک خاص تصویر ہمارے دماغ میں بنا رکھی تھی مگر نہ بنائی ہوتی تو اچھا رہتا۔

ہماری توقعات کے برعکس فلورینس کی گلیاں، پھولوں اور موسیقی دونوں سے خالی تھیں۔

سپر لیٹو درجے کی توقعات جب ”بر عکسیت“ یعنی مخالفت پر اتر آتی ہیں تو یا وہ یاسیت کا باعث بنتی ہیں یا خوشگوار حیرت کا۔

مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ پہاڑ کی چوٹی سے جب ہم نے دھانی دریا کے کنارے آباد فلورینس شہر کی گیروی، کیسری، زعفرانی، عنابی اور دوسرے کئی رنگوں میں رنگی عمارتیں منڈیریں اور گلیاں دیکھیں تو اس نظارے نے یک سر ہماری توقعات کو دماغ کے کسی کباڑ خانے میں پھینک دیا اور ہم اس سندھی رلی نما اطالوی شہر کے اجنبی کوچوں میں ہو لیے۔

فلورینس شہر کو کلاسیکی اور ماڈرن آرٹ کا گڑھ کہا جاتا ہے مگر ہم اس طرف نہیں جائیں گے کس شہر کو کن درجہ بندیوں کے تحت کیا رتبے حاصل ہیں یہ سب مواد کتب خانوں اور انٹر نیٹ پر موجود ہے۔

ہم بات کریں گے ہم نے فلورینس کو اور فلورینس نے ہمیں کیسا پایا۔

پہاڑی ڈھلوانوں سے شہر کو دیکھ کر ہمیں لگا آج ہم قوس قزح کو افق نہیں زمین پر دیکھ رہے ہیں۔ جیسے ہوائی طیارہ بادلوں کے اندر گم ہو جاتا ہے ویسے ہی ہم بھی آڑے ترچھے رستوں پر زمانہ قدیم میں لگائے گئے باغات اور اونچے نیچے ٹیلوں پر تعمیر کردہ رومن قلعوں سے ہوتے ہوئے سترنگے شہر میں گم ہونے کے لیے ایک قصبے کے صدر دروازے پر پہنچے ہی تھے کہ کانوں کو ایک دبی دبی آواز میں مشرقی طرز کی موسیقی کی دھن سنائی دی گویا کوئی ریڈیو براڈ کاسٹنگ چل رہی ہو۔

ہم بنا سوچے صدا کے تعاقب میں چل پڑے۔ یاد رہے ہم ہر گز ایک ”ٹورسٹ“ کے طور پر سفر نہیں کرتے، اس لفظ سے ہمیں ایک چڑ سی ہے۔ سو نہ ہم کوئی سٹی گائیڈ استعمال کرتے ہیں نہ کوئی گوگل میپ پلان فالو کرتے ہیں ہم تو بس حسیاتی رچاؤ کا اہتمام کیے رکھتے ہیں۔ عموماً پانچ حسوں اور بالخصوص چھٹی حس پر ایمان لا کر انہیں کی پیروی کرتے چلے جاتے ہیں۔

اب کی بار قدموں کی سمت کا تعین کانوں نے کیا، خیر سے نگاہوں نے حامی بھری اور دل سے اذن ملتے ہی ہاتھ کانچ کے اس بند کواڑ پر پڑے جس کی ووڈن (wooden) تختی پر اطالوی زبان میں لکھا تھا ’Sheraz Terra dei Poeti‘

اندر داخل ہوتے ہی ایسا لگا منی ایران میں آ گئے ہیں۔
ایرانی قالین، کتب، آبگینے، پینٹنگز، تخت پوش، اور نہ جانے کیا کیا۔

اس قدر خوبصورتی کہ ہم بھول ہی گئے اس گیلری کا کوئی مالک بھی ہے جو اس کے اندر ہی موجود ہے۔ وہ ہماری محویت میں مخل نہ ہوا اس وقت تک جب تک کہ ہم نے دنیا کی بہترین شاعری کی کلیکشن والے میز سے کتاب اٹھانے کو ہاتھ آگے نہیں بڑھایا تھا۔

اس لمحے معذرت بھرے لہجے میں ایک آواز آئی کہ میڈم چیزوں کو چھونے کی اجازت نہیں ہے چہ جائیکہ آپ ہاتھ سینیٹائز کر لیں۔ یہ جملہ ہمیں واپس اسی دنیا میں لے آیا جو ابھی تک وبا زدہ ہے۔

سینٹائزیشن کے بعد بھی میں نے کتب کو ہاتھ نہیں لگایا اور کیلیگرافی کے شاہکار اور دوسری اشیا دیکھتے ہوئے اس لیویٹوری (Lavatory) میں پہنچ گئی جہاں بیل بوٹوں سے سجے چھوٹے سے احاطے میں مصوری کی شاندار نمائش کے ساتھ ساتھ مینیچر آرٹ سے سجے آئینے، کانچ کے ارغوانی پیالے، آبی آسمانی رنگ کی صراحیاں، اور بے شمار نئے پرانے مجسمے پڑے تھے۔

آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی لیویٹوری سے جب ہم واپس گیلری کی اور لوٹے تو شیرازی تاجر نے ہمارے لیے ایرانی قہوے کی پیالی تیار کر کے میز پر رکھی ہوئی تھی۔ ہم نے اس مہمان نوازی کو دعوت گفتگو جان کر بخوشی قبول کیا اور بیٹھ گئے۔

تعارفی کلمات میں ہی یہ واضح ہو گیا کہ ہم دونوں میں مذہب، ذوق شاعری، ایک دوسرے کی زبان و ملک سے واقفیت اور غریب الوطنی کا دکھ سانجھہ ہے۔

اپنی آبائی دھرتی سے جڑے رہنے کے لیے وہ اپنے پیشے کے سہارے ودیش میں دیش لیے بیٹھا تھا۔ یہ جگہ اس کے لیے صرف ایک تجارت گاہ نہیں بلکہ اس کے ذوق مطالعہ بالخصوص شاعری کے ساتھ لگاوٹ کا ایک ٹھوس اظہار ہے۔

اس نے اپنی دکان کا ایک حصہ شاعری اور شاعروں کے نام کر رکھا تھا۔ جس میں دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں کہی گئی بہترین شعری بیاضوں کی ایک لائیبریری تھی اور ایک خوبصورت بیٹھک جو شاعروں کے لیے تیار کی گئی تھی کہ وہ اس کے حسین ”شیراز کدے“ میں شاعری کی محفلیں سجاتے رہیں۔

مجھے اس بیٹھک کا مہمان بن کر بڑا اچھا لگا۔ یہ ناممکنات میں سے ہے کہ شاعری اور شیراز کا تذکرہ ہو اور حافظ شیرازی کی بات نہ ہو۔

صاحب کراں حافظ کے ساتھ اسی انتہائے عشق پر تھے جہاں خسرو خواجہ نظام کے ساتھ تھے۔ ( خسرو کے معاملے میں زیادہ حساس لوگ میری اس مبالغہ آرائی کو تخلیق کار کی من مرضیاں جان کر درگزر کریں ) ۔

چونکہ گفتگو شیرازی پر رہی اور میرے تعارف میں کہیں نہ کہیں جرمنی کا حوالہ بھی موجود تھا تو جرمن شاعر گوئٹے کو بیچ باجار کاسے نہ لایا جاتا۔ معلوم ہوا گوئٹے نے اپنی کتاب ویسٹ اوستلیخر دیوان (West۔ Östlicher Divan) میں کہیں یہ بھی کہا ہے کہ زندگی میں مجھے کبھی کوئی شخص اپنا مد مقابل نہیں لگا اور نہ آئندہ کوئی لگے گا مگر مرتے دم تک میں جس ایک شخص سے ”جیلس“ (Jealous) رہوں گا وہ حافظ شیرازی ہے۔

اب اس بات میں کتنی صداقت ہے یا یہ بات کیسے کہی گئی ہے یہ گوئٹے کا دیوان پڑھ لینے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔

قصہ المختصر صاحب ذوق نے اپنی کلیکشن میں سے ہمیں حافظ کا ایک خاص دیوان دیکھنے کو پیش کیا جس کی اشاعت انتہائی عمدہ اور مشک کی خوشبو سے لبریز اوراق پر ہوئی تھی۔ فرمانے لگے کیا آپ کو معلوم ہے دیوان حافظ سے فال نکالنا پارس کی مقبول ترین روایت ہے۔ ہم زیر لب مسکرا دیے کہ بھیا یہ کام تو ہم انتہائی desperation کے لمحات میں مبادا جون ایلیا کی ”شاید، لیکن، گمان (لا ) یعنی“ سے بھی لے لیتے ہیں مگر مارے تقدس کے ہم کچھ نہ بولے اور کہا جی معلوم ہے۔ آپ ہمارا بھی فال نکال دیجئیے ہم نے آج تک کبھی دیوان حافظ سے فال نہیں نکالی۔

ہائے ہائے! کیا کہیے!

ایسی فال نکلی یوں لگا گویا حافظ نے یہ اشعار چوہدویں صدی میں ہماری آج کی زندگی کے بارے میں ہی کہے ہیں۔

فارسی غزل یہاں ڈال دیتی ہوں۔ جن احباب کو آتی ہے فارسی وہ باقیوں بشمول میرے لیے اس کا اردو ترجمہ کر دیں۔

ھر نکتہ ای کہ گفتم در وصف آن شمائل
ھر کاو شنید گفتا للہ در قائل
تحصیل عشق و رندی آسان نمود اول
آخر بسوخت جانم در کسب این فضائل
حلاج بر سر دار این نکتہ خوش سراید
از شافعی نپرسند امثال این مسائل
گفتم کہ کی ببخشی بر جان ناتوانم
گفت آن زمان کہ نبود جان در میانہ حائل
دل دادہ ام بہ یاری شوخی کشی نگاری
مرضیہ السجایا محمودہ الخصائل
در عین گوشہ گیری بودم چو چشم مستت
و اکنون شدم بہ مستان چون ابروی تو مائل
از آب دیدہ صد رہ طوفان نوح دیدم
وز لوح سینہ ی نقشت ہرگز نگشت زائل
ای دوست دست حافظ تعویذ چشم زخم است
یا رب ببینم آن را در گردنت حمائل

اور بھی کئی باتیں ہوئیں تذکرہ ایک آخری بات کا، کہنے لگے گوئٹے کا فرمان ہے کہ ہر شخص کو ہر دن کم از کم چار کام ضرور کرنے چاہیے، کہ وہ عمدہ موسیقی کی دھن یا گیت سنے، ایک اچھی نظم/غزل پڑھے، مصوری کا ایک خوبصورت پیکر دیکھے اور دانائی کی چند باتیں کہے!

بات فلورینس کی ہو رہی تھی نکل ایران و المان کی طرف گئی۔

شیرازی تاجر کے لائیبریری کیفے سے نکل کر ہم دریائے آرنو کی جانب اتر گئے جس کا تفصیلی تزکرہ ”فلورینس شہر“ کے بقیہ حصے میں کیا جائے گا۔

Latest posts by کومل راجہ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words