کیا آپ کامریڈ عمر لطیف کو جانتے ہیں؟

آئیں میں آپ کو اپنی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ سنائوں۔ مجھے ٹورانٹو کے ایک سیمینار میں ایک دانشور دوست کہنے لگے میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں اور مجھے علیحدگی میں لے جا کر مسکراتے ہوئے کہنے لگے

آپ 1952 میں پیدا ہوئے

میں بھی 1952 میں پیدا ہوا

آپ جولائی کے مہینے میں پیدا ہوئے

میں بھی جولائی کے مہینے میں پیدا ہوا

آپ جولائی کی  9 تاریخ کو پیدا ہوئے

میں بھی جولائی کی 9 تاریخ کو پیدا ہوا

آپ پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئے

میں بھی پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوا

اب آپ کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں رہتے ہیں

میں بھی کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں رہتا ہوں

میں نے مسکراتے ہوئے کہا ‘پھر تو ہم جڑواں بھائی ہوئے،

پھر انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا

‘لیکن آپ نے زندگی میں بہت کچھ کر لیا اور میں نے کچھ بھی نہیں کیا،

 میں نے کہا ‘عمر لطیف صاحب آپ کسرِ نفسی سے کام لے رہے ہیں۔ آپ عاجزی و انکسار سے کام لے رہے ہیں۔ آپ کینیڈا کی کمیونسٹ پارٹی کے ممبر ہیں۔ آپ ایک فعال سیاسی کارکن ہیں۔ سینکڑوں ہزاروں لوگ آپ کی عزت کرتے ہیں۔ آپ کا احترام کرتے ہیں۔ ساری دنیا میں آپ کے چاہنے والے پھیلے ہوئے ہیں۔

عمر لطیف سے ادبی اور سیاسی محفلوں میں ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ ایک دن ان کا فون آیا۔ فرمانے لگے

‘چند ترقی پسند اور کمیونسٹ دوستوں کی خواہش ہے کہ اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کی اہم نگارشات کا انگریزی میں ترجمہ چھاپا جائے۔ ہم چاہتے ہیں آپ اس سلسلے میں ہماری مدد کریں،

میں نے کہا ‘عزت افزائی کا شکریہ۔ آپ جانتے ہیں کہ میں کمیونسٹ پارٹی کا ممبر نہیں ہوں۔ میں ایک ہیومنسٹ ہوں۔ اس شہر میں بہت سے ترقی پسند ادیب اور کمیونسٹ دانشور موجود ہیں آپ نے اس سلسلے میں میرا انتخاب کیوں کیا؟،

عمر لطیف مسکرائے اورکہنے لگے۔ ۔ ۔ آپ اس کام کے لیے سب سے موزوں انسان ہیں۔ آپ ادیبوں سے وہ مضامین لکھوا لیں گے جو ہم نہیں لکھوا سکیں گے۔

چنانچہ میں نے ذمہ داری قبول کی کہ عمر لطیف عباس سید اور میں مل کر ترقی پسند ادب کی انگریزی میں اینتھالوجی پہلے تیار کریں گے اور پھر چھاپیں گے۔

میں نے اشفاق حسین سے درخواست کی کہ وہ سبطِ حسن کے بارے میں ایک مقالہ لکھیں۔ اسی طرح میں نے ضیا الدین سے درخواست کی کہ وہ اپنے انکل احمد علی کے بارے میں مضمون لکھیں اور اپنے ماہرِ نفسیات دوست علی ہاشمی سے کہا کہ وہ اپنے نانا فیض احمد فیض کے بارے میں مقالہ لکھیں تینوں ادیبوں نے میرا مشورہ مانا اور مقالے تیار کیے۔

عمر لطیف کے ساتھ اس پروجیکٹ کے حوالے سے ملاقاتیں بھی ہوئیں اور فون پر باتیں بھی ہوئیں۔ ہم اکثر باتوں پر متفق تھے۔ صرف ایک بات پر اختلاف تھا۔

میں نے ایک مضمون سعادت حسن منٹو پر لکھا تھا۔ میں اسےکتاب میں شامل کرنا چاہتا تھا لیکن عمر لطیف اس کے حق میں نہ تھے کیونکہ اس مضمون میں ترقی پسند تحریک پر اعتراض کیا گیا تھا کہ تحریک نے سعادت حسن منٹو پر سخت تنقید کی تھی۔

میں نے اپنے مشترکہ دوست اور کتاب کے تیسرے ایڈیٹر عباس سید سے بات کی ۔ آخر کار عمر لطیف مان گئے اور ہم نے مل کر بڑے اہتمام سے وہ کتاب چھاپی۔ اس کتاب میں جہاں منشی پریم چند کے 1936کی پہلی ترقی پسند تحریک کی کانفرنس کے خطاب کا ترجمہ شامل تھا وہیں سجاد ظہیر، حسرت موہانی، رابندر ناتھ ٹیگور، ملک راج آنند، فیض احمد فیض اور اختر حسین جعفری کے بارے میں تراجم اور مقالے بھی شامل تھے۔

عمر لطیف کے ساتھ کام کرنا مجھے بہت اچھا لگا۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ جذباتیت سے بالا تر ہو کر نظریاتی اتفاق و اختلاف کرتے تھے۔

عمر لطیف نجانے کتنے برسوں سے ٹورانٹو کی تمام ادبی اور سیاسی تقریبات میں ایک سٹال لگاتے تھے جس میں وہ کمیونزم کے حوالے سے لٹریچر تقسیم کرتے تھے۔ وہ ایک کمٹڈ کمیونسٹ تھے۔

میں نے ان کے گھر میں بھی کئی محفلوں میں شرکت کی۔ جب بھی کوئی بائیں بازو کا ادیب شاعر یا دانشور کینیڈا آتا تو وہ اس دانشور کے ساتھ اپنے گھر مین ایک ڈنر اور ڈائیلاگ کا اہتمام کرتے اور جن چند دوستوں کو بلاتے ان میں میں بھی شامل ہوتا۔

میری نگاہ میں کینیڈا کی بائیں بازو کی تحریک میں عمر لطیف کا ایک اہم نام اورمقام تھا۔ وہ ایک کمیونسٹ تھے اور میں ایک ہیومنسٹ ہوں اور ہم اپنے نظریاتی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے تھے۔ یہی ہماری دیرپا دوستی کی بنیاد تھی۔ ہم دونوں انسانی حقوق کے حامی تھے اور ایک منصفانہ معاشرے کا خواب دیکھتے تھے۔ ہمارے راستے جدا لیکن منزل ایک ہی تھی۔ وہ لامذہب ہونے کے باوجود ایسے ایماندار اور باوفا انسان تھے جن کے بارے میں غالب فرماتے ہیں

 وفاداری بشرطِ استواری اصل ایمان ہے

عمر لطیف چند روز قبل فوت ہو گئے لیکن وہ بہت سے دوستوں کامریڈوں اور پرستاروں کے دلوں میں ایک طویل عرصے تک زندہ رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words