تبدیلی: انفرادی اور اجتماعی تناظر میں
گزشتہ کچھ عرصے سے ایک ہی صدا بازگشت کی طرح وطن عزیز کے طول و عرض سے سننے کو ملتی ہے، کہ تبدیلی، تبدیلی اور بس تبدیلی۔ تاہم اس کے تناظر میں تبدیلی کے وہ تمام عناصر جو اس کے لوازمات میں شامل ہیں، ان کا ادراک معدودے چند اشخاص کے شاید ہی کوئی اور کر پایا ہو۔ یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ ہمارا معاشرہ اب جس نہج پہ چل رہا ہے، اور جس ڈگر کو اپنا چکا ہے، اس کو دیکھ کر کوئی بھی ذی ہوش اور صاحب عقل اس کو انسانی معاشرے سے تعبیر نہیں کر سکتا، اور اس بات کا ہمہ وقت متقاضی ہے کہ، اب اس کی موجودہ بساط کو الٹ دیا جاوے، اور اس عمارت کہنہ کی بجائے ایک نئی اور پختہ عمارت بنائی جاوے، جو ان تمام عیوب و نقائص سے مبرا ہو، جو اس معاشرے کو دیمک کی مانند چاٹ کر اس کو بظاہر تنومند مگر باطن کھوکھلا کر چکے ہیں۔ تاہم اس تبدیلی کے عمل کی اٹھان کہاں سے کی جائے اور اس عمل کو پایہ تکمیل تک کیسے پہنچایا جائے، اس سوال کی کھوج اور جان کاری اس کام کو شروع کرنے سے پہلے بہت ہی ضروری ہے۔
یہ بات بدیہی ہے کہ معاشرہ اشجار و حیوانات کے وجود سے نہیں، بلکہ انسانوں کے وجود سے استوار ہوتا ہے، جو اس معاشرے کا آئینہ اور اس کی ہیئت مجموعی کا خلاصہ ہوتے ہیں۔ اور ہر معاشرے میں بدی اور نیکی کی قوتوں کے درمیان جنگ کی سی کیفیت، ہر دور میں رہی ہے، جس میں کہیں نیکی کا تو کہیں بدی کا غلبہ ہوت رہتا ہے۔ لیکن وہ قوتیں، جو معاشرے میں نیکی کے چلن کو رواج دینے کی خواہاں، اور معاشرے کے حسن ظاہری و باطنی کو سنوارنے کی سعی مسلسل میں مشغول ہوتے ہیں، ان کی محنت کا نہج اور مقصد کے تعین کا ذہن میں واضح ہونا نہایت ضروری امر ہے، کہ یہ وہ راستہ ہے جو ان کو اپنے کام کی جانب رہنمائی فراہم کر کے، انہیں ان کی جہد صمیم کا ثمر عطا کرتا ہے۔
معاشرے میں مثبت تبدیلی کا خواب دیکھنا، ہر دور کے انسان کا خاصہ رہا ہے، تاہم اس کے حصول کی خاطر طریقہ کار میں اختلاف وہ بنیادی مسئلہ ہے، جس کی طرف پہلو تہی برتی جاتی ہے اور یوں ہم بامقصد محنت کی بجائے، اپنی توانائی کار بیاکار پہ صرف کر کے مثل گردوغبار بیٹھ جاتے ہیں اور یوں ادھورے سپنے لیے اس جہان فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔ کیونکہ اس کی سب سے بنیادی وجہ منہج کا چناؤ ہے، جس کے تحت معاشرے کی اکثریت انفرادی سطح پہ تبدیلی کو ہی بنیاد بنا کر، اس کو عزم مصمم کے ساتھ اپنی زندگی کا مقصد بناتے ہیں اور انفرادی سطح پہ اشخاص کی سوچ، کردار اور اخلاق کو تبدیل کردینے کو اپنے زعم میں کامیابی قرار دیتے ہیں۔
لیکن برس ہا برس گزر جانے کے باوجود بھی، وہ اس ٹھوس حقیقت کو محسوس نہیں کر پاتے، کہ انفرادی سطح پہ تبدیلی لائے جانے کے باوجود معاشرے کے مسائل جوں کے توں موجود ہیں، اور انسانوں کی ایک بڑی اکثریت پھر بھی ظلم کی چکی میں پس کر، کسی اور کے حصے کے گناہوں کا کفارہ ادا کر رہی ہے۔ ایک ایسا گروہ جو اس بات کو سمجھنے کو تیار ہی نہیں، کہ چالیس، پچاس برس کی جہد مسلسل اور مشقت کے نتائج جو چند لاکھ انسانوں کی صورت میں نمودار ہوئے ہیں کیا یہ کافی ہے؟
کیا ان نفوس قدسیہ کے وجود سے معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی آئی ہے، یا اس کی راہ ہموار ہوئی ہے؟ اگر اس کا جواب مثبت میں ہوتا، تو شاید ہمارا پاکستانی معاشرہ آج ایک مثالی معاشرہ ہوتا، اور باقی سماج اس کی نقالی کو اپنا فخر جانتے، مگر عملی صورت حال کیا ہے وہ آج ہمارے سامنے ہے۔ لیکن اصل افسوس اس بات کا ہے، کہ اس واضح ناکامی کو نوشتہ دیوار سمجھنے کی بجائے، اپنے اذہان و قلوب کو یہ اشخاص محض یہ کہہ کر جھٹک دیتے ہیں، کہ جو ہو گیا، وہ ان کی نجات اخروی کے واسطے کافی و شافی ہے، اور اب جنت کا حصول، اور حور و غلمان سے قربت میں بس اگر کوئی چیز رکاوٹ ہے تو وہ یہ حیات مستعار ہے۔
چنانچہ ان کے تئیں ادھر آنکھیں موند ہوئیں، اور ادھر جنت میں مخمل کے بستر پر لا تعداد حوروں کے پہلوؤں میں محو استراحت ہوجائیں گے مگر، اپنے پیچھے جو ایک انسانوں کی کثیر فوج معاشرے کے عضو معطل کے طور پر پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں، اس کا کیا ہوگا اور سب سے بڑی بات معاشرے کی ذہنی اور اخلاقی حالت کیا ہوگی، یہ سوالات ان کے دائرہ کار سے یکسر خارج اور مردود ہیں۔
ہم یہ بات سمجھنے کو نہ جانے کیوں تیار نہیں، کہ محض وضع قطع کی تبدیلی، چند مخصوص اعمال کو بجا لانے، اور محض زبانی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے ہم معاشرے میں کسی حد تک تبدیلی لانے میں کامیاب تو ہو جاویں گے، لیکن کیا یہ تبدیلی پائیدار ہے؟ کیا اس کے اثرات سے پورا معاشرہ منتفع ہو رہا ہے؟ کیا معاشرے کے اندر موجود ایک عام انسان کی زندگی میں کوئی ترقی ہوئی ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب اثبات کی بجائے نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو ہم اس حقیقت سے بار بار کیوں منہ چراتے ہیں اور اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے کی بجائے، اس کی ذمہ داری ان اشخاص پر کیوں ڈال دیتے ہیں، جو پہلے ہی اس ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، اور ان ہی مظلوم لوگوں کو تمام آفات کی وجہ اور ان کے اعمال کو کار سیاہ قرار دے کر ان اصل مگر پوشیدہ قوتوں کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہین، جو اس ظلم کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔
اگر ہم اس بات کا قلب سلیم اور عقل کامل کے ساتھ جائزہ لیں کہ، کیا معاشرے میں موجود سماجی ناہمواری، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، روزگار کے غیر مساوی مواقع، تعلیم پہ چند اشخاص یا اداروں کی اجارہ داری اور اشیائے خورد و نوش کی طلب و رسد میں عدم توازن کے ہوتے ہوئے، بھلا ہم معاشرے میں پائیدار اور حقیقی ترقی کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی شہر، ایک ہی محلے میں زندگی کے دو رخ ایسے موجود ہوں جو آپس میں کوئی مماثلت نہ رکھتے ہوں، بلکہ انتہائی قرب کے باوجود بھی مشرق و مغرب جتنا بعد موجود ہو، تو کیا محض امر با المعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے سے یہ تمام تفاوت بیک جنبش قلم مٹ جاوے گا؟
اس کا جواب یقیناً اثبات میں نہیں ہے، کیونکہ ہم جس راستے پہ چل کر تبدیلی کی سعی جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں، اس کے نتیجے میں ظالم کے ہاتھ تو مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے جا رہے ہیں، مگر مظلوم کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی کے آثار رونما ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ اس کی زندگی آج بھی اس کولہو کے بیل کی مانند ہے، جو صبح سے شام تک ظلم کی چکی میں پس کر، محض اتنا معاوضہ ہی حاصل کر پاتا ہے، جس کے عوض اسے نامناسب خوراک ہی مل پاتی ہے اور بس۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انسانی رویوں پر اجتماعی معاشرتی ڈھانچہ بہت حد تک اثر انداز ہوتا ہے، اور ایسے عالم میں کہ جہاں معاشرہ اپنے افراد کو رہنے کے واسطے گھر، پہننے کے واسطے پوشاک، کھانے کے واسطے خوراک، ظلم کے مقابلے میں انصاف، جہالت کے مقابلے میں تعلیم، غربت کے مقابلے میں روزگار کی فراہمی، اور اس کی عزت و آبرو کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے وہاں کوئی بھی مثبت تبدیلی اجتماعی سطح پر منظر عام پر نہیں آ سکتی۔ اور اجتماعی تبدیلی ہی دراصل وہ تبدیلی ہے، جو انسانوں کے اندر اپنے معاشرے سے انس، لگاؤ اور کشش پیدا کرتی ہے، جس کے باوصف افراد اپنے معاشرہ کی بقاء کی خاطر فکر اور جدوجہد کرتے ہیں۔
لہذا معاشرے کو تمام ضروریات سے فراغت دلانا اور ان کو اعلی و ارفع مقاصد کے واسطے تیار کرنے کے واسطے یہ لازم ہے کہ، معاشرتی نظام ظلم کی بجائے انصاف اور عدل پر مبنی ہو۔ تاہم اگر معاشرتی نظام کی صورت حال اس کے برعکس ہو، تو وہاں انفرادی تبدیلی سے کسی حد تک تبدیلی لائی جا سکتی ہے، مگر اجتماعی تبدیلی جو حقیقی اور پائدار ہو اس کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔

