64 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ایک ملک کی کہانی


یہ کہانی ایک ایسے ملک کی ہے جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں ملک ہے، 2020 میں اس کی آبادی بائیس کروڑ نواسی لاکھ بانوے ہزار تین سو چالیس ( 220,892,340 ) تھی، یہ دنیا کی آبادی کا 2.83 فیصد حصہ ہے، اس میں 64 فیصد نوجوانوں کی تعداد چودہ کروڑ تیرہ لاکھ اکہتر ہزار اٹھانوے ( 141,371,098 ) بنتی ہے۔

یہ ملک نوجوانوں کی اس قدر کثیر افرادی قوت کے باوجود ترقی کی راہوں میں ڈگمگا جاتا ہے، آئے روز کوئی نہ کوئی ہنگامہ برپا ہوتا ہے، مگر مجال ہے کہ اس ملک کی عہدے دار، ذمہ دار، سیاسی و سماجی شخصیات کے کان پر جوں تک بھی رینگے۔ باوجود یہ کہ صاحب حل و عقد جانتے ہیں کہ نوجوان طبقہ معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے، اقوام کی کامیابی میں اس کا کلیدی کردار ہے، اگر نوجوانوں کے بنیادی مسائل، حقوق و ضروریات کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ اقوام کی تنزلی کا سبب بھی بنتے ہیں۔

حکومتوں کی بنیادیں گاڑھنے میں نوجوان طبقے کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی، انہیں اپنے مقاصد میں ایک آلہ کار کی سی حیثیت سے استعمال کیا جاتا ہے، اور پھر حکومتوں کے قیام کے بعد انہیں پوچھا تک نہیں جاتا، ان سے اس قدر غفلت برتی جاتی ہے کہ اضافی تو درکنار انہیں ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھنے کی ہر ممکن سعی کی جاتی ہے۔ جس کی بدولت کچھ ایسے اعداد و شمار ہمارے سامنے آئے ہیں جو انتہائی پریشان کن ہیں۔

خواندگی و ناخواندگی کے اعتبار سے 100 میں سے 29 نوجوان ناخواندہ ہیں، ناخواندہ یعنی جنہوں نے سرے سے تعلیم ہی حاصل نہیں کی، انہیں اپنا نام تک لکھنا یا پڑھنا نہیں آتا، جبکہ ہر 100 میں صرف 6 نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے 12 سال سے زائد تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور 100 میں سے بقیہ 65 نوجوان 12 سالہ تعلیمی سطح سے نیچے ہیں۔

روزگار و معاش کے اعتبار سے 100 میں سے 39 ملازم ہیں، ان 39 میں سے 7 خواتین، جب کہ 32 مرد ہیں۔ پھر ان 100 میں سے 57 نوجوان جن میں 41 خواتین اور 16 مرد ایسے ہیں جو نوکری کر رہے ہیں اور نا ہی نوکری کی تلاش میں ہیں، صرف 4 فیصد بے روزگار نوجوان ملازمت کی تلاش میں ہیں۔

15 فیصد نوجوانوں کو نیٹ تک رسائی حاصل ہے، 52 فیصد اپنا سیل فون رکھتے ہیں، 94 فیصد لائبریری کی سہولت سے محروم جبکہ 93 فیصد کو کھیل کے میدان میسر نہیں۔

ان اعداد و شمار کے پیش نظر نوجوانوں کو درپیش مسائل میں تعلیم صف اول کا درجہ رکھتی ہے، تعلیم نوجوانوں کا بنیادی حق ہے، جس سے انہیں محروم رکھنا کسی معاشرے کو زیب نہیں دیتا، اگرچہ نوجوانوں کی ایک تعداد علمی شوق سے محروم ہے، مگر اس کے علاوہ نوجوانوں کی کثیر تعداد علمی ذوق سے مزین ہیں، مگر ان کے حصول تعلیم میں آڑے آنے والے دیگر اسباب کے علاوہ دو قوی سبب زبان اور دام ہیں۔

انہیں تعلیم اپنی آشنا زبان میں میسر نہیں، نتیجتاً بہت سے نوجوان اعلی علوم و فنون میں ڈگریاں کر لینے کے باوجود بھی ملک و ملت کے لیے کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ کچھ نوجوان ایسے ہیں جو تعلیم کی قیمت ادا نہیں کر سکتے، سائنس کے علاوہ آرٹس مضامین کی فیسیں بھی آسمانوں کو چھوتی ہیں۔ نوجوانوں کے تعلیمی مسائل کے حل کی خاطر ماہانہ، ششماہی اور سالانہ بھاری فیسیں وصول کرنے والے اداروں کو لگام دینا اور غیر ملکی زبان کو ضرورت کی حد تک محدود رکھنا ناگزیر ہے، تاکہ اس ملک کے کسی بھی خطے میں مقیم، کسی بھی طبقے سے متعلق نوجوان علم سے محروم نہ رہیں۔

نوجوانوں کا دوسرا بنیادی مسئلہ ان کا ذریعہ معاش ہے، اعداد و شمار کے مطابق 100 میں سے 57 بے روز گار نوجوانوں میں سے صرف 4 روزگار کی تلاش میں ہیں، وہ ملک سے ہجرت کرنے کے کسی بھی موقع کی تاک میں بیٹھے ہیں، ہمارے ہم نام سینئر سیاسی رہنما کے بقول ”گزشتہ تین برس کے دوران جس قدر تیزی سے پڑھے لکھے نوجوان بیرون ممالک ہجرت کر رہے ہیں وہ انتہائی خوفناک ہے، اور تاریخ کے سب سے بڑے Brain Drain کا سبب بن سکتا ہے“ ۔

اس ملک کی موجودہ حکومت نے نوجوانوں پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا تھا، یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان اس سے متاثر ہوئے، وہ آج بھی معاش کے اسباب میں حکومت وقت کے منتظر ہیں، انہیں ملازمتوں میں ہونے والے خرد برد پر بھی تشویش ہے۔ وہ ان ایک کروڑ نوکریوں کے بھی شدت سے منتظر ہیں جس کا وعدہ بڑی شد و مد سے کیا گیا تھا۔ نوجوانوں کے اس مسئلہ پر بھی سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے، جس کا ایک حل یہ بھی ہے کہ اداروں میں موجود بزرگوں کی ریٹائر منٹ کی مدت پر غور کیا جائے، تاکہ اس ملک کی نوجوان نسل کو زیادہ سے زیادہ مواقع میسر ہوں۔

تیسرا مسئلہ سماجی مصروفیات کی عدم دستیابی ہے، شہروں میں پھر کوئی ایک آدھ لائبریری، کھیل کا میدان کہیں نا کہیں نظر آ ہی جاتا ہے، مگر نواحی علاقوں میں کتب خانے اور کھیلوں کے میدان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے، جو نواحی علاقوں سے برتے جانے والے امتیازی سلوک کی واضح علامت ہے۔ ہر ضلع کی سطح پر کھیل کے میدان، لائبریریوں کے قیام سے اس مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے، تاکہ شہروں کے علاوہ دیہاتوں کے نوجوان بھی ملک و ملت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

علامہ اقبالؒ نے کہا تھا:
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

مگر جب نوجوان تعلیم سے کوسوں دور ہوں، انہیں معاش کے ذرائع اور مفید سماجی مصروفیات تک رسائی ممکن نہ تو ان معاشروں میں نوجوانوں کی عقابی روح کی بیداری عنقاء ہو جاتی ہے۔ اور نتیجتاً کچھ ایسے احوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کسی معاشرے کو زیب نہیں دیتے۔

اب یہ مت پوچھیے گا کہ اس ملک کا نام کیا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words