ذہنی صحت اور موت کا جشن منانے والے

گزشتہ روز میرے پڑوس میں ایک نوجوان نے زندگی سے تنگ آ کر موت کو گلے لگا لیا۔ یہ خبر میرے لئے کافی صدمے کا باعث تھی اور رہے گی مگر سب سے زیادہ تکلیف دہ میرے لیے اردگرد موجود لوگوں کا رویہ تھا۔ ہر آنے جانے والا موت پہ افسوس کم، اس نوجوان کے خودکشی کرنے کی وجہ کو لے کر زیادہ متجسس تھا۔ مجھے نہیں معلوم وہ کون سی محرکات تھیں جس نے اس باہمت شخص کو توڑ دیا، وہ نوجوان جس نے کم عمری میں اپنے والد کی وفات کے بعد سارے گھر کا انتظام سنبھالا۔

پتہ نہیں کیوں وہ خود کو مزید سنبھال نہ سکا۔ میں جب سنتی ہوں کہ کسی انسان نے حالات سے ہار کر اپنی قیمتی زندگی کھودی تو یقین مانیں میرا دل خون کے آنسوں روتا ہے، کیوں ہم کسی انسان کے زندہ رہتے ہوئے اس سے یہ نہیں پوچھتے کہ وہ اس کی زندگی کیسی گزر رہی ہے، کیوں ہم ایک انسان کے مرنے کے بعد ہی اس کی اہمیت سمجھتے ہیں؟

اس دور جدید نے انسان کو اس قدر خودغرض بنا دیا ہے کہ ایک دوسرے کے پاس مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ بانٹنے کا وقت نہیں، چلتے پھرتے یا ایک میسج پہ پوچھ لیتے ہیں ”

How are you؟ ”
لیکن ان الفاظ کی اب وقعت نہیں رہی کیونکہ ہم درحقیقت کسی کا حال جاننا نہیں چاہتے۔

یقین مانیں اگر کسی کی زندگی میں آپ اس کا ساتھ نہیں دے سکتے تو مرنے کے بعد مت دنیاوی دکھاوے کے لئے اس کو کندھا دیں۔

”Mental Health“ یہ وہ الفاظ ہیں جن سے ہم واقف نہیں اور اگر واقف بھی ہیں تو صرف الفاظ کی حد تک، ان کا اصل مطلب سمجھنے کے لئے آپ کا حقیقی انسان ہونا ضروری ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے۔ ہمارے ہاں اگر کوئی کہہ دے کہ وہ کسی نفسیاتی دباؤ یا پریشانی کا شکار ہے تو لوگ اس کو کہتے ہیں بھئی نماز پڑھو، قرآن پڑھو، دین سے دوری کا نتیجہ ہے یہ سب۔ ہر مسئلہ دین سے دوری پہ شروع ہو کر وہیں ختم ہوتا ہے مگر مزاح کن بات یہ ہے کہ دین پہ بات کرنے والے خود دین سے واقف تک نہیں، بس جہاں اپنی غلط بات کو ٹھیک بنا کر پیش کرنا ہو اپنے حساب سے اٹھا لیتے ہیں مواد۔ ذہنی تناؤ کا شکار انسان ایسی باتیں سن کہ اور دکھ کا شکار ہوتا ہے، مذہب سے دوری بالکل اچھی بات نہیں مگر ہمارا مذہب اسلام ہے جو ہمیں دشمن سے بھی انسانیت سے پیش آنے کا حکم دیتا ہے اس لئے کبھی کسی کی مذہب سے دوری کو اس کے مسائل کی وجہ بتا کر اس کی تضحیک نہ کریں۔ مجھے لگتا ہے

”Mental health“ کو شامل نصاب ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ کس قدر اہم۔ معاملہ ہے یہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ

کہ پانچ ماہ پہلے ذہنی دباؤ کی وجہ سے جب میں نے اپنی نوکری چھوڑی تھی تو سب سے پہلا سوال یہ تھا ”تم اب گھر پہ رہو گی فارغ“ ،

دوسرا سوال تھا ”تمھیں بہت مسئلے ہیں، تمھارے جیسی لڑکی نوکری کر ہی نہیں سکتی ایک جگہ پہ“ لیکن کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ کیوں نوکری چھوڑی، کوئی پریشانی ہے تو ہمیں بتاؤ۔ ہماری زبان کی کاٹ اتنی تیز ہو چکی ہے کہ ہم اکثر انسانیت کے درجے سے نیچے گر جاتے ہیں۔ پیسہ کمانے، مقابلہ بازی کرنے اور ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کے چکر میں ہم کتنی ہی زندگیاں برباد کر دیتے ہیں۔ خوف خدا ہمارے دلوں سے ختم ہو چکا ہے۔ مگر میرا ایک سوال ہے ”کیا آپ اور یہ دنیا ہمیشہ رہے گی؟

“ سوچئے گا ضرور جب آپ اس خدا کے حضور پیش ہوں گے تو کیا آل کے اہل و اعیال یا آپ کا مال و اسباب آپ کو بچائے گا؟ اگر ہاں تو پھر آپ اپنا کام جاری رکھیں اور اگر اس کا جواب ہے نہ تو اپنے آپ کو حقوق العباد سے باور کروائیں۔ اردگرد دیکھیں اگر کوئی مشکل کا شکار ہے تو اس کی مدد کریں ضروری نہیں مالی مدد مگر اپنی موجودگی اور اپنی باتوں سے ہمت بندھائیں، دوسروں کی بے بسی کا فائدہ نہ اٹھائیں۔ ایک اچھے سامع بنیں اگر کوئی اپنا درد آل سے بانٹے تو اس کی مشکلات کا موازنہ نہ شروع کر دیں اپنے مسائل سے۔

کچھ دوسروں کی سنیں اور کچھ اپنی سنائیں۔ اگر کسی کی خوشی کا سبب نہیں بن سکتے تو ان کے دکھوں میں اضافہ نہ کریں۔ آپ نہیں جانتے ہر انسان اپنے اندر اور باہر ایک لڑائی لڑ رہا ہے آج کل اس لیے ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ ایک دوسرے کو وقت دیں کیونکہ زندہ انسان کو آپ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ نفرت، بغض میں کچھ نہیں رکھا، ایک دوسرے کو سمجھنے اور جاننے میں ہی اصل زندگی ہے۔ اپنے، دوستوں، محلے داروں، اہل و اعیال، بچوں، کام کرنے والے ساتھیوں کو غور سے دیکھا کریں، کسی کی زیادہ دیر خاموشی کو سکون نہیں بلکہ ایک کرب سمجھیں۔ ایک دوسرے کو اعتماد دیں کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں، پچھتاوے سے اچھا ہے ساتھ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words