طالبان نے کابل ایئر پورٹ جانے والے متعدد راستے بند کر دیے

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئر پورٹ پر ہونے والے خود کش حملے کے بعد طالبان نے ہفتے کو ایئر پورٹ کے اطراف لوگوں کے اجتماع کو روکنے کے لیے اضافی مسلح اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق ایئر پورٹ جانے والے راستوں پر طالبان نے تلاشی لینے کے لیے نئے چوکیاں بھی قائم کر دی ہیں۔

ایئر پورٹ کے اطراف علاقے، جہاں گزشتہ دو ہفتوں سے لوگ افغانستان سے باہر جانے کے لیے جمع ہو رہے تھے، اب زیادہ تر خالی ہیں۔

رواں ہفتے جمعرات کو ہونے والے خود کش دھماکے میں ڈیڑھ سو سئ زائد افغان شہری اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

خود کش حملے کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی تھی جس کو زیادہ شدت پسند گروہ سمجھا جاتا ہے۔ خدشہ ہے کہ وہ مزید حملے بھی کر سکتے ہیں۔

متعدد مغربی ممالک نے افغانستان سے انخلا کا آپریشن امریکہ کی طرف سے دی جانے والی 31 اگست کی ڈیڈ لائن سے قبل ہی مکمل کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

ایک افغان شہری کا، جو کہ امریکہ کی فوج کے ساتھ بطور مترجم منسلک تھا، کہنا تھا کہ اس نے جمعے کو رات گئے ایئر پورٹ پہنچنے کی کوشش بھی کی تاہم تین چوکیوں کو عبور کرنے کے بعد اسے چوتھے چیک پوائنٹ پر روک لیا گیا۔

افغان شہری کے مطابق اس کے پاس افغانستان چھوڑنے کی اجازت نامہ بھی تھا۔

شہری کا مزید کہنا تھا کہ جب طالبان سے بحث ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں امریکیوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ صرف امریکی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو آگے جانے کی اجازت دی جائے۔

افغان شہری کا سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کابل سے واپسی پر ’اے پی‘ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ وہ اپنے مستقبل سے متعلق انتہائی نا امید ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر انخلا مکمل ہو گیا ہے تو اس کے بعد ان کے ساتھ کیا ہو گا؟

ہفتے کو طالبان نے ایئر پورٹ جانے والے راستوں پر اکٹھے ہونے والے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی۔

انخلا کے امور انجام دینے والے حکام کے مطابق ایک لاکھ سے زائد لوگ کابل ایئر پورٹ سے نکالے جا چکے ہیں جب کہ ابھی بھی ہزاروں افراد نکلنے کی کوششوں میں ہیں جو کہ ممکنہ طور پر اگلے ہفتے منگل کی طے کردہ ڈیڈ لائن تک نہیں نکل سکیں گے۔

دوسری طرف کابل میں سیکڑوں مظاہرین نے بینک کے باہر مظاہرہ کیا جن میں سرکاری اہل کار بھی شامل تھے جب کہ کیش مشینوں کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہیں گزشتہ چھ ماہ کی تنخواہیں نہیں دی گئیں اور وہ رقم نکلوانے سے قاصر ہیں۔

خیال رہے کہ رقم نکالنے والی اے ٹی ایم مشینیں چل تو رہی ہیں تاہم 24 گھنٹوں میں 200 ڈالر سے زیادہ رقم نہیں نکالی جا سکتی۔

اس خبر کے لیے مواد خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words