سندری، مندری اور سمندری

بڑے شہروں میں رہنے والے لوگوں کو عموماً یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ خوبصورتی کی پہچان انہی کو ہے اور چھوٹے شہروں میں رہنے والے لوگ حسن اور محبت کے معاملات کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی کو سندرتا اچھی لگتی ہے اور اس کی کوئی نہ کوئی سندری بھی ہوتی ہے۔ اگر بندے کی رہائش سمندری میں ہوتو اپنی سندری کو مندری پہنانے کے لئے اس کی بے چینی الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ بلو جٹ سمندری کا رہائشی اور میرا بہترین دوست ہے۔

عمر اس کی مجھ سے آدھی ہے مگر غم مجھ سے دگنا ہے۔ سندری کو سمندری لانے کی چاہ میں اس کا سکھ چین بھی گیا ہے اور گلے کی چین بھی بک چکی ہے۔ اس کا دل غم کے سمندر میں ڈوب چکا ہے اور وہ خود حالات کے سیل رواں میں غوطے کھا رہا ہے۔ ہر کوئی اس کا مذاق اڑا رہا ہے۔ وہ سندری کے چکر میں جھلا ہوتا جا رہا ہے مگر اپنی محبت پر اترا رہا ہے۔ بلو جٹ یہ کہتا ہے کہ کون ہے جس کا بحر عشق میں بیڑا غرق نہیں اور محبت کے بغیر بندے اور چقندر میں کوئی فرق نہیں۔

ہمارے ہاں مردوں کو ہمیشہ سے ہی عجیب سی خواہشات لاحق رہی ہیں۔ تو کوئی کسی کے ہاتھ کا کنگن بننا چاہتا ہے تو کوئی کسی کے بن گوش کا بندا جبکہ سندری کو کوئی کنگن ہو یا بندا سب بعض اوقات لگتے ہیں پھندا اور وہ کسی کے آنگن میں اترنے کے لئے تیار نہیں ہوتی اور اپنی نظر میں خوار نہیں ہوتی۔ کئی لوگ عمر بھر سندری کے دم چھلے بنے رہتے ہیں مگر سندری ان کے نام کا چھلا پہننے کو تیار نہیں ہوتی۔ ان کے ہاتھ مندری پکڑے پکڑے اکڑ جاتے ہیں مگر سندری کی اکڑ کم نہیں ہوتی۔ مرد اپنی سندری کو مندری پہنانے کے لئے فرہاد بن کر نہر کھود سکتا ہے مگر اس فرہاد کی ہر فریاد بیکار جاتی ہے وہ بھلے کوہ کنی کرتے ہوئے عمر گزار دے، حالات کا تیشہ اس کے اپنے سینے میں گڑھا رہتا ہے۔ وہ اپنی حسرتیں لیے پڑا رہتا ہے اور وقت صدا اس کے لئے کڑا رہتا ہے۔

میانوالی کے ہر دل عزیز گلوکار کو اپنی سندری سے یہ شکایت تھی کہ وہ دنیا کے دوردراز علاقوں میں چلی جاتی ہے مگر عیسی خیل نہیں آتی جبکہ عیسی خیل اتنی دور بھی نہیں ہے۔ جھنگ کا ایک شاعر بھی ساری زندگی اپنے ڈھولے کی منتیں کرتا رہا ”آ ڈھولا جھنگ چلیے“ مگر اس کی بین بھینس کے آگے ہی بجتی رہی اور ڈھولے کو ہر رولا گوارا رہا مگر ہمارا جھنگ کا شاعر کنوارہ رہا۔ ڈھولا شاعر کو بڑبولا قرار دے کر پاسے ہو گیا اور شاعر آج تک اپنے ”پاسے“ سینک رہا ہے۔

مرد کو ہمیشہ سے ایسی محبوبہ اچھی لگتی ہے جو سات سمندر پار بھی اس کے پیچھے پیچھے آ جائے مگر ہمارے بلو جٹ کی محبوبہ تو سمندری تک نہیں آ رہی۔ بعض لوگ ساری زندگی اپنی سندری کے لئے روتے رہتے ہیں تو بعض دمڑی کے لئے۔ بعض لوگ یہ چاہتے ہیں کہ سندری آ جائے چاہے دمڑی بھی چلی جائے اور جان بھی۔ جبکہ بعض لوگ اس بات کے قائل ہوتے ہیں سندری آئے نہ آئے، دمڑی نہ جائے۔ چند حضرات تو اس انتہا تک پہنچ جاتے ہیں جان جائے تو جائے، دمڑی نہ جائے۔ آج کل ایسے جوانوں کی بھی کمی نہیں جو ساری زندگی یہی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ

”سندری آئے، دمڑی لائے“

مرد اپنی سندری کے لئے سد سکندری بھی عبور کر لیتا ہے اپنی جان مشقت سے چور کر لیتا ہے محبت بھرپور کر لیتا ہے مگر سندری نہیں ملتی۔ کبھی کبھی سندری کی آنکھوں میں بھی آنسوؤں کا سمندر بسا رہتا ہے اس کے گرد جبر کا شکنجہ کسا رہتا ہے اور اس کا جٹ زمانے کی رسومات میں پھنسا رہتا ہے۔ یوں سندری مندری پہننے کی حسرت میں دنیا کا سمندر پار کر جاتی ہے مگر سمندری میں اپنا گھر اس کے لئے خواب ہی رہتا ہے۔

سندری کی چنری کے رنگوں کی اپنی بہار ہے۔ جٹ ہمارا مگر مسائل زندگی کے ہاتھوں خوار ہیں۔ اپنے دوستوں کے لیے بے کار ہے۔ کیونکہ اس محبت میں وہ کسی کار کا بھی نہیں رہا اور اس کی کار بھی بک گئی ہے۔ جٹ کے لیے محبت کی جدا تاثیر ہے۔ یہ محبت اس کے لئے اکسیر ہے اس کی زندگی کی تفسیر ہے، جٹ مگر اپنی روایات کا اسیر ہے، والدین کی رضا ایک ایسی لکیر ہے جٹ جس کا فقیر ہے مگر معاملہ بڑا گمبھیر ہے اثر سے خالی ہر تقریر ہے۔ دوست ہمارا بڑا ہی دل گیر ہے۔

اگرچہ سندری کے عشق کی برکت سے جٹ قلندر ہو گیا ہے اور شاعری بھی کرنے لگا ہے۔ علامہ اقبال جیسے عظیم شاعر نے کہا تھا کہ ان کے اشعار کی تاثیر کی وجہ یہ ہے کہ جہاں کو ان کی قلندری خوش آ گئی ہے اور خالق کائنات ان سے راضی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک کی ذات ہمارے سمندری کے جٹ کی محبت کو بھی بھاگ لگا دے اور جٹ کی بھاگ دوڑ ختم ہو۔ سندری جٹ کی مندری اور محبت کی چنری پہنے سمندری آئے اور جٹ خوشی سے پھولے نہ سمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words