تعلیم، مذہب اور ہراسانی کا قومی فریضہ

ایک عرصہ ہوا کسی عورت کے متعلق کوئی اچھی خبر سنے ہوئے۔ ایسی خبر جو قوم کے لئے باعث فخر ثابت ہوئی ہو۔ ایک کے بعد ایک واقعہ اب روزمرہ کی بنیاد پہ سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہوتا ہے۔ اب تو ہم ایک قوم کے بجائے ایک ایسا ہجوم بنتے جا رہے جس کے لئے ہر واقعہ، ہر جرم اور ہر گناہ محض محظوظ ہونے کے لئے ایک تماشے یا ایک کھیل سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

گو کہ میری تربیت میں میری اماں کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور انہوں نے میری تربیت پدر شاہی کی خطوط پر ہرگز نہیں کی اس کے باوجود میں نے جب جب ایسے موضوع پر کچھ تحریر کرنے کی سعی باندھی تو بحیثیت ایک مرد کے اپنا دامن بھی اسی گرد میں آلودہ پایا جو کہ باقی تماش بینوں کے دامن سے اٹی تھی۔ سچ ہے کہ کبھی ہمت ہی نہیں جٹا پایا۔ پر آخر میں بھی بیٹیوں کا باپ ہوں اور کچھ خدشات ان کی حفاظت اور آزاد فضا میں سانس لینے کے متعلق بہرحال اب لاحق ہونے لگے ہیں۔

لکھنے والوں نے تحاریر کا ایک انبوہ گراں کاغذوں کے سینے پہ لاد دیا اور ڈیجیٹل اسکرینوں پر مل دیا۔ جبکہ پڑھنے والے نے بھی کبھی چشم نم تو کبھی دل سوزی کے ساتھ عش عش کر کے تو کبھی دبی سسکیوں کے ساتھ ہر تحریر کی قرات کا حق ادا کرنے کے بعد بالآخر اپنی بے بسی کے ساتھ آنکھیں موند لیں۔ پر حیوانیت کا باب ہے کہ ختم ہی نہیں ہو رہا۔ اور ہر آنے والی صبح ایک اور سفاکیت کی نوید دیتے ہوئے طلوع ہوتی ہے۔

لکھنے والوں نے سب کچھ لکھ ڈالا، انسانی اعمال کی حسی پڑتال سے لے کر تمام بیرونی ممکنہ اسباب کو دائرہ تحقیق و تجزیہ میں لایا گیا پر سب لاحاصل اور بے نتیجہ۔ اس کی جو وجہ میرا کمزور ذہن سمجھ پایا وہ موثر اور مربوط عملی اقدامات ہیں۔ جس کے موثر مراکز چار (4) بنتے ہیں۔ نمبر 1۔ ہم نصاب میں کیا پڑھا رہے ہیں اور اگر ایسا کچھ پڑھا رہے ہیں تو پڑھانے والے کا اپنا ذہنی رجحان اور تربیت کن خطوط پر ہوئی ہے۔ نمبر 2۔ ہمارے منبروں سے اس متعلق کیا گفتگو عوام میں منتقل ہو رہی ہے۔ نمبر 3۔ حاکم وقت اور مقتدر حلقے اس بارے میں کس سوچ اور منصوبہ بندی کے تحت میدان عمل میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ نمبر 4۔ والدین کا اپنی اولاد کی تربیت میں صنفی امتیاز کا رویہ۔

ہم نصاب میں کیا پڑھا رہے ہیں اور اس کو کس سوچ کے حامل افراد پڑھا رہے ہیں یہ ایک ایسا میدان ہے جو کبھی بھی ہماری ترجیح نہیں رہا۔ سندھی کی ایک کہاوت کا مفہوم ہے کہ ”نہیں“ کی نوں (9) دیواریں ہوتی ہیں اور ہر دیوار کی نوں (9) پرتیں۔ اس لئے ایک بات کے سو (100) بہانے بن جاتے ہیں۔ ہمارا تعلیم کی طرف رویہ بھی جن بہانوں کے سہارے کھڑا ہے اس کو ”نہیں“ کی دیواریں گھیرے ہوئے ہیں۔ اور ہر بامقصد بات یہیں آ کے مر جاتی ہے کہ یہ بھی نہیں پڑھانا وہ بھی مناسب نہیں اور اس کی تو ضرورت ہی نہیں۔

حد یہ کہ تین سال کی پر مغز تگ و دو کے بعد ایک نصاب سامنے آیا جو قومی نصاب تو کہلایا مگر اس نے ہمارے سماجی تنوع کو موت کے گھاٹ اتارنے کا پورا بندوبست کر رکھا ہے جس سے ہماری کثیر قومی معاشرت بجائے یک جان ہونے کے مزید اضطراب کا باعث بنے گی اور اپنا وجود باقی رکھنے کے لئے گروہ در گروہ بٹتی چلی جائے گی۔ آخر یہ بات ہم کب سمجھیں گے معاشرتی تنوع باہمی احترام اور رواداری کی فضا قائم کرنے سے یک جان ہوتا ہے نا کہ اس کا انفرادی تشخص ختم کرنے یا چھین لینے سے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے جن خطوط پہ ہماری اکثریت کی ذہنی تربیت ہوئی ہے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ اب حاکم اور اسکول کے استاد سے بھی زیادہ محلے کی مسجد کے مولوی صاحب سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ اتنے متاثر کہ اکثر و بیشتر اپنے ماں باپ کی تربیت بھی اس سے مغلوب نظر آتی ہے۔ آپ لاکھ دلائل دیں پر کرنا وہی ہے جو مولوی صاحب کہتے ہیں۔

اس امر میں ریاست نے کبھی ان موثر اور قدرے طاقتور مولوی صاحبان کی زبان بندی نہیں کی جو برسر منبر عورت کے بارے ایسے ایسے مغلظات کی قے کرتے پائے جاتے ہیں جو شاید کوئی حیادار سر بازار بھی زبان پر لانے کی جرات نہ کرے۔ مگر ان کی جرات کا کیا کہنا کہ انہی مغلظات کو دیدہ دلیری سے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دیتے ہیں تاکہ باقی ماندہ مغلظات کی قے ان کے پیروکار کمنٹ باکس میں آ کے کریں۔ اہم بات یہ کہ ان تمام مغلظات کا دینی تعلیمات اور ان تعلیمات کی روح سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

تکلیف دہ بات تو یہ بھی ہے کہ عورت کے ساتھ امتیازی سلوک کی ابتدا گھر سے ہی ہوتی ہے۔ یہاں والدین کا کردار کلیدی ہے۔ عورت کے متعلق ان کی اولاد کا رویہ ان کے اپنے رویے کا عکاس ہوتا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں بھی ہو تو بھی یہ ان چوکسی کا فقدان ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کا اپنا بیٹا گھر اور باہر کی عورتوں کی عزت نہیں کرتا۔

اس امر میں یہ بات بھی مشاہدے میں رہی ہے کہ ایک عورت کے استحصال میں ہاتھ چاہے مرد کا ہو پر منصوبہ بندی اکثر و بیشتر ایک عورت کی ہوتی ہے۔ جو کہ ایک ماں، بہن یا بیوی کی صورت میں مرد کو ایموشنل بلیک میل کر کے ایک دوسری عورت کا جینا اجیرن بنا دیتی ہیں۔

پر بات تو یہ ہے کہ آخر مرد ان باتوں سے بلیک میل ہوتا کیوں ہے۔ اس کی وجہ ہے مرد میں معنوی مردانگی کا فقدان۔ وہ مردانگی جو ایک مرد کو اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہونے دیتی اور اس کے رویے میں اپنی گرد موجود خواتین کے حقوق کے متعلق اعتدال سے پیش آنے تمام خصوصیات کو پروان چڑھاتی ہے۔

مندرجہ بالا کاروبار حیات کی نوک پلک ٹھیک کرنے کی ذمہ داری ریاست پہ آتی ہے۔ یہ ریاست کا کام ہے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے۔ اور تعلیم و تربیت کے ذریعے وہ شعور و آگہی پیدا کرے کہ جہاں عورت کو جنس کے بجائے انسان مانا جائے۔ پر جہاں حاکم ہی صنفی حساسیت کے فہم و ادراک سے نا بلد ہو وہاں کسی بھی قسم کے مضبوط، موثر اور مربوط عملی اقدامات کی امید لگانا بذات خود ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔

اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ جہاں کتابیں معاشرتی تنوع اور اعتدال کا وجود خاکستر کرنے کو آمادہ بیٹھی ہوں، منبروں سے گوشت نوچنے کی ترغیب دی جا رہی ہو۔ جبکہ ملک کا وزیراعظم مردوں کی درندگی کے بجائے عورتوں کے لباس پہ نظریں جمائے ہوئے ہو۔ وہاں عورت گھر، گلی، محلہ تو کیا کفن میں لپٹی اور منوں مٹی تلے دبی کیسے محفوظ رہ سکتی ہے۔

یقیناً ایسے حالت میں زہر آلود ذہن ہر قسم کی ہراسانی کو قومی فریضہ نہیں سمجھیں گے تو اور کیا سمجھیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words