عوام کو زرمبادلہ، تجارتی خسارے اور ترسیلات زر کی سمجھ نہیں، مہنگائی سمجھ آتی ہے


پی ٹی آئی حکومت کے تین سال مکمل ہو گئے۔ اس پورے سال میں سب سے زیادہ جو لفظ سنائی دیا وہ تھا ”میں“ ۔ میں جب وہاں تھا، میں مغرب کو سب سے زیادہ جانتا ہوں، میں جب کرکٹ کھیلتا تھا، میں نے جب یہ فیصلہ کیا، میں ان لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا ”۔ خیر۔ تین سال کی ایماندار حکومت کی کامیابی گنوانے کے لیے ایک پرہجوم تقریب رکھی گئی جس میں کورونا ایس او پیز کو شرکت کے لئے نہیں بلایا گیا تھا۔

اس شاندار تین سالہ خوشحال ترین دور کی تقریب میں بہت سے مشہور سنگرز نے گانے گائے، گورنر عمران اسماعیل نے ”تبدیل آئی“ پر لپسنگ بھی کی اور ان سب کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ تقریر کی، اس تقریر کو سن کر ایسا محسوس کیا جاسکتا تھا کہ اس تین سالہ دور میں پاکستان نے 30 سال کی ترقی کی۔ تقریر کیا تھی مشکل باتیں تھی جو مسکرا مسکرا کر سنائی گئی۔

وزیر اعظم نے اس تقریر میں اپنی حکومت کی کامیابی کو کچھ اس طرح بتایا ”زر مبادلہ ذخائر میں تین سال پہلے 16.4 ارب ڈالر تھے جو اب بڑھ کر 27 ارب ڈالر ہو چکے ہیں، پہلے 3 ہزار 800 ارب ٹیکس اکٹھا کیا جاتا تھا اور آج 4 ہزار 700 ارب ٹیکس جمع ہو رہا ہے، پہلے ترسیلات زر ان 19 اعشاریہ 9 ارب ڈالر تھیں جو آج 29 اعشاریہ 4 ارب ڈالر پر پہنچ گئی ہیں۔ خوشحالی کی تعریف عمران خان نے کچھ اس طرح بیان فرمائی کہ“ ریکارڈ تعداد میں ٹریکٹرز ’موٹر سائیکلز اور گاڑیاں بیچی گئیں اس کا مطلب ہے لوگ خوشحال ہو رہے ہیں۔ ”

بہت سی باتوں کی طرح ”یہ والی خوشحالی“ کی تعریف سمجھ نہیں آئی۔ یعنی یہ مشینیں زیادہ تعداد میں بک گئی اس کا مطلب ہے خوشحالی۔ ارے ان مشینوں کو خرید نے کے لئے لوگ کمیٹی ڈالتے ہیں، کئی سال تک پیسے جمع کرتے ہیں، کیونکہ ان کی ضرورت ہوتی ہے، ان کو اپنے کاروبار یا روزگار کے لئے ضرورت ہوتی ہے۔

ان خریدنے والوں سے خریدنے کی وجہ پوچھی جائے تو شاید 10 سے 20 فیصد افراد ہی ایسے ہوں گے جو یہ بولیں گے کہ ہمارے پاس ایکسٹرا دولت تھی اس لئے خریدی، یعنی خواہش پر۔ ورنہ 80 فیصد عوام کو ضرورت ہوگی تبھی انھوں نے یہ مشینیں خریدی۔

عمران خان صاحب نے اپنی تقریر میں مشکل اصطلاحات کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے اپنی کامیابیاں گنوائی اور جتائی۔ لیکن عمران خان صاحب شاید اب تک یہ بات نہیں جان پائے کہ عوام کو ان مشکل اصطلاحات اور گنتی کے بڑھنے، کم ہونے سے کچھ لینا دینا نہیں۔

افراط زر بڑھے یا کم ہو آٹے کی قیمت کم ہونی چاہیے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے یا کم ہو ادویات کی قیمتیں کم ہونی چاہیے۔ ترسیلات زر میں کمی ہو یا زیادتی پیٹرول کی قیمت کم ہونی چاہیے۔ خسارہ بڑھ جائے یا کم ہو جائے بجلی کے یونٹ کی قیمت بڑھنی نہیں چاہیے۔

پاکستان کی تقریباً 70 فیصد عوام کو ان تقریروں میں استعمال مشکل الفاظ سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اس تقریر سے خوش ہونے والے عمران خان کے شیدائی ہوں یا پھر عمران خان کے مخالف، ان دونوں کا مسئلہ مہنگائی ہے۔ چند فیصد عوام کو چھوڑ کر سب کا مسئلہ مہنگائی ہے، بے روزگاری ہے۔

اگر انسان کی بنیادی ضروریات پوری ہو رہی ہیں تو وہ دوسری چیزوں کی جانب سوچے گا۔ روٹی، کپڑا اور مکان یہ تین چیزیں بنیادی ہیں اور جن کے پاس یہ چیزیں بغیر کسی مشکل کے موجود ہیں وہ ہی آگے کی جانب سوچے گا۔ وہ ہی جمہوریت اور آمریت کے بارے میں بات کرے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عوام کو شکل سے یا پارٹی سے لینا دینا نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنے معاملات زندگی میں محو ہوتے ہیں اور اگر ان کی معاملات زندگی میں کوئی بھی بہتری لاتا ہے تو وہ ہی شخص ان کے نزدیک لیڈر کہلاتا ہے۔

Facebook Comments HS