سیاحت کے فروغ میں پاکستانی فوٹوگرافرز کا کردار

محترم وزیراعظم صاحب سیر و سیاحت کے فروغ کی کوششوں میں پاکستانی فوٹوگرافرز ایک ہراول دستے کا کام کر سکتے ہیں اگر ان کے لئے کچھ آسانیاں کردی جائیں۔

صوبائی سطح پر اور وفاقی سطح پر فوٹوگرافرز کو رجسٹر کیا جائے۔ اس سلسلے میں ان کو باقاعدہ دستاویزی کارڈ جاری کیے جائیں۔ جو کہ ان کے کام میں آسانی پیدا کریں۔ جو رجسٹرڈ فوٹوگرافرز کی فہرستیں ہیں وہ تمام سیکورٹی اداروں کو مہیا کی جائیں۔ اس اقدام سے ایک تو سیر و سیاحت کو بہت فروغ ملے گا، اور مثبت پاکستان کا چہرہ بھی دنیا کو دکھایا جاسکے گا۔

جو ادارہ فوٹوگرافرز کو رجسٹرڈ کرے وہ ان کے کام کی سالانہ نمائشوں کا اہتمام کرے اور اس کو پاکستان کے سب بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک میں ہمارے سفارتخانوں میں بھی نمائش کے لئے پیش کیا جائے۔ تاکہ دنیا ہمارے، پہاڑ، دریا، جھیلیں، سمندر، صحرا، کھیل، ورثہ سب سے روشناس ہو سکیں۔ رجسٹرڈ فوٹوگرافرز کو پابند کیا جاسکتا ہے کہ وہ سالانہ پانچ عدد تصاویر ادارے کو مہیا کرے گا جو کہ نمائش میں کام آ سکیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ فوٹوگرافی پر مشتمل کتب، پوسٹ کارڈ اور پوسٹر بھی پرنٹ کیے جائیں۔

اس طرح سے باقاعدہ ایک صنعت کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، نمائش میں فروخت ہونے والی تصاویر میں سے فوٹوگرافر کو بھی حصہ دیا جائے تاکہ اس کام کی مزید ترویج ممکن ہو سکے۔ اس سلسلے میں مختلف سووینئرز بھی بنائے جائیں جیسا کہ چائے کے کپ، ماوس پیڈ، شرٹس، ٹوپیاں، ٹی کوسٹر، بیگز، کشن اور بہت کچھ۔ تاکہ جو سیاح پاکستان آئیں وہ واپسی پر تحائف کی صورت میں یہ اشیاء اپنے ممالک لے جا سکیں۔ بے شک ایک تصویر ایک ہزار لفظ بولتی ہے۔ یہ تصویریں ساری دنیا میں ہماری سفارتکار بن جائیں گی۔

سوشل میڈیا کا دور ہے۔ تمام فوٹوگرافرز مختلف پلیٹ فارمز پر تصاویر اپلوڈ کرتے ہیں جو کہ ہماری سیر و سیاحت کے ساتھ ساتھ پاکستان کا مثبت چہرہ بھی دنیا کو دکھائیں گی۔

جہاں بہت سے اقدامات آپ کی حکومت سیر و سیاحت کی ترقی کے لئے اٹھا رہی ہے کچھ نظر کرم اس طرف بھی کیجئے۔ پاکستان میں ہر جگہ فوٹوگرافی پر پابندی عائد ہوتی جا رہی ہے۔ ہر جگہ اجازت کا بندوبست کرنا ہر فوٹوگرافر کے بس کی بات نہیں۔ جس کی وجہ سے بہت سی قیمتی تصاویر بننے سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ تمام اداروں کو اکٹھا کیا جائے اور لائحہ عمل طے کیا جائے، وقت بدل چکا ہے گوگل ارتھ پر تمام جگہوں کی رسائی ممکن ہے پر ہمارے اکثر مقامات پر کئی دہائیاں پرانی تختیاں نصب ہیں یہاں تصویر بنانا منع ہے۔

اس سلسلے میں سینئر فوٹوگرافرز ورکشاپس کروائیں جو تصاویر بنانے کے ساتھ ساتھ فوٹوگرافی کی اخلاقیات اور قواعد و ضوابط بارے بھی آگاہ کریں کہ کون سی تصاویر ہمارے ملک کے لئے بہتر ہیں اور کون سی نقصان دہ ہیں۔ تاکہ ہر فوٹوگرافر کو اپنی حدود کا اندازہ ہو اور وہ ان میں رہ کر کام کریں۔ ابھی فوٹوگرافرز ڈیجیٹل کیمرہ، موبائل کیمرہ اور ڈرون کیمرہ کے ذریعے فوٹوگرافی اور ویڈیوز کرتے ہیں آپ ان کی مختلف کیٹیگری بنا دیں اور اجازت والے علاقوں کی فہرست جاری کردیں۔ امید واثق ہے کہ فوٹوگرافرز بھی واضح کردہ حدود کراس کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

اگر اس سلسلے میں گورنمنٹ آف پاکستان فوٹوگرافرز کی مدد کرے تو بہت مثبت پاکستان ابھر کر سامنے آ سکتا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے فوٹو گرافر کو سزا کے طور پر کچھ عرصے کے لئے بین بھی کیا جاسکتا ہے اور اس کی باہمی صلاح مشورے سے سزا بھی تجویز کی جا سکتی ہے۔ فوٹوگرافرز بہت دور دور سے سفر کر کے جب منزل پر پہنچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے یہاں فوٹوگرافی کرنے کی اجازت نہیں ہے، اب تو بادشاہی مسجد لاہور، لاہور قلعہ، مسجد وزیر خان، داتا دربار، تمام ریلوے سٹیشنز، مزار بری امام، مزار گولڑہ شریف، فیصل مسجد، ایوب پارک، مزار شاہ شمس، مزار شاہ رکن عالم، مزار بہاو دین زکریا، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیاں، نور محل، صادق گڑھ پیلس، مکلی، شاہجہاں مسجد، جہانگیر کا مقبرہ، شالیمار باغ، راول ڈیم، منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم، تمام موٹرویز کہاں کہاں کا ذکر کریں سب جگہ فوٹوگرافی پر پابندی ہے۔ اس سلسلے میں جہاں مشاورت کی ضرورت ہو سب فوٹوگرافرز حاضر ہیں، انشاءاللہ سب پاکستانی فوٹوگرافرز کام کرنے کے لئے ہر گھڑی تیار گامزن ہیں۔ محترم وزیراعظم اس طرف توجہ دیجئے اور مثبت رزلٹ دیکھئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words